دیوبندیت اور مغالطے

درجنوں پوسٹس میں اس امر کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات کی ذمہ داری ان دیوبندی مدارس پر ہے جو دہشت گردوں کی پنیری تیار کرتے ہیں.
اس حوالے سے میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگرچہ ایسے افراد اور ادارے خود کو دیوبندیت کی طرف منسوب کرتے ہیں اور دیوبندیت ان کی گھر کی لونڈی ہے، اس لیے ان سے یہ انتساب کوئی چھین نہیں سکتا۔ لیکن میرا گھرانا دیوبند کا تعلیم یافتہ تھا، حتی کہ ہمارے بچپن میں ہمارے گھروں میں اکابر دیوبند کا اس طرح تذکرہ ہوتا کہ ہم بچے اپنے آپ کو اسی خانوادے کا فرد سمجھتے تھے۔ پھر میرے درس نظامی کے تمام اساتذہ دیوبند کے فضلاء تھے. میرے حقیقی ماموں مولانا محمد رفیق کومولانا حسین احمد مدنی نے دیوبند سے فارغ ہوتے ہی اشرف العلوم ڈھاکہ میں بطور شیخ الحدیث متعین کر کے بھیجا تھا۔ انہوں نے پہلا سبق بخاری کا پڑھایا اور زندگی کے آخری سانس تک حدیث کی تدریس کی. اس لئیے میں اپنے ذاتی علم اور طویل مشاہدے کی بنا پر یہ کہتا ہوں کہ پاکستان کے ارباب مدارس اور دیوبند کی طرف منسوب علماء صرف نام کے دیوبندی ہیں۔ ممکن ہے اور بھی کچھ لوگ ہوں لیکن میرے علم کی حد تک مدارس میں فقط دو شیخ الحدیث ایسے ہیں جو اکابر علماء دیوبند کا نمونہ ہیں. باقی لوگ دیوبند کے نام پر بزنس کرتے ہیں. یہاں تو یزیدی اور مماتی دیوبندیوں کی نمائندگی کرتے ہیں، دیوبندیت کو جاننے کے لیے مولانا نانوتوی سے قاری طیب صاحب کا مطالعہ کیجئے۔ ارواح ثلاثہ پڑھنے سے خاصا افاقہ ہونے کی امید ہے.
کبھی دیوبندی لٹریچر تو کھنگالیں تاکہ معلوم ہو کہ وہ اجودھن کے فقیر(فرید شکر گنج)، معین الدین چشتی اور نظام الدین اولیاء کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اگر آپ کے پاس زیادہ وقت نہیں تو بھی دیوبند کا اہل اللہ اور ان کے مزارات کے بارے میں رویہ جاننے کے لیے قاری محمد طیب صاحب کا وہ وعظ پڑھ لیں جو انہوں نے نظام الدین اولیاء کے مزار پر حاضری کے دوران وہاں کے سجادہ نشین کی درخواست پر دیا تھا.
دیوبند ایک علمی، فکری اور مزاحمتی تحریک کا نام ہے جس کے پس منظر میں تاریخ کا گہرا شعور کارفرما تھا۔ دیوبند کے بانیان معاشی طور پر خوش حال اور سماجی اعتبار سے اشرافیہ میں شامل تھے۔ برٹش انتداب، سرکاری زبان کی تبدیلی، مسلمانوں کے خلاف انگریزوں کے رویوں اور مسلمانوں کی جائدادوں کی قرقیوں نے واضح کر دیا تھا کہ یہاں بھی اندلس کی داستان ستم دھرائی جا سکتی ہے.. اس کے مداوا کے لیے ان اہل دانش نے فیصلہ کیا کہ اقتدار آنی جانی شے ہے لیکن اگر یہاں بھی سپین کی طرح کلمہ، قرآن، دین اور اسلام کا کوئی نام لیوا نہ رہا تو ہم نبی امی (ص) کا سامنا کیسے کریں گے. یہ فیصلہ کیا گیا کہ اصل دین کو باقی رکھنے کے لیے درس گاہ قائم کی جائے اور اس کے توسط سے آزادی کی جد و جہد کو زندہ رکھا جائے۔ شروع کے لوگوں نے پتے اور درختوں کی جڑیں کھا کر دین پڑھا اور پڑھایا. مسلمانوں کی قربانیاں رنگ لائیں اور بتدریج حالات برصغیر کی آزادی کی طرف اور تقسیم ہند کے رخ پر آنے شروع ہو گئے.
یہ ایک نازک مرحلہ تھا. اگر دیوبند پورا تقسیم ملک کے خلاف ہوتا تو پاکستان میں غدار کے مترادف ہو جاتا اور اگر مکمل پاکستان کے حق میں ہوتا تو انڈیا میں اس کا وجود ناممکن ہو جاتا. قدرت کا انتظام تھا یا اہل علم کی دانش تھی کہ مولانا تھانوی اپنے تمام متعلقین کے ساتھ تحریک پاکستان کی حمایت میں تھے اور مولانا مدنی اپنے پورے حلقے کے ساتھ گانگریس کے ساتھ تھے. میرے خیال میں یہ بحث دماغی کمزوری کی علامت ہے کہ ان میں سے کون درست تھا. میری رائے میں ان کا اختلاف ہی راہ صواب تھا. تھانوی مکتب فکر علمی اور فکری اپج رکھتا تھا اس لیے مدارس کے قیام اور تعلیمی مشاغل کی طرف متوجہ رہا. مدنی مکتب فکر سیاست میں دلچسپی رکھنے کے باعث ملکی سیاست میں سرگرم ہو گیا.
چھوٹے چھوٹے اختلافات کے باوجود اس طبقے کو اہل علم ہونے کے باعث عوام کا اعتماد حاصل رہا. پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کے اقتدار نے ان میں امید کی یہ کرن روشن کی کہ جس اسلامی نظام کا ہم نے خواب دیکھا تھا وہ اس مرد حق کے ذریعے پورا ہو سکتا ہے. بھٹو کی روش بھی علماء کے تنفر کا باعث تھی اور جنرل صاحب کو بھی حمایت کی ضرورت تھی. یہ دونوں طبقے یعنی آرمی اور علماء دیوبند ایک دوسرے کے قریب ہوتے گئے اور؛

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائ تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا۔

ڈاکٹرطفیل ہاشمی
ڈاکٹرطفیل ہاشمی
استاد، ماہر علوم اسلامی، محبتوںکا امین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *