حقیقت/ندا اسحاق(1)

ایک بہت ہی بہترین قول نظر سے گزرا تھا کہ “حقیقت کے ساتھ جینا بہتر ہے، ورنہ یاد رکھیں کہ ایک دن بنا آپ کی اجازت کے حقیقت خود آپ کے ساتھ جینے آئے گی”۔

حقیقت پیچیدہ موضوع ہے، لیکن اسکی پیچیدگی کو کسی حد تک آسان بنا کر سمجھنا بہت ضروری ہے، خاص کر ایسے دور میں جہاں فریب نظر کا راج ہے۔
سائنس کہتی ہے کہ ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ “حقیقت کیا ہے”، اور ہم اس کو سمجھنے کے لیے صرف اپنے دماغ پر انحصار  نہیں کر  سکتے، کیونکہ آپ کا دماغ ایک خاص طریقے سے اور ایک محدود حد تک حواس کے ذریعے دنیا کو سمجھتا اور پرکھتا ہے، ان حواس سے پرے کے معاملات اسے نہیں معلوم، (کچھ حقائق کو جاننے کے لیے ہم نے سائنس کی مدد سے آلات بنائے) اسکا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی حِس کے ذریعے جو بھی تجربہ کرتے ہیں وہ حقیقت نہیں، لیکن عموماً جیسا آپ محسوس کرتے یا پھر سوچتے ہیں اور جب نتائج آپ کی سوچ کے برعکس ہوں تب آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ معاملات اتنے آسان اور بالکل ویسے نہیں جیسا سطح پر نظر آتے ہیں۔

انسانوں کو دو قسم کی حقیقت کا سامنا ہے، بقول نیوروسائنسدانوں کے۔ ایک تو فطرت کی اپنی حقیقت (physical reality) اور دوسری انسانوں کی “سماجی حقیقت” (social reality)، اور یہ حقیقت ہمارا دماغ بناتا ہے، مثال کے طور پر فطرت کے اعتبار سے پیسہ کی کوئی حقیقت نہیں، آپ ڈالر سے بھرا بیگ خلاء میں لے جائیں تو یقیناً اسکی وہاں کوئی قدر نہیں، لیکن دنیا میں ان کاغذ کے ٹکڑوں پر ہم اپنی جان نچھاور کرنے کو تیار ہیں، تو کیا ہم غلط ہیں؟؟ بالکل بھی نہیں! کیونکہ انسان کے لیے سماجی حقیقت اتنی ہی اصلی اور اہم ہے جتنا کہ فطرت کی حقیقت۔ دنیا میں ہم ان کاغذ کے ٹکڑوں یعنی کہ پیسوں کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے۔ ایسے ہی ممالک کے درمیان بننے والی سرحدیں جو فطرت کے اعتبار سے تو بیکار ہیں لیکن ہم انسانوں کی سماجی حقیقت کے مطابق وہ اصلی ہیں اور ان سرحدوں کے اُس پار بِنا  اجازت کے جانے پر آپ کو مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ فلاں چیز سماجی تعمیر (social construct) ہے اور اسکی کوئی اہمیت نہیں۔ یہ سچ نہیں ہے! سماجی تعمیر ہمارا دماغ تشکیل دیتا ہے اور ان سماجی تعمیر سے ملنے والی تکالیف آپ کے دماغ پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ فضول رسومات، منفی باتوں یا غربت کا اثر آپ کے دماغ پر پڑتا ہے چاہے آپ کتنا ہی اس بات سے انکار کرلیں۔

سماجی حقیقت ہماری سُپر پاور ہے، ہم کسی بھی نئے ٹرینڈ کو بناتے ہیں، سب لوگ اس پر متفق ہوتے ہیں اور پھر ہم اسے حقیقت ماننا شروع کردیتے ہیں، مثال کے طور پر قوانین جن کو فالو کرنے سے نظام بہتر چلتا ہے۔

سماجی حقیقت کی اپنی کچھ حدود اور منفی اثرات ہیں، مثال کے طور پر کچھ نظریات/تصورات کسی ایک طبقہ/قوم کے حق میں بہتر تو باقی کے طبقات/اقوام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ اگر سرمایہ دارانہ نظام کا فائدہ سرمایہ دار کو ہے تو اسکا نقصان دوسرے طبقات سے تعلق رکھنے والوں کو ہے۔

ڈاکٹر لیزا ایک سائنسدان ہیں اور عموماً سائنسدان دور رہتے ہیں سیاست سے، لیکن لیزا اپنی کتاب کے ایک باب میں کہتی ہیں کہ “میں ابھی سیاست کے گندے کیچڑ میں قدم رکھ کر کہوں گی کہ اگر سیاستدان عوام کی بھلائی چاہتے ہیں تو انسانی دماغ اور اس پر سماجی حقیقت (social reality) سے پڑنے والے منفی اثرات کو مدِ نظر رکھنا ہوگا”، آپ سیاست کو سائنس سے الگ نہیں رکھ سکتے، آپ کو انسانی دماغ اور ذہن کو مدِ نظر رکھ کر پالیسی تشکیل دینی ہوگی۔ اگر ہمارا ملک غریب اور کرپٹ ہے تو اس غربت، کرپشن اور لاقانونیت کا اثر ہمارے دماغ اور صحت پر ہوتا ہے۔

پاکستان میں اگر آپ کو مسائل کا سامنا ہے تو اس میں آپ قصوروار ہونگے شاید کسی حد تک لیکن آپ کے ملک کا نظام جو کہ سماجی حقیقت ہے، زیادہ قصوروار ہے، کیونکہ آپ اس کے تابع ہیں، آپ اپنے حکمرانوں کے بنائے قوانین کے تابع ہیں، اکثر آپ کی محنت اور ٹیلنٹ کے آڑے یہی سماجی حقیقت آتی ہے، جب آپ کا حق کسی ایسے انسان کو دیا جاتا ہے جو انسانوں کی بنائی “سماجی حقیقت” میں طاقتور اور بااثر ہے۔

یہ پیراگراف لکھتے ہوئے مجھے ایک مشہور سرمایہ دار وارن بفے کا قول یاد آگیا جب اس نے کہا تھا کہ وہ خود کو خوش قسمت مانتا ہے کہ وہ امریکہ کی سرزمین پر پیدا ہوا کیونکہ اس سرزمین پر مواقع زیادہ ہیں۔

آپ کو جو ٹرینڈ دکھایا جاتا ہے، آپ کا دماغ اسے حقیقت مان لیتا ہے، اس کھیل کو طاقتور لوگ سمجھتے ہیں نیوروسائنس اور سائیکالوجی کی مدد سے ، آپ ان کے ہاتھ کی کٹھ پتلی ہیں، انہیں جو بھی آپ سے کروانا ہوتا ہے وہ اسے اپنے طریقے سے پیش کرتے ہیں، آپ بنا سوال کیے اس بنائی ہوئی لکیر کو پیٹتے رہتے ہیں پھر جب حقیقت آشکار ہوتی ہے تب آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ سوچ کر آپ اس لکیر پر چلے تھے نتائج تو اس کے برعکس ہیں، لیکن تب تک ہوشیار اور طاقتور اپنے مقاصد کو حاصل کرچکے ہوتے ہیں۔ آپ کا دماغ چلتا ہی اسی طرح ہے اور اس میں آپ کا قصور نہیں، تب تک جب تک آپ کو شعور نہیں۔۔

اکثر جب ہماری بنائی سماجی حقیقت فطرت سے ٹکراتی ہے تو جیت فطرت کی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر موسمیاتی تبدیلی (climate change)، جہاں ہم نے اپنی سماجی حقیقت کو بہتر بنانے کے لیے خام تیل جلایا اور ترقی کی لیکن اس خام تیل کے منفی نتائج بھی آئے، جو ماحولیاتی نظام سے ٹکرا گئے اور اب ساری دنیا اس موسمیاتی تبدیلی کی لپیٹ میں ہے۔
ہم انسانوں کی زندگی پیچیدہ اور تکلیف دہ ہے، کیونکہ ہم دو حقائق کے بیچ جھونجھ رہے ہیں۔۔ لیکن یہ پیچیدگی یہاں ختم نہیں ہوتیں !

Advertisements
julia rana solicitors

ہر انسان کی اپنی الگ حقیقت بھی ہوتی ہے مطلب یہی کہ دنیا میں جتنے ارب انسان ہیں اتنے ارب مختلف حقائق موجود ہیں، کیونکہ ہر انسان اپنی زندگی میں مختلف تجربات سے گزرتا ہے۔ اگر کسی نے ٹروما ،دھوکا اور نفرت کا سامنا کیا ہو تو اس کے لیے دنیا کی حقیقت دھوکہ اور نفرت ہے، اگر کسی نے محبت اور کئی اچھے مواقعوں کا سامنا کیا ہو تو اس کے لیے دنیا ایک اچھی جگہ ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تجربات سے ملا علم سب سے زیادہ قابلِ بھروسہ علم ہوتا ہے، اس لیے اپنے تجربات کو بیشک اہمیت دیں لیکن صرف اپنے تجربات کو ہی اہمیت نہ دیں!
حقیقت کو دیکھ سکنے اور قبول کرنے کا نفسیات پر کیا اثر ہوتا ہے؟؟
(جاری ہے)

Facebook Comments

ندا اسحاق
سائیکو تھیراپسٹ ،مصنفہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply