لاج موری رکھیو

کچے گھروں کے مکینوں کے آنگن میں کسی چوتھی بیٹی کی آمد کتنی خوشی کا باعث ہوسکتی ہے اس کا اندازہ انکے ناموں سے کیا جا سکتا۔ منی، بےبی، گُڈی اور گڑیا کے ناموں والی چوتھی بیٹی ۔ کم توجہ اور اس سے بھی کم پیار کی عادی۔ گُڈی بھی اس گھر کی چوتھی بیٹی تھی۔ انتہائ کمزور صحت کے ساتھ اپنے پیدائش کے بعد سے ہی آئے دن بیمار رہتی۔ ماں کے پاس اس کے لاڈ اٹھانے کی فرصت تھی نہ ضرورت۔ لیکن اس مرتبہ بیمار ہونے والی گڈی کی حالت آہستہ آہستہ علاج نہ ہونے کے سبب بگڑتی جارہی تھی۔ دوائ جیسی عیاشی کا تصور بھی اس کی ماں کے پاس نہ تھا۔ کسی پڑوسن کہ کہنے پہ اپنے تینوں چھوٹے بچوں کو ساتھ لے کر جمعرات کےدن گُڈی کے صحت کے لئے لعل شہباز قلندر کے مزار پہنچ گئ۔ شفا کے ساتھ ساتھ لنگر کے کھانے کا آسرہ بھی تھا ابھی دعا کے لئے ہاتھ ہی اٹھائے تھے یک زور دار دھماکہ ہوا اور گُڈی کی ماں اور اسکی بچیوں کو تمام پریشانیوں سے نجات مل چکی تھی۔

سُنا ہے جب مزار کے ہال میں چاروں طرف لاشیں اور زخمی تھے تو ایک مردِ مومن ایسا بھی تھا جو موقع مناسب جانتے ہوئے سیلفی بنانے میں مصروف تھا کہ زخمیوں کی مدد سے ذیادہ ان کے ساتھ سیلفی بنانا اہم ٹہرا تھا۔

وہ کہاں سے تعلق رکھتا ہے ماں باپ کون تھے کچھ یاد نہیں بچپن سے مزار کے آس پاس پلا بڑھا۔ لوگوں کی خیرات اور مزار پہ بٹنے والے لنگر پہ پلا بڑھا جمعرات کے دن وہ ہمیشہ بہت خوش ہوتا کیونکہ نہ صرف مزار پہ دھمال میں حصہ لیتا بلکہ لنگر میں طرح طرح کی کھانے کی چیزیں بھی ملتیں۔ آج بھی جمعرات تھی لیکن دھمال شروع ہونے سے پہلے ہی مزار کے مرکزی حال میں موت نے دھمال ڈال دیا۔ مرنے والوں میں وہ نوجوان بھی شامل تھا جس کا نہ کوئ شناختی کارڈ تھا اور نہ اس کے لئے کوئ رونے والا۔
سُنا ہے کہ سندھ گورنمنٹ کی طرف سے چھیاسی اہلکاروں کو مزار کی سیکیورٹی کے لئے تعینات کیا گیا تھا۔ لیکن چھیاسی میں سے صرف سولہ پولیس والے ڈیوٹی پہ حاضر ہوتے تھے۔

رضیہ بہن بھائیوں میں نسبتا کم رو اور گہری رنگت رکھتی تھی۔ آہستہ آہستہ سارے بہن بھائیوں کی شادیاں ہوگئیں سوائے س کے۔ اپنے آس پاس بھابھیوں اور بہنوں کے بچے شور کرتے تو اس کے غم و غصے میں اضافہ ہونے لگتا۔ آہستہ آہستہ اس کی گھٹن بڑھتی گئ اور ایک دن اس پہ مرگی کا دورہ پڑگیا۔محلے اور خاندان میں تیزی سے بات پھیلی اور بوڑھی ماں کو جو تھوڑی بہت اس کی شادی کی امید باقی تھی وہ بھی ٹوٹ گئ۔ کسی کے کہنے پہ سیہون شریف اپنی بیٹی کو علاج کی غرض سے لے کر گئ تاکہ اس کو جنات کے سائے سے نجات مل سکے۔
لیکن جنات سے نجات کے بجائے زندگی سے نجات کا پروانہ آ پہنچا اور رضیہ اور اس کی ماں کو ہر فکر سے آزاد کرگیا۔

سنا ہے خودکش حملہ آور عورتوں کئ طرف والے راستے سے مزار میں داخل ہوا تھا ۔ گورنمنٹ کی طرف سے سات لیڈیز اہلکاروں کو عورتوں کی چیکنگ کے لئے تعینات کیا گیا تھا جن میں سے صرف ایک ڈیوٹی پہ حاضر تھی۔

ارشد کون تھا بہن بھائ رشتے دار جو اُس کے نشہ شروع کرنے کے بعد کافی عرصے تک اس کے پیچھے آتے رہے تھے اب سالوں سے اس کی خبر لینے نہ آئے تھے قصور ان کا نہیں ارشد کا تھا جس نے سیدھی سادی سلجھی زندگی کو ایک ناکام محبت اور بے وفائ کے قصے کے بعد خود کو نشے کے حوالے کردیا تھا۔ اور اب مزار کے احاطے میں پلنے والے بہت سے دیگر فقیروں اور نشے کے عادی لوگوں کا حصہ بن چکا تھا۔ وہی مزار تھا اور جمعرات کی رونقیں۔ دھمال دیکھنا اس کو ہمیشہ سے پسند تھا۔ ایک وجد جو تمام تر نشے میں ڈوبے انسان کے لئے بھی ایک طمانیت کا باعث تھا۔ لیکن آج کی جمعرات کا دھمال نہ ہوسکا تھا کہ موت بانٹنے والے نے اُن کو موت کے ہار پہنا دئیے تھے۔

سنا ہے مزار پہ بجلی نہیں تھی کیونکہ بجلی کے محکمے نے لاکھوں روپے کا بل بھیج دیا تھا اور دھماکے کے وقت مزار کے احاطے میں بہت کم روشنی تھی۔

ناصر ایک درمیانے درجے کا دکاندار تھا ہر جمعرات حیدرآباد سیہون شریف کی درگاہ پہ آنا اسکا معمول تھا- اس کا ماننا تھا کہ جمعرات پہ مزار پہ حاضری سے اس کے کاروبار میں خیر و برکت رہتی ہے۔ اپنی بساط کے مطابق ہر جمعرات کو درگاہ پہ کچھ پیسے خیرات کے باکس میں ڈال کہ وہ سکون محسوس کرتا تھا۔ لیکن اس جمعرات اس کی خیرات کے پیسے اس کی جیب میں ہی رہ گئے کہ اجل نے اس مرتبہ قربانی کے لیے اس کا انتخاب کرلیا تھا۔

سُنا ہے دھماکہ ہوا تو ناصر مرا نہیں اتنا خوش نصیب کہاں تھا تکلیف سے نڈھال اس کے وجود کو ہسپتال تک پہنچانے والوں کے پاس ایمبولینس تھی نہ اسٹریچر۔ چادر میں بندھا اس کا وجود کچھ لوگ اٹھا کر تعلقہ ہسپتال تک لائے جہاں کوئ ایمرجنسی سے نمنٹے کی سہولت نہ تھی۔ زخمی ہونے کے اگلے تین گھنٹے تک وہ تڑپتا رہا اور ہسپتال کا عملہ خالی ہاتھوں بے بس کچھ نہ کرسکا۔ بالآخر اس کی مشکل آسان ہوئ اور وہ خالق حقیقی سے جا ملا۔

مرنے والوں میں رحیم یار خان کا عمران اور نوشہرو فیروز کی کلثوم بھی شامل تھے۔ دونوں کے گھروں میں شادی کی تیاریاں تھیں کہ سوگ کا رنگ اُن کے گھروں پہ چھا گیا۔ ڈولی کی جگہ کلثوم کا جنازہ اٹھا تو ہر آنکھ اشک بار تھی۔ عمران کے دوست اس کی شادی کی خوشیاں نہ منا سکے اور دولہا کو منوں مٹی تلے چھوڑ آئے۔

سنا ہے مزار کے احاطے میں ساٹھ سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئے لیکن ان میں سے اٹھارہ کیمرے غائب تھے۔ آپریٹر ایک چھوٹے سے کمرے میں مانیٹرنگ کرتا تھا لیکن یہ کیسی مانیٹرنگ تھی کہ اٹھارہ کیمرے غائب تھے اور کوئ خبر نہ تھی۔

خان محمد متمول گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اس کا اکلوتا بیٹا ایک حادثے کا شکار ہوکر ہسپتال میں زیرِعلاج تھا۔ جمعرات کو اپنے بیٹے کی صحت یابی کے لئے لعل شہباز قلندر کے دربار پہ لنگر کا کھانا تقسیم کرنا اس کا معمول تھا۔ کئ جمعراتوں کی طرح اس دن بھی وہ مزار پہ حاضر ہوا ملازم کو لنگر کے کھانے کے پاس چھوڑ کر فاتحہ خوانی کے لئے مزار پہ پہنچا ہی تھا کہ موت کا فرشتہ آ پہنچا۔ بیٹا تو شاید صحت یاب ہوجائے لیکن دعا مانگنے والا باپ اب کبھی گھر واپس نہ جاسکے گا۔

سُنا ہے مزار کے سی سی ٹی وی آپریٹر کے آس پاس نیوز چینلز کی ایجنٹس تھے جو اس سے حادثے کے وقت کی مووی کے منہ مانگے دام دینے کو تیار تھے اور جیت آخر نمبر ون چینل کی ہوئی۔ آپریٹر نے منہ مانگے داموں میں کلپس ان کے ایجنٹ کو بیچ دئے تھے۔

Sent from my iPhone

Avatar
ثمینہ رشید
ہم کہاں کہ یکتا تھے، کس ہنر میں دانا تھے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *