مانی بھائی کی خدمت میں ۔۔معاذ بن محمود

 مانی بھائی کا پہاڑ سا تجربہ اور اس کی بنیاد پر مکالمہ و دیگر سائٹس کے لیے یہ مضمون کافی حد تک ضابطہ اخلاق وضع کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ پھر بھی، ایک مثبت بحث کی نیت سے ہلکا سا اختلاف پیش کرنے کی جسارت چاہوں گا۔
کئی برس ہوئے کہ ایک گروپ میں شمولیت اختیار کی۔ علاقائی مسائل پہ بات چیت کے لیے بننے والا یہ گروپ ایک دن سیاسی معاملات پہ بحث برائے بحث کا ملاکھڑا بن گیا۔ سیاسی وابستگی رکھنے والے ایڈمن اخلاقیات کے نام پر لوگوں کو نکالنے کے بہانے ڈھونڈنے لگے۔ اس دن اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ اخلاقیات کی واضح لکیر کھینچنا ممکن ہی نہیں۔ ایڈمن کا جب دل چاہتا “بکواس” جیسے لفظ پہ بلاک کر دیتا اور جب جی چاہتا “بھونکنا” جیسے الفاظ بھی ہضم کر جاتا۔ یعنی کسی جگہ پر لفظ “بکواس” بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے جبکہ کئی افسانہ نگار “کنجری” جیسے سخت الفاظ پر بھی گرم پانی ڈال کر نرم کر جاتے ہیں۔
ایسے میں اخلاقیات کا پیمانہ کیا ہونا چاہیے؟۔۔۔۔
میرا بچپن پختونخوا  میں گزرا جہاں بڑوں کے سامنے بات کرنا بھی ٹھیک نہیں سمجھا جاتا، لیکن ایک اردو سپیکر ہوتے ہوئے میرے اپنے گھر میں حالات مختلف تھے۔ میری اپنے مرحوم والد کے ساتھ ایک ایسے اچھے خاصے کھلے ماحول میں بات ہوتی جو کہ یقیناً کسی پشتون باپ کے لیے اخلاقیات کا الارم بجانے کا مؤجب بن سکتا تھا۔ ایسے میں کیا فرد واحد یا اقلیت کو یہ حق حاصل ہے کہ جس ماحول میں وہ رہ رہے ہیں اس ماحول کی اخلاقیات کا تعین کرنا شروع کر دیں؟
فرد واحد یا اقلیت کی تنقید سر آنکھوں پر لیکن کیا ہی خوب ہو کہ ساتھ ساتھ لکھنے والے کی حوصلہ شکنی کی بجائے حوصلہ افزائی کی جائے اور ساتھ میں اپنی بات بھی کر دی جائے؟
منٹو جیسا عظیم افسانہ نگار تقسیم ہند کے بعد خود پر تنقید کے ہاتھوں رلتا رہا۔ کیا منٹو کی زبان یا اس کی “فحش نگاری” اس کا قد چھوٹا کر گئی؟ نہیں ہرگز نہیں۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہمارے لکھاریوں کے الفاظ اسی معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اس ضمن میں گالم گلوچ کو بھی مضمون کا حصہ بنا لیا جائے تاہم یہ ممکن نہیں کہ ایک طنزیہ مضمون میں ہر جگہ زیریں جامے کو زیریں جامہ ہی تحریر کیا جائے۔ اخلاقیات کا دائرہ سخت دائرہ نہیں بلکہ ضابطہ کہلایا جاتا ہے۔ یہ ضابطہ بھی اس قدر سخت نہیں رکھنا چاہیے کہ گھٹن شروع ہوجائے بصورت دیگر خٹک بھائی جیسے لکھاری اپنا ٹیلنٹ لے  کر کہاں جائیں؟
یہاں یہ سوال مزید اہمیت کا حامل بن جاتا ہے کہ ضابطہ کیا اور کیسا ہو، جس کے تحت لکھاری کو گھٹن بھی نہ ہو اور اخلاقیات کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوٹے۔
میرا ذاتی جواب یہ ہے کہ لکھنے والے کو کم از کم لکھنے میں کسی قدر چھوٹ دے دینی چاہیے جب تک اس کا لکھا غیر ضروری طور پر فحش نہ ہو۔ مکالمہ ہو یا دلیل یا ہم سب، یہ تمام سائٹس اپنی روح میں قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کا سبب ہیں۔ ایسے میں تحریری شگوفوں اور تصویری ننگ پنے کا موازنہ شاید ٹھیک نہیں- مجموعی طور پر تحریری سائیٹس پر غیر اخلاقی تصویر کی کوئی تک ہی نہیں بنتی۔ جہاں تک بات لفاظی کی ہے تو شاید یہ ایک qualitative پیمانے کے تحت مدیر اعلی کا استحقاق ہونا چاہیے۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *