کاش شاہجہاں سالف بھی ٹویٹ ہوتا ۔۔وسیم عبداللہ

شاہجہاں سالف ٹیکسلا کا ایک نوجوان ہے، لیفٹسٹ ہے اور جہاں تک میں جانتا ہوں ایک بہت ہی وفادار دوست، باوفا شوہر اور لاجواب شاعر ہے۔ ٹیکسلا کے ایک آرمی کے ادارے میں clerical جاب کرتا ہے جو بلڈی سویلینز کے لئے مخصوص ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اس نے اپنے دوستوں میں ذکر کیا کہ وہ یہ جاب چھوڑنا چاہتا ہے کیونکہ ایک تو یہ جاب کنٹریکٹ پر ہے اور دوسرا اس تنخواہ میں اس کا گزارہ نہیں ہوتا اور تیسرا ایک حاضر سروس میجر اس سے بلاوجہ پرخاش رکھتا ہے اور آۓ دن اس کی عزت نفس مجروح کرنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے۔

سالف چونکہ ایک شاعر آدمی ہے لکھنے پڑھنے والا اور چیزوں کو محسوس کرنیوالا شخص ہے اس طرح کے لوگ عام آدمی سے زیادہ حساس ہوتے ہیں ،اس لئے شاید وہ کسی اور بلڈی سویلین کے لئے کوئی  اتنی بڑی بات نہ ہوتی لیکن چونکہ وہ حساس آدمی ہے سو وہ اس بات کو برداشت نہیں کرپارہا تھا۔ پھر کچھ دن بعد اچانک کچھ لوگ اس کے گھر گئے اور اس کو اغوا کرکے “نامعلوم مقام” (جو اب ستر سالوں بعد “معلوم مقام”ہی ہوتا ہے لیکن اس کا جغرافیائی تعین ذرا مشکل ہوتا ہے) پر منتقل کردیا،اس کے دوستوں نے کافی تگ و دو کی اور اندرون خانہ اپنے ان دوستوں کی مدد حاصل کی جو پاک آرمی میں حاضرسروس یا غیر حاضر سروس تھے کو کہا سُنا اور سالف کچھ عرصے بعد واپس آگیا ۔۔۔لیکن اس کو “نامعلوم افراد” نے کسی بھی قسم کی بیان بازی سے باز رہنے کی تلقین کی! سو وہ دوبارہ اپنے روز مرہ کے معمولات پر واپس آگیا اور اسی طرح اپنے دوستوں کی محفلوں میں شرکت کرنے لگا، مشاعروں میں شاعری سنانے لگا ۔۔

پھر اچانک دوبارہ اسے اس کے گھر سے اٹھایا گیا اور ایک دفعہ پھر اسے “نامعلوم مقام” پر منتقل کردیا گیا۔ اس بات کو کوئی  چار ماہ کا عرصہ بیت چکا ہے اور تاحال اس کا کوئی  اتا پتہ نہیں ہے۔ اس کے دوست یار اس کے جانے پر اسی طرح وا ویلا کررہے ہیں جیسے بےبس کوّے اپنے کسی ساتھی کے نشانہ بننے پر صرف جوش و جذبات میں اونچی اور کراہتی ہوئی  آواز میں کائیں کائیں کرتے ہیں۔ اس کائیں کائیں میں مَیں بھی انہی کی طرح ایک بے بس کوّے کی مثال  شامل ہوں اور اس کی بازیابی کے لئے دعاگو ہوں اور اپنی مہین سی آواز بلند کرتا ہوں اور نہایت ادب اور خوف سے عرض کرتا ہوں کہ۔۔

“اے وطن کے سجیلے جوانو!” ہم بھی آپ ہی کی طرح اس ملک کے محب الوطن شہری ہیں، ہم بھی آپ ہی کی طرح اس ملک کا نام روشن کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کے لئے اپنی زندگی داؤ پر لگانے کے لئے ہر گھڑی، ہر لمحہ اور ہر وقت تیار ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ آپ وردی والے سپاہی ہیں اور ہم بنا وردی کے یہ کام کرتے ہیں، کون ہے جو ہمارے سامنے پاکستان کے خلاف ایک بات بھی کر جاۓ، ہم اس کو چیر کر گزر جائیں گے، ہم طارق فتح نہیں ہیں جو چند سکوں کے عوض اپنے ملک اور اپنی فوج کو گالیاں نکالیں، ہم بینظیر بھٹو بھی نہیں ہیں جو پاکستان کی خفیہ ایجینسیوں کی کمر میں چھرا گھونپ کر ہندوستان کے وزیراعظم راجیو گاندھی کو سکھوں کی لسٹیں فراہم کریں، ہم مرتضٰی بھٹو بھی نہیں ہیں جو کہیں کہ “انڈیا کی فوجوں کے ٹینکوں پر بیٹھ کر اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے” ہم حسین نواز بھی نہیں ہیں کہ جو انڈین پرائم منسٹر کو خط لکھیں اور کہیں کہ میرے ابا کو جیل سے نکلوانے کے لئے  عالمی دباؤ ڈلوایں، ہم جنرل نیازی بھی نہیں ہیں جو ہاری ہوئی  جنگ کی دستاویز پر دستخط کرتے ہوۓ جنرل اروڑہ کو گندے لطیفے سنائیں،  ہم مریم نواز شریف/ صفدر بھی نہیں ہیں جو ٹی وی اینکرز کو فون کرکے فوج کو بدنام کرنے کا کہے اور فوج کے بارے میں ہوئی  خفیہ میٹنگ کو ایک صحافی کو صرف اس لئے بتاۓ کہ اس سے خدانخواستہ فوج ذلیل و رسوا ہوجاۓ اور معاف کیجئیے گا ہم نوازشریف بھی نہیں ہیں جو پاکستان کیخلاف ایک ٹیررسٹ اور فیل سٹیٹ ہونے کی ٹویٹس کرنیوالے پاکستان دشمن سجن جندل کو آپ کی ناک کے نیچے دن دہاڑے پاکستان میں بلواۓ اور اپنی نجی سیرگاہ میں بلوا کر اس کی آؤ بھگت کرے اس کی سیوا کرے اور اگلے دن جلسے میں آپ کو چیلنج کرے اور کہے کہ ہم دوستوں کا ساتھ نہیں چھوڑتے اور اس کے بعد اس کی بیٹی یہ ٹویٹ کرے کہ سجن جندل ہمارے فیملی فرینڈ ہیں، اور ہم اسی نوازشریف کی طرح پاکستان دشمن مودی کو اچانک اپنے خاندان میں ہونیوالی شادی میں بلانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

جناب والا! ہم وہ بائیس کروڑ بیوقوف اور محب الوطن لوگ ہیں جو اپنی ملک و قوم کی عزت کو اپنی ذاتی دوستی اور رشتہ داری پر فوقیت دیتے ہیں۔ ہماری آپ تک اس طرح رسائی  نہیں ہے جیسے ان مشکوک محب الوطنی رکھنے والے حکمرانوں کی ہے۔ ہم وہ خوش قسمت نہیں ہیں  جن کو سکھوں کی لسٹیں دشمن ملک کو دینے اور ان کے ٹینکوں پر چڑھ کر آنیوالے بیانات کے بعد بھی آپ حکومت دیدیں، ہم وہ بھی نہیں ہیں جنہیں جنرل نیازی اور جنرل یحییٰ کی تمام تر برائیوں کے باوجود فوجی اعزازات دئیے جائیں، ہم وہ بھی نہیں ہیں جنہیں جندل سے ملنے اور آپ کے خلاف سازشیں کرنے کی باوجود محفوظ راستہ دیا جاۓ،۔۔

ہم مردود  وہ بائیس کروڑ عوام ہیں جو کسی بھی جنگ کی صورت میں آپ کے لئے  دعائیں کرتے ہیں ،آپ کے پاس اسلحے کی کمی ہو تو ہم خودکش بن کر دشمن کے ٹینکوں کے نیچے لیٹ کر اپنی جانیں دے دیتے ہیں، ہم وہ ہیں جو اپنے جوان بچوں کو جنگ کے دنوں میں آپ کو سونپ دیتے ہیں، اور پھر سالف تو اس قبیلے کا آدمی ہے جو آپ کے لئے اور آپ کی ہمت افزائی  کے لئے  ترانے لکھتے ہیں، انہی کے قلم سے لکھے گئے ترانوں سے آپ سجیلے نوجوان بنے، انہی شاعروں نے کہا کہ ان کے نغمے تمھارے لئے ہیں، انہی نے آپ جیسے بیٹوں کے لئے  کہا کہ ایہہ پُتر ہٹاں تے نہیں وکدے۔ ان کو ان کے قبیلے کا نوجوان واپس دے دیں، اس کی ماں باپ کو بیٹا، بہنوں کو بھائی ، بیوی کو شوہر اور اولاد کو اس کا باپ واپس کردو۔ اگر اس نے ملکی سالمیت کے خلاف کوئی  کام بھی کیا ہے تو اس پر مقدمہ چلائیں اس کو صفائی  کا موقع  دیں اور اگر اس کے باوجود وہ گناہ گار ثابت ہوتا ہے تو بیشک بلاجھجھک اسے قرار واقعی سزا دیں ہمیں کوئی  اعتراض نہیں ہوگا۔

جناب والا! آپ نے تو نورین لغاری کو مصدقہ دہشت گرد کی بیوی ہونے اور فورس پر فائرنگ کرنے اور خودکش جیکٹ کیساتھ پکڑ کر بھی معاف کردیا تھا، کیا سالف سے اس سے بھی بڑھ کر کوئی  جرم سرزد ہوگیا تھا؟ یا پھر ہم یہ سوچ لیں کہ ” جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے” لیکن اس کے باوجود ہم خواہش فہم لوگ ہیں اور درخواست گزار ہیں کہ اپنوں کیساتھ اپنے خیرخواہوں کیساتھ تو ایسا مت کریں، ہمارے دلوں میں وسوسے ہیں انہیں دور کریں ہمیں اس خوف سے نجات دلائیں اور ہماری اس غلط فہمی کو دور کریں کہ اگر کوئی  بڑا آدمی غداری کرے گا تو بھی وہ حکمرانی ہی کرے گا کیونکہ وہ بڑا آدمی ہے اور اگر کوئی  ہم جیسا غریب آدمی کچھ نہ بھی کرے تو غائب کردیا جاۓ گا۔ خدارا ہم پر رحم کیجئیے اور سالف کو اسی طرح واپس کردیں جیسے آپ نے کچھ دن قبل ایک ٹویٹ واپس لیا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *