یروشلم کس کا حق ہے؟۔۔۔ ثنا اللہ احسن

مسجد اقصی کس نے تعمیر کی؟

ہیکل سلیمانی کیا ہے؟

یہودی اس کی کھدائی  کیوں کر رہے ہیں؟

دیوار گریہ کیسے وجود میں آئی؟

تابوت سکینہ کیا تھا؟

اصل حقدار کون؟

مسلمان یا یہودی؟

مسجد اقصی کی مختصر تاریخ۔

وہ حقائق جو ہر مسلمان کے لئے جاننا ضروری ہیں۔ ‏‎مصریوں کی غلامی سے رہائی کے بعد جب صحراء سینا میں بنی اسرائیل کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے سے باقاعدہ شریعت عطا کی گئی تو ساتھ ہی حضرت موسیٰ کو یہ ہدایت بھی کر دی گئی کہ وہ بدنی اور مالی عبادت کی مختلف رسوم ادا کرنے کے لیے خیمے کی شکل میں بنی اسرائیل کے لیے ایک عبادت گاہ بنائیں۔ اس خیمے کی بناوٹ، اس کے ساز وسامان اور اس میں ادا کی جانے والی رسوم کی پوری تفصیل خود اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو سمجھائی۔ تورات میں اس خیمے کا ذکر ”خیمہ اجتماع”، ”مقدس”، ”مسکن” اور ”شہادت کا خیمہ” کے مختلف ناموں سے کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ کو یہ حکم بھی دیا گیا کہ وہ خاص وضع کا ایک صندوق بنا کر اس میں تورات کی الواح کو محفوظ کریں اور اسے ”خیمہ اجتماع” میں ایک مخصوص مقام پر مستقل طور پر رکھ دیں تورات میں اس کو ”عہد کا صندوق” کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔

یہ ایک متحرک اور قابل انتقال (Mobile) عبادت گاہ تھی جس کا حکم صحراء  سینا میں بنی اسرائیل کے عارضی قیام اور مسلسل نقل مکانی کے پیش نظر دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ‘تورات’ میں بنی اسرائیل کو یہ حکم بھی دے دیا گیا کہ جب وہ بیت المقدس کو فتح کر لیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ جگہ پر عبادت گاہ تعمیر کر کے قربانی، نذر اور دیگر شرعی رسوم وہیں ادا کیا کریں ‏‎۔ 1450 ق م میں حضرت یوشع بن نون کی قیادت میں بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بیت المقدس کو فتح کیا۔ اس کے بعد تقریباً چار صدیوں تک بنی اسرائیل علاقے میں پہلے سے آباد مختلف نسلی گروہوں کے ساتھ لڑنے اور انھیں مغلوب کرنے کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ اس عرصے میں چونکہ سرزمین فلسطین پر بنی اسرائیل کے قبضے اور ان کے سیاسی اقتدار کو استحکام حاصل نہیں تھا، اس لیے مرکز عبادت کی حیثیت اسی ”خیمہ اجتماع” کو حاصل رہی۔

چار صدیوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد آخر سیدنا داؤد علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل ان کی قیادت میں ان مقامی گروہوں کو بڑی حد تک کچلنے اور ایک مستحکم سلطنت کی بنیاد رکھنے میں کامیاب ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت داؤد علیہ السلام کو ایک باقاعدہ مرکز عبادت تعمیر کرنے کی ہدایت ملی۔ حضرت داؤد نے اس مقصد کے لیے ارنان یبوسی نامی شخص سے اس کا ایک کھلیان خریدا جو کوہ موریا پر واقع تھا اور تعمیر کے لیے ابتدائی تیاریاں شروع کر دیں۔

تاہم اپنی حیات میں وہ اس مرکز عبادت کو تعمیر نہ کر سکے اور اپنے فرزند سیدنا سلیمان علیہ السلام کو اس کی تعمیر کی وصیت کرتے ہوئے معبد کا تفصیلی نقشہ انھیں سمجھا کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ‏‎حضرت سلیمان نے اپنے والد کی وفات کے بعد اپنے دور حکومت میں اس نقشے کے مطابق مقررہ جگہ پر ایک شان دار عبادت گاہ تعمیر کرائی جو تاریخ میں ”ہیکل سلیمانی” (Solomon’s Temple) کے نام سے معروف ہے۔ اس کی تعمیر 950 ق م میں مکمل ہوئی۔ اپنی شان وشوکت اور جاہ وشکوہ کے لحاظ سے یہ عمارت عجائبات عالم میں شمار ہوتی تھی۔ اس کی تعمیر کی پوری تفصیل سلاطین ١:٦۔ ٨ اور تواریخ ٢:٣ ۔ ٥ میں مذکور ہے۔ قرآن مجید کے بیان کے مطابق اس کی بڑی بڑی محرابوں کی تعمیر کے لیے سلیمان علیہ السلام نے ان جنات سے بھی مدد لی تھی جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مسخر کر دیا تھا۔ ‏‎’خیمہ اجتماع’ کی جگہ اب ‘ہیکل سلیمانی’ کو بنی اسرائیل کی عبادات اور مذہبی رسوم کے لیے قبلہ اور ان کی مذہبی واجتماعی زندگی کے محور ومرکز کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ سوختنی قربانیوں کے لیے مذبح اور عہد کے صندوق ( تابوت سکینہ) کے لیے ایک خاص کمرہ اسی معبد میں تعمیر کیا گیا۔ اس کی تکمیل کے موقع پر سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور جو دعا کی،

اس سے واضح ہے کہ بنی اسرائیل کے لیے اس عبادت گاہ کو اسی طرح ایک روحانی مرجع ومرکز اور ‘مثابۃ للناس’ کی حیثیت دے دی گئی تھی جس طرح بنی اسمٰعیل کے لیے مسجد حرام کو ۔ ‏‎اس طرح اس عبادت گاہ کو بنی اسرائیل کا ایک مذہبی وروحانی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی سیاسی عظمت وشوکت اور دنیاوی جاہ وجلال کے ایک نشان کی حیثیت بھی حاصل تھی۔ ‏‎ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے تقریباً ساڑھے تین سو سال بعد۔ بنی اسرائیل کے اجتماعی طور پر مشرکانہ اعمال ورسوم میں مبتلا ہو جانے اور شریعت کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دینے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بابل کے بادشاہ نبوکد نضر کو ان پر مسلط کیا جس نے586 ق م میں یروشلم پر حملہ کر کے ہیکل کو جلا کر برباد کر دیا ، اس کے تمام خزانے اور قیمتی ظروف لوٹ لیے، بنی اسرائیل کا قتل عام کیا اور انھیں اسیر بنا کر اپنے ساتھ بابل لے گیا۔ ‏‎بنی اسرائیل کی توبہ اور اصلاح حال کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انھیں دوبارہ آزادی کی نعمت عطا کی اور فارس کے بادشاہ خورس (Cyrus) نے بابل کو فتح کرنے کے بعد538 ق م میں اسیری میں آئے ہوئے بنی اسرائیل کو واپس یروشلم جانے اور وہاں ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی۔ ‏‎

ہیکل ثانی کی تعمیر، جس کو زربابلی ہیکل کا نام دیا گیا، 515 ق م میں مکمل ہوئی۔ یہ ایک بالکل سادہ سی عبادت گاہ تھی جس کا تزئین وآرایش اور تعمیر کے معیار کے لحاظ سے سلیمانی ہیکل کے ساتھ کوئی جوڑ نہیں تھا۔ یہ عبادت گاہ تقریباً ساڑھے چار سو سال تک قائم رہی ، لیکن اس عرصے میں وقتاً فوقتاً حملہ آوروں کے ہاتھوں بے حرمتی کا نشانہ بنتی رہی۔169 ق م میں یونانی بادشاہ انطوخیوس چہارم ایپی فینس نے ہیکل پر قبضہ کر کے اس کے سازوسامان اور خزانے کو لوٹ لیا  اور اس میں زیوس (Zeus) دیوتا کے نام پر قربانی کا مذبح قائم کر کے سردار کاہن کو مجبور کیا کہ وہ اس پر ایک خنزیر کی قربانی کرے۔ اس کے رد عمل میں ‘مکابیوں کی بغاوت’ نے جنم لیا اور 165 ق م میں یہوداہ مکابی کی قیادت میں بنی اسرائیل حملہ آوروں کو بے دخل کر کے ہیکل کی بازیابی اور تطہیر میں کامیاب ہو گئے۔ اس کی یاد میں یہودی اب تک حنوکہ (Hanukkah) کا سالانہ تہوار مناتے ہیں۔

63 ق م میں یونانیوں کی جگہ جنرل پومپی کی قیادت میں رومی فوج نے فلسطین پر قبضہ کیا تو اس موقع پر زربابلی ہیکل کا ایک بڑا حصہ تباہی کی نذر ہو گیا۔ بعد میں رومی حکومت نے یہودیوں کو نیم سیاسی خود مختاری دے دی تو یہودیہ کے بادشاہ عظیم ہیردویس نے، جس کا زمانہ حکومت 37 ق م سے 4 عیسوی تک ہے، زربابلی ہیکل کی تعمیر نو کرتے ہوئے احاطہ ہیکل یعنی اس کے گرد چار دیواری کو وسیع تر کر دیا، اور زمین سے اس کی اونچائی مزید بلند کر دی۔یہ تعمیر 19 ق م میں شروع ہوکر46 سال تک جاری رہی۔ ‏‎ہیکل کی تباہی اور فلسطین سے یہودیوں کی بے دخلی کی پیش گوئی دوسری مرتبہ70ء میں پوری ہوئی۔ اس مرتبہ اس کا سبب بنی اسرائیل کا وہ رویہ تھا جو انھوں نے من حیث القوم سیدنا مسیح علیہ السلام کی تکذیب کے حوالے سے اختیار کیا تھا۔

66ء میں یہودیوں نے رومی حکومت کے خلاف بغاوت کر دی جس کو کچلنے کے لیے رومی جنرل طیطس (Titus) نے 70ء میں یروشلم پرحملہ کر کے یہود کا قتل عام کیا اور ہیکل کو بالکل تباہ وبرباد کر دیا۔ زندہ بچ جانے والے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا گیا اور یروشلم میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا، تاہم بعد کے ادوار میں یہ پابندی نرم کر کے یہودیوں کو مخصوص مواقع پر یروشلم میں آنے اور ہیکل کے کھنڈرات کی زیارت کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ ہیکل کی اس دوسری تباہی میں اس کی صرف مغربی دیوار محفوظ رہ گئی تھی جو رفتہ رفتہ یہودیوں کا مقام اجتماع اور ان کی گریہ وزاری کا مرکز بن گئی اور اس بنا پر ”دیوار گریہ” (Wailing Wall) کہلانے لگی۔ ‏‎136ء میں رومی شہنشاہ ہیڈرین نے یروشلم کو دوبارہ آباد کر کے اس کا نام ‘Aelia Capitolina ‘ رکھا اور ہیکل کی جگہ رومی دیوتا ‘Jupiter ‘ کے نام پر ایک عالی شان معبد تعمیر کرا دیا۔

چوتھی صدی عیسوی میں مسیحیت کے روم کا سرکاری مذہب بن جانے کے بعد 336ء میں قسطنطین اعظم نے اس معبد کی جگہ کلیسائے نشور (Church or Resurrection) تعمیر کرا دیا۔ ‏‎638ء میں مسلمانوں نے یروشلم کو فتح کیا تو اس موقع پر امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ صحابہ کی معیت میں مسجد اقصیٰ میں آئے۔ اس وقت ہیکل کے پتھر (صخرہ بیت المقدس) کے اوپر کوڑا کرکٹ پڑا ہوا تھا۔ سیدنا عمرنے صحابہ کے ساتھ مل کر اس کو صاف کیا اور احاطہ ہیکل کے اندر جنوبی جانب میں نماز پڑھنے کے لیے ایک جگہ مخصوص کر دی۔ بعد میں اس جگہ پر لکڑی کی ایک مستطیل مسجد تعمیر کی گئی۔ 688ء میں اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان نے صخرہ بیت المقدس کے اوپر ایک شان دار گنبد تعمیر کرا دیا جو ‘قبۃ الصخرہ’ (Dome of Rock) کے نام سے معروف ہے۔ اسی نے لکڑی کی مذکورہ سادہ مسجد کی تعمیر نو کر کے اس کے رقبے کو مزید وسیع کر دیا۔ اسلامی لٹریچر میں ”مسجد اقصیٰ” سے مراد یہی مسجد ہے۔

‏‎1078ء میں جب سلجوقی ترکوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تو ان کے 20 سالہ دور حکومت میں یورپ اور پوری دنیا سے آنے والے مسیحی زائرین کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا گیا اور ان کے مقامات مقدسہ کی زیارت کے معمولات میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ اس کے رد عمل میں 1096ء میں مغربی یورپ میں غیظ وغضب کی ایک لہر اٹھی جس نے صلیبی جنگوں کا روپ دھار لیا۔ پوپ اربن دوم کے حکم پر عیسائی جنگجوؤں کا ایک لشکر یروشلم پر قبضے کے لیے روانہ ہوا جس نے 1099ء میں یروشلم پر قبضہ کر کے مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرہ کو اپنے تصرف میں لے لیا۔ مسیحی فاتحین نے قبۃ الصخرہ کو کلیسا میں تبدیل کر کے اس کے کلس پر سونے کی ایک بڑی صلیب نصب کر دی، جبکہ قبہ کے اندر مسیحی بزرگوں کی مورتیاں اور تصویریں آویزاں کر دی گئیں۔ صخرہ کے اوپر ایک قربان گاہ بنا دی گئی جسے انھوں نے ‘Templum Domini’کاجبکہ مسجد اقصیٰ کو ‘TemplumSolomonis’کا نام دے دیا۔

88 سال کے بعد1187 میں مسلمان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں دوبارہ یروشلم پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے اور مسجد اقصیٰ کو مسجد کی حیثیت سے بحال کر کے قبۃ الصخرہ سے صلیب اتار دی گئی۔ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل مشرقی یروشلم پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گیا جس میں مسجد اقصیٰ واقع ہے اور مسجد کو اسرائیلی فوج نے اپنے کنٹرول میں لے لیا،تاہم اسرائیلی وزیر دفاع موشے دایان نے خیر سگالی کے اظہار کے طور پر احاطہ مقدسہ کی چابیاں اردن کے حکمران ہاشمی خاندان کے سپرد کر دیں۔ اس وقت سے اس احاطے اور اس سے ملحق بعض عمارتوں کا کنٹرول یروشلم کے مسلم وقف کے پاس ہے جو اس کے جملہ امور کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہے۔

یہودی آج بھی اس علاقے کی کھدائی  میں مصروف ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ہیکل سلیمانی میں رکھا جانے والا صندوق یا تابوت سکینہ یہاں کہیں دفن ہے۔ اس صندوق کے ملتے ہی یہ اپنا کھویا ہوا عروج و مقام حاصل کرلیں گے جبکہ قرآن  مجید میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ وہ تابوت آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے۔ یہودی اس وقت اپنے اس منصوبے پر بھی عمل پیرا ہیں جس میں موجودہ بیت المقدس کی جگہ حضرت سلیمان ؑ کے تعمیر کردہ ھیکل کے نقشے کے مطابق بالکل ویسا ہی پر شکوہ اور عظیم الشان  ہیکل تعمیر کر سکیں۔ فی الحال ابھی تک تو وہ ہیکل سلیمانی کی باقی رہ جانے والی ایک دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے گناہوں اور نافرمانیوں کی معافی مانگتے ہیں اور گریہ و زاری کرتے ہیں۔ اسی لئے یہ دیوار گریہ کہلاتی ہے۔

اگر دیکھا جائے تو یہ علاقہ اور عبادت گاہ حضرت موسیٰؑ کے زمانے سے لے کر ہزاروں برس تک یہودیوں کی عبادت گاہ ہی رہی ہے۔ جب عیسائیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تو اس پر چرچ تعمیر کردیا اور مسمانوں کے یروشلم پر قبضے کے دوران یہاں مسجد اقصیٰ تعمیر کردی گئ۔ اب مسلمانوں قبلہ اورمقدس ترین مقام خانہ کعبہ ہے جہاں حج کے دوران تمام مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ مسجد اقصی کو قبلہ اول کی حیثیت حاصل ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اگر مسلمان اور یہودی باہمی افہام و تفہیم سے مسجد کو بھی قائم رہنے دیں اور یہودی اپنے عقیدے کے مطابق اپنی عبادت گاہ ہیکل سلیمانی بھی تعمیر کرلیں۔

اس تاریخ سے تو یہی ثابت ہوا کہ اسرائیل یا یروشلم ہی یہودیوں کی جنم بھومی ہے اور وہ گزشتہ دس ہزار سال سے اسی سے جڑے ہیں۔ ان کا مذہب انبیا، تاریخ، ثقافت، عروج  و زوال سب اسی سر زمین سے جڑا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”یروشلم کس کا حق ہے؟۔۔۔ ثنا اللہ احسن

  1. سوال یہ ہیکہ مسجد اقصٰی حضرت عمر رضی اللہ نے تعمیر کی ہے تو قرآن جس کو مسجد اقصٰی کہتا ہے وہ کونسی مسجد ہے؟

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *