ایئر مارشل اصغر خاں…داؤد ظفر ندیم

یہ 77 کی تحریک نظام مصطفی تھی جب میں جناب اصغر خاں کے نام سے آشنا ہوا۔ پنجاب میں بھٹو صاحب کے مخالفین کے لئے سب سے معتبر نام ایر مارشل اصغر خاں ہی تھا۔ لوگ 65 کی جنگ میں پاک فضائیہ کی کارکردگی کو اصغر خاں کی کارکردگی خیال کرتے تھے۔ ایک زبردست منتظم اور محب وطن جو پاکستان کے حالات بدل سکتا ہے۔
اصغر خاں سماجی جمہوریت کا نام لیتے تھے اور ملک میں سماجی اصطلاحات کا ڈول ڈالنا چاہتے تھے۔ جب پاکستان قومی اتحاد بنا تو لوگ کہتے تھے کہ اصل لیڈر تو اصغر خاں ہے جو ملک کو درست سمت لے جائے گا، بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ 77 کا مارشل لا اصغر خاں کی ترغیب کی وجہ سے لگا، حالانکہ بھٹو صاحب کے علاوہ جس سیاست دان کی سیاست کو اس مارشل لا کی وجہ سے سیاسی نقصان اٹھانا پڑا وہ اصغر خاں ہی تھے، 1977 میں ملک میں جیتے والے گھوڑے اصغر خاں کی گرائونڈ میں اکھٹے ہو رہے تھے اور یوں لگ رہ تھا کہ اگر 79 کے ممکنہ الیکشن میں بھٹو صاحب کو سیاسی شکست کا فیصلہ ہو چکا ہے تو متبادل بھی منتخب ہو چکا یعنی اصغر خاں، مگر جلد ہی فیصلہ کن قوتوں نے احساس کرلیا کہ سیاسی شکست کے باوجود زندہ بھٹو ان کو چین نہیں لینے دے گا اور اگر ان کی مداخلت کے بغیر سیاسی گیم تبدیل نہیں کی جا سکتی تو کسی دوسرے کے لئے الزام لینے کی ضرورت کیا ہے
1985 میں الیکشن کے بائیکاٹ نے اصغر خاں کو سیاست سے ہی باہر نکال دیا۔ یہ ایک موقع تھا کہ اصغر خاں اپنے آپ کو سیاسی طور پر سامنے لے آتے مگر ان کو شاید نادیدہ قوتوں کی بے وفائی کا صدمہ تھا چنانچہ 1988 تک بھٹو مخالف کے طور پر نواز شریف اپنا مقام بنا چکے تھے فیصلہ ساز قوتیں ان پر اپنا ہاتھ رکھ چکی تھیں اور اصغر خاں سیاست میں اجنبی بن چکے تھے
اصغر خاں نے سپریم کورٹ میں کیس کرکے اپنے آپ کو متحرک رکھنے کی کوشش کی مگر یہ مقدمہ اتنی دیر فائلوں کے انبار میں دبا رہا جب تک اپنی افادیت نہیں کھو بیٹھا۔
مشرف کی آمد کے بعد حساس قوتوں نے فیصلہ کیا کہ نواز شریف والی غلطی کی تصحیح کی جائے تو نظر انتخاب عمر اصغر خاں پر پڑی، یونیورسٹی کے سابقہ استاد سماجی جمہوریت کے ماہر اور لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ، مشرف کو عمر اصغر خاں دل کو بھا گیا مگر تب تک بہت تاخیر ہوچکی تھی حساس مقامات کے بعض ذمہ دار عمر اصغر خاں کو ملکی سلامتی کے اپنے منصوبوں کے لئے خطر ناک سمجھتے تھے اس وجہ سے ایک دن عمر اصغر خاں کی پرسرار موت ملک کے کرتا دھرتا کے لئے تنبیہ ثابت ہوئی کی وہ ملکی سلامتی کے مقررہ حدود کا خیال رکھے
عمر اصغر خاں کی موت ملک میں ایک خوشگوار تبیدیلی کا راستہ روکنے کا سبب بنی اور جس نئی سیاسی قوت کو پروان چڑھایا گیا وہ زیادہ عرصہ اپنے آپ کو منوا نہیں سکی
سیاست میں عمران خاں کی مقبولیت کا موازنہ اصغر خاں سے کیا جاتا ہے مگر اصغر خاں ایک زبردست منتظم کے طور پر تسلیم کئے جاتے تھے اور سماجی جمہوریت پر ان کے خیالات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے۔ اصغر خاں اب جا چکے۔ ان کی سیاست اور ان کی دیانت کے کتنے بھی قصے سنائیں جائیں وہ سیاسی طور پر ناکام تھے
بھٹو صاحب کا سب سے بڑا مخالف بھٹو کی سالگرہ کے دن اللہ کو پیارے ہوئے آج کی نسل بھی بھٹو کے نام سے واقف ہے مگر اصغر خاں کے بارے بتلانے کے لئے بہت سے حوالے دینا پڑتے ہیں

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
غیر سنجیدہ تحریر کو سنجیدہ انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *