فرض کریں کہ آپ فلسطین ہیں/محمد ہاشم خان

فرض کیجئے، جی ہاں ایک صورت حال فرض کر لیجئے کہ فی الحال اس کے علاوہ آپ کچھ اور نہیں کر سکتے، سو فرض کیجئے کہ زمستان کی کوئی یخ بستہ صبح ہے، خورشیدِ جہاں تاب کی کرن جسم کے اندر اتارنا چاہتے ہیں، آپ کھڑکی پر آتے ہیں، پردے سرکاتے ہیں اور انگڑائی لیتے ہوئے رات کی وحشت اتار کر دن کے شور و شر میں واپس شامل ہونے کے بارے میں سوچتے ہیں کہ عین اسی وقت ایک گولی آکر لگتی ہے اور ساری کہانی ختم ہوجاتی ہے۔نہیں ایسا نہیں ہوسکتا، یہ مت فرض کیجئے۔ جہاں اختلال و بحران کی عمر تین نسلوں کو جھلساتی ہوئی 75 سال کی ہوگئی ہو وہاں نہ تو کوئی صبح خوبصورت ہوتی ہے، نہ ہی کوئی نیم مست دوپہر انگڑائی لیتی ہے، اور نہ ہی جہانِ کہن کے تازہ خورشید میں کوئی رمق ہوتی ہے، وہاں کھڑکیوں کے پردوں میں موت سرسراتی ہے، فضا پر خوف کی دبیز چادر لہراتی ہے اور زمین اپنی ساری یخ بستگی کے ساتھ ڈولتی اور بیٹھتی جاتی ہے ۔سو اب کچھ اور فرض کیجئے۔ فرض کیجئے کہ آپ کے علاقے کا محاصرہ کر لیا گیا ہے، مسلسل اسرافیلی آوازیں آ رہی ہیں، اپنے اپنے گھروں میں رہیں کا صور پھونکا جا رہا ہے،بے یقینی اس قدر کہ پرچھائیاں بھیانک عفریت نظر آرہی ہیں اور اسی حبس کےعالم میں رات کی وحشتوں میں جیتے مرتے صبح کرتے ہیں، ڈرتے ڈرتے کھڑکیوں کے پردے سرکاتے ہیں اور پردے کے اندر سرک رہی موت تڑتڑاتی گولیوں کی شکل میں آپ کے جینے کی ساری خواہشیں تمام کردیتی ہے۔ گولیاں کس نے چلائی ہیں آپ کومعلوم ہے اور کیوں چلائی ہیں یہ بھی معلوم ہے لیکن آپ کچھ نہیں کرسکتے کیوں کہ آپ تو مرگئے ہیں اور آپ کے لواحقین آپ کی لاش اٹھائے ذلیل و خوار پھر رہے ہیں، کوئی انصاف نہیں، کوئی مکافات نہیں، کوئی کفارہ، کوئی دیئت اور کوئی خوں بہا نہیں۔ مہذب انسانوں کا پیغام آتا ہے، دہشت گرد تھا، خس کم جہاں پاک ہوا۔
ایک لمحے کے لئےفرض کرلیجئے،کیوں کہ آپ اگر صرف فرض ہی کرکے اس اذیت کو کچھ جی لیں گے جو فلسطین کی صبح و شام کا مقدر ہے تو آپ کے لیے یہ طے کرنا آسان ہوجائے گا کہ مزہ مرنے میں ہے یا خون جگر پینے میں ۔
اور فرض کریں کہ ایسا نہ ہو، فرض کریں کہ آپ کھڑکی کے پردے ہٹاتے ہیں اور کوئی گولی نہیں آتی بلکہ اس کی جگہ پر آپ کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ ہر سُو حشر کا ہیجان بپا ہے، کشت و خون ہے،کہیں سر ہے تو دھڑ نہیں، ہاتھ ہے تو پیر نہیں، جسم سلامت ہے تو روح نہیں، ساحرانِ فرعون کو دی گئی دھمکی یاد آرہی ہے (لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَٰفٍۢ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ۔ الأعراف – 124)، بریدہ اجسام سے بدبو پھوٹ رہی ہے، ایک باپ سینے سے اپنی بیٹی کی تصویر لگائے ہے، لاشیں الٹ پلٹ کر دیکھ رہا ہے، بیوی نیم برہنہ حالت میں مردہ پڑی ہے، اب بس اس کی اول و آخر حسرت یہ ہے کہ اس کی بیٹی مل جائے، آپ خود کو اس صورت حال میں رکھیں اور سوچیں کہ اس کرب کی انتہا کیا ہوگی جہاں بیٹی کے مرنے کا غم اور لاش پانے کی خوشی دونوں ایک بے نام کیفیت میں مرتسم ہو جائیں۔ جب آپ یہ سب تصورات کی سطح پر ہی سہی جینے کی پوزیشن میں آ جائیں گے تب ہی آپ یہ جان پائیں گے کہ جان کا عذاب کیا ہے، موت کا زیاں کیا ہے اور حیات و ممات کے طویل لمحے کی دیئت کیا ہے۔
فرض کریں کہ ایک ماں ہے جو اپنے جگر گوشے کا فریم اٹھائے پگلائی بورائی سی پھر رہی ہے، ہر بچے میں اسے اپنا بچہ نظر آ رہا ہے اور کوئی دیوار سے چمٹی اندھی بوڑھی عورت ہے جو دو ہزار سال کی محرومیوں سے پیدا ہونے والی اذیت پسند نفسیات کی زندہ تصویر بن گئی ہے۔ یہ غزہ کا چیک پوسٹ ہے، اسرائیلی فوجی کسی نوجوان کو مار رہے ہیں، بندوق کا بٹ خون آلود ہوگیا ہے اور یہ تماشا اس وقت تک چلتا ہے جب تک کہ آس پاس کی بھیڑ کوئی عبرت و نصیحت حاصل نہیں کرلیتی اور اسی بیچ اس کی ماں، باپ، بھائی یا بہن دوڑ کر آتی ہے اور انہیں بندوق کی نالی پر رکھ لیا جاتا ہے۔ فرض کریں کہ آپ ایک انتہائی شاندارعلاقے میں ایک پرسکون زندگی گزار رہے ہیں، کسی چیز کی کوئی کمی نہیں اوراچانک کچھ بوٹوں کی چاپ سنائی دیتی ہے اور اس کے بعد آپ کی آنکھ کسی کال کوٹھری میں کھلتی ہے اور پھر آپ کہاں رزق خاک ہوتے ہیں، کہاں دریا برد ہوتے ہیں یہ نہ تو آپ کو معلوم اور نہ ہی آپ کے ورثاء کو۔اور پھر یہ بھی فرض کریں کہ آپ کے گھر کے پیچھے سنترے کا ایک بڑا باغ ہے جہاں آپ کے بچے فٹ بال کھیلا کرتے تھے اور اب وہاں ان کی قبریں ہیں۔ چلئے اب اس کے علاوہ کچھ اور بھی فرض کرلیتے ہیں۔ فرض کریں کہ آپ اپنی بیٹی کی شادی کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے لیکن اب نہ تو آپ ہیں اور نہ ہی آپ کی بیٹی۔پیچھے عصمت دری کی ایک داستان ہے۔ جب آپ یہ سب جی لیں گے تب آپ کو معلوم ہوگا کہ گزشتہ 75 سال سے تتلی اپنے بوجھ سے ہلکان کیوں ہے۔
تخیل کی سطح پر جو آپ فرض کرسکتے ہیں وہ کرتے جائیں مجھے یقین ہے کہ آپ کے تخیل کی وسعت زمینی حقائق کے خونریز دائرے سے باہر نہیں جاسکتی۔ اوپرجو کچھ بھی ہم نے فرض کیا ہے وہ محض کوئی مفروضہ نہیں ہے بلکہ حقیقی واقعات ہیں جن کا خون ہمارے ضمیر کے پیرہن سے اب تک رس رس کر باہر آرہا ہے۔ یہ فلسطین ہے، مقبوضہ فلسطین، گزشتہ 75 سال سے زخم در زخم رو رہا ہے۔ لاشیں نکل نکل کر ہمارے پیر پکڑ رہی ہیں اور ہم انہیں بار بار تابوت میں بند کررہے ہیں۔
یہ حالات کیوں پیدا ہوئے، یہ خونریزیاں کیوں مقدر ہوئیں، ستر سال بعد اس پر سوچنا کار زیاں ہے لیکن یہ حالات ایسے کب تک رہیں گے اس پر سوچنا ہم ’مہذب متمدن شہری سماج‘ کا عین فرض ہے اور ہمیں سوچنا چاہئے۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ بات اب صرف بندوقوں اور فوجیوں کی ہی نہیں ہے بلکہ اس دور رس عظیم تر اسرائیلی بنیادی ڈھانچے کی ہے جو فلسطینی زندگیوں کے تمام پہلوؤں کو بری طرح سے متاثر کر رہی ہے۔ پورے ارض فلسطین میں چیک ناکوں کا پیچیدہ جال بچھا ہوا ہے جس کی وجہ سے غزہ پٹی والے خود مغربی کنارا میں آباد اپنے عزیز و اقارب سے نہیں مل سکتے، سفری پابندیاں، اجازت نامے، دیواریں اور باڑیں، عدالتیں اور قید خانے، معاشی امکانات کو اکسپلور کرنے پر بے شمار پابندیاں، گھروں کی مسماری، اراضی پر جبری قبضہ، اور اکثر و بیشتر مہلک طاقت کے ساتھ قدرتی وسائل کا استیصال، یہ وہ مسائل ہیں جنہوں نے فلسطینیوں کو لڑنے اور مرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
فلسطین کا مسئلہ اگر دلائل سے حل ہونا ہوتا تو اب تک حل ہو چکا ہوتا۔ یہ مسئلہ طاقت نے پیدا کیا ہے اور طاقت ہی اسے حل کرے گی۔ اور فی الحال آپ کے پاس طاقت نہیں ہے اور مستقبل قریب میں کوئی طاقت بنتی ہوئی نظر بھی نہیں آ رہی ہے۔ طاقت اتحاد میں مضمر ہے اور آپ کے اتحاد کا عالم یہ ہے کہ جب کوئی فلسطینی مرتا ہے تو آپ اسے اخوانی کہہ کر خوش ہوتے ہیں۔ آپ کا یہ رویہ کسی انقلاب کی نوید نہیں وماالوھن یا رسول اللہ کی تصدیق ہے۔ لہٰذا فلسطینیوں کے پاس اس مزاحمت کو اس جنگ عظیم تک جاری رکھنے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش گوئی کی ہے۔
امید ہے کہ تخیل کی سطح پر آپ کو جتنا جینا تھا اتنا جی لیا ہوگا، سو اب آپ آرام کریں اور ان بے چاروں کو مرنے دیں جو گزشتہ پچہتر سال سے مر رہے ہیں ۔خدارا ان کا مرنا اور مشکل نہ بنائیں۔

Facebook Comments

محمد ہاشم خان
لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں (مصنف افسانہ نگار و ناقد کے علاوہ روزنامہ ’ہم آپ‘ ممبئی کی ادارتی ٹیم کا سربراہ ہے) http://www.humaapdaily.com/

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply