لاہور بدل گیا ہے۔۔نجم ولی خان

SHOPPING

میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ سیاست چھوڑ دیں۔ انہوں نے آج سے قریبا تین برس پہلے ایک ٹی وی چینل کے افتتاح کے موقعے پر مجھے خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ تین برسوں میں تھانہ کلچر نہ بدل سکے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے اور آج واقعی پنجاب کی پولیس وہ نہیں ہے جو آج سے چند برس پہلے تھی اور اس تبدیلی اور جدت کا کریڈٹ شہباز شریف کو ہی جاتا ہے۔

ضرور پڑھیں:”ایسا لگ رہا تھا جیسے میری والدہ کو جہاز پر مار پیٹ کر لا یا گیا ہو اور ۔۔۔“والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کے بعد کلبھوشن یادیو کا پہلا ویڈیو بیان منظر عام پر آیا، جس میں ایسی بات کہہ دی کہ مودی سرکار کا بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے آگیا
میں گذشتہ روز قربان لائنز میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے زیر اہتمام لاہور کو دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں سے ایک بنانے کی افتتاحی تقریب میں مدعو تھا۔ میرے سامنے ایک بڑی بلکہ بہت ہی بڑی ویڈیو وال ہی نہیں تھی بلکہ ہال میں سینکڑوں کی تعداد میں کمپیوٹر اور ایل سی ڈیز موجود تھیں جہاں سے شہر بھر میں لگے ہوئے آٹھ ہزار کیمروں کو مانیٹر کیا جا رہا تھا۔

میں سمجھتا تھا کہ صرف ٹریفک سگنلز پر ہی کیمرے نصب ہیں مگرہال میں نظر آ رہا تھا کہ طاقتور کیمرے ہر سڑک کنارے موجود ہیں، میں نے ان کیمروں کو زوم کرتے ہوئے گاڑی چلاتے ہوئے شخص کی شکل تک واضح کرتے ہوئے دیکھا، یہ کیمرے گاڑیوں کی رفتار بھی مانیٹر کر رہے تھے، داتار دربار کے باہر لگے ہوئے کیمروں پرزائرین کی ’ فیس ڈیٹیکشن ‘ یعنی چہروں کی شناخت ‘کا عمل بھی جاری تھا۔

کیمرے پولیس کی سڑکوں پر گھومتی ہوئی بہت ساری گاڑیوں پربھی نصب تھے ۔ بتایا جا رہا تھا کہ ان کے ذریعے ٹریفک بھی کنٹرول ہو گی، صحت او رتعلیم کی سہولتوں اور ایمرجنسی کے ساتھ بھی یہ نظام مربوط ہو گا،جرائم اور دہشت گردی کا بھی قلع قمع کیا جائے گا۔

اگر کوئی مجھ سے بحث کرے گا کہ لاہور نہیں بدلا تو میں اس کی ہٹ دھرمی کومرغ کی ایک ٹانگ والی رٹ ہی سمجھوں گا جیسے کسی نے ضد لگا لی کہ مرغ کی ایک ہی ٹانگ ہوتی ہے اور کسی سیانے کوایک ایسا مرغ بھی دکھا دیا جو آنکھیں موندے اور گردن جھکائے ایک ٹانگ پر کھڑا اونگھ رہا تھا۔ سیانے نے حیرانی سے اس نادان کی طرف دیکھا اور مرغ کی طرف منہ کر کے زور سے کہا، شش، شش، مرغ نے آواز سنی تو اپنی پروں میں چھپائی ہوئی دوسری ٹانگ نکالی اور پوری رفتار سے دوڑ لگا دی مگر اس نادان کا اصرار تھا کہ اگر شش،شش نہ کی جاتی تو مرغ کی ایک ہی ٹانگ تھی۔

لاہور میں تو یہ حال ہو گیا ہے کہ یہاں پیدا ، جوان اور بوڑھے ہونے والے بھی بعض اوقات راستہ بھول جاتے ہیں اور بہت دور سے چکر لگا کے واپس آتے ہیں کہ نئی نئی ڈائیورشنوں، انڈر پاسوں اور فلائی اووروں نے رستے،نقشے سب بدل دئیے ہیں۔

لاہور بدل گیا ہے تو اب بہت سارے لاہوریوں کو بھی بدلنا ہو گا ورنہ بہت سارے کیمروں میں یہ بات نوٹ ہوجائے گی کہ ان کے ساتھ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر کون بیٹھا ہوا تھا۔ایسے ہی جیسے ایک بی بی نے رات دو بجے فون کیا اور پوچھا کہ کیا مزنگ میں آپ کے کیمرے کام کر رہے ہیں۔

کمیونیکیشن آفیسر پریشان ہو گیا ، پوچھا، کیا ہوا محترمہ کیا کوئی واردات ہو گئی ہے، محترمہ نے رسان سے جواب دیا نہیں، بس ذرا کیمرا گھما کے بتا دیں کہ وہاں پراٹھے والی دکان ابھی کھلی ہے یا بند ہو گئی ہے، دکان کھلی ہو تو میں منے کے ا با کو بھیج دوں۔

اب ا س طرح کی کال بھی کمانڈاینڈ کنٹرول سنٹر میں موصول ہو سکتی ہے کہ میرے میاں فلاں نمبر کی گاڑی میں فلاں سڑک پر ہیں، میں نے موبائل فون سے ان کی لوکیشن چیک کی ہے، ذرا کیمرے سے چیک کر کے بتائیں کہ کیا موئی سوکن کے ساتھ گلچھرے تو نہیں اُڑا رہے ۔

یہ خطرہ حقیقی ہے کہ جب سیٹ بیلٹ تک چیک ہو سکتی ہے تو پھر سب کچھ چیک ہو سکتا ہے۔، یہ انٹیلی جنٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم خطرناک حد تک انٹیلی جنٹ ہی نہیں بلکہ شرارتی بھی ہے۔

کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے ٹریفک چالان تو پہلے ہی بھیجے جانے شروع ہو گئے ہیں مگر اب جرمانے بھی شروع ہوجائیں گے، میرے سامنے ویڈیو وال پر وہ کیمرہ نمایاں تھا جو قرطبہ چوک جیل روڈ کو دکھا رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ بڑی تعداد میں موٹرسائیکل سوار اور رکشے والے ایل او ایس سے یوٹرن کو بچنے کے لئے ون وے کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

ویسے ایک بات میں تنقید کے خوف کے باوجود کہہ سکتا ہوں کہ شہر کی سڑکوں پر ٹریفک اصولوں کی سب سے زیادہ خلاف ورزی موٹرسائیکل سواروں کے بعد ویگنوں،منی بسوں، منی ٹرکوں اور رکشوں کے ڈرائیور کرتے ہیں۔

اس سسٹم کے بعد لاہوریوں کی ایک اور بڑی موج ختم ہوجائے گی، وہ یہ کہ بہت سارے لاہوری گاڑی خریدنے کے بعداسے اپنے نام پر ٹرانسفر نہیں کرواتے اور اوپن لیٹر پر ہی دوڑائے پھرتے ہیں۔

اب جو گاڑی ٹریفک کے کسی بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گی اور چالان کی چٹ ایکسائز آفس میں پرانے مالک کے پاس جائے گی تو وہ یقینی طور پر رپورٹ کر دے گا کہ جس گاڑی نے وائیلیشن کی ہے اسے وہ کئی ماہ پہلے فروخت کر چکا ہے۔

کہا گیا کہ یہ آٹھ ہزار کیمرے، ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سب کوئی بارہ ارب روپوں میں لگا ہے ا ور میرا خیال ہے کہ یہ سارے بارہ ارب روپے لاہوریوں کی موج اور مستی والی طبیعت کے باعث دھڑا دھڑ ہونے والے چالانوں سے ایک برس میں ہی واپس آجائیں گے اوراس کے بعد ان کیمروں سے کمائی ہی کمائی ہو گی۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بتا رہے تھے کہ یہ نظام کسی سے قرض لے کرنہیں لگایا گیا بلکہ حکومت نے خود فنڈز کا اہتمام کیا ہے، اس سے پہلے حکومت پنجاب لاہور سمیت مختلف شہروں میں میٹرو بھی اپنے خزانے سے بنا چکی ہے، ابھی حال ہی میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ بھی بیس ارب روپوں کی لاگت سے اپنی جیب سے ہی بنایا گیا ہے جبکہ دوسرے بلند بانگ دعوے کرنے والے ایک میٹرو کے لئے بھی قرض لے رہے ہیں۔

شہباز شریف نے درست کہا کہ غربت دولت سے نہیں ہوتی ، غربت سوچ اور افکار میں موجود ہوتی ہے اور اگر آپ ہمت ، کوشش، محنت اور جذبے والے ہیں تو پھر وسائل آپ کا پیچھا کرتے ہیں۔ لاہور کے بعد اب یہ نظام فیصل آباد، ملتان، گوجرانوالہ، راولپنڈی، بہاولپور اور سرگودھا میں بھی لایا جا رہا ہے اوراس کے لئے ٹینڈرنگ ہو رہی ہے۔

میں نے بات تھانہ کلچر سے شروع کی تھی، میرا نوجوان دوست بدرسعید پنجاب پولیس کے میڈیا سیل میں ذمہ داریاں سرانجام دے رہا ہے، میں نے شکوہ کیا کہ پنجاب پولیس میں آنے والی تبدیلی کو ہائی لائیٹ نہیں کیا گیا،اس نے بتایا کہ ایک کالم نگار نے اپنے گھر میں بیٹھ کے کالم لکھا کہ پنجاب کا تھانہ بالکل تبدیل نہیں ہوا تو بدر سعید نے اسے چیلنج دیا کہ وہ کسی بھی تھانے میں چلاجائے اور وہاں کسی قسم کی بھی شکایت درج کروائے، اس کے مطابق کالم نویس کی نہ صرف شکایت درج ہوئی بلکہ اس نے اپنے بغیر تحقیق لکھے ہوئے پر معذرت بھی کی۔

یہ نظام بھی پولیسنگ کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اس میں جدت لا رہا ہے۔ مجھے یہ ضرور کہنا ہے کہ نظام کی جدت کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے روئیے بھی تبدیل کرنا ہو ں گے۔ مجھے پولیس کے کچھ دوستوں نے کہا کہ نئے کمانڈ اینڈکنٹرو ل سسٹم والوں کی موجیں ہیں، چند گھنٹے کی ڈیوٹی ، اضافی تنخواہیں ، پک اینڈ ڈراب اور بہت ساری سہولتیں۔ ان کی وجہ سے روایتی پولیس میں احساس کمتری اور احساس محرومی جنم لے رہا ہے جو نہایت خطرناک ہے۔

SHOPPING

مجھے اپنے شہر اور صوبے سے محبت ہے، میں نے ابھی چند روز پہلے رنگ روڈ کے نئے تعمیر شدہ حصے پر سفر کیا ہے،وہاں سے مجھے اپنا شہر مزید اچھا اور پیارا لگا۔ اسے اچھا اور پیارا بنانے والے شہباز شریف کچھ ہی مہینوں کے بعد پنجا ب سے رخصت ہورہے ہیں، انہیں وزیراعظم کے عہدے کے لئے نامزد کر دیا گیاہے۔ میں دو وجوہات کی بنا پر یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ انہیں پنجاب میں ہی رہنے دیا جائے تاکہ میرا شہر اور میرا صوبہ مزید ترقی کرے، پہلی وجہ یہ کہ دوسرے صوبوں میں رہنے والے میرے پاکستانی بھائی اور بہنوں کا حق ہے کہ وہاں بھی پنجاب سپیڈ سے ترقی ہو، شہباز شریف دوسرے صوبوں کے وزیراعلیٰ تو نہیں بن سکتے مگر وزیراعظم بن کے پورے ملک میں یکساں تعمیر و ترقی کے لئے فعال کردار ضرورادا کر سکتے ہیں ۔ دوسری وجہ ذرا ذاتی نوعیت کی ہے۔ میں نے وزیراعظم بننے کی بات پر انہیں ایک ویڈیو میں کہنے والے کے لئے’ آپ کے منہ میں گھی شکر‘ کے الفاظ سنے ہیں۔ میں اگر اس کی مخالفت کروں گاتو وہ مجھ سے مزید ناراض ہوجائیں گے شائد اس سے بھی کچھ زیادہ جتنے وہ اب ہیں۔

SHOPPING

Avatar
نجم ولی خان
ڈائریکٹر جنرل پاکستان ریلوے،کالمسٹ،اینکر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *