• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • نوآبادیاتی باشندے کی مغائرت/ تحریر: ڈاکٹر ناصر عباس نیر /ترجمہ: الیاس کبیر

نوآبادیاتی باشندے کی مغائرت/ تحریر: ڈاکٹر ناصر عباس نیر /ترجمہ: الیاس کبیر

مجید امجد نے اپنی نظم ’آٹو گراف‘ میں کہا ہے:
میں اجنبی، میں بے نشاں
یہ لوحِ دل! یہ لوحِ دل!
نہ اس پہ کوئی نقش ہے، نہ اس پہ کوئی نام ہے!

یہ سطور مجموعی طور پر اس افسردگی کو بیان کرتی ہیں جو ہم سب کی زندگی کو کسی نہ کسی موقع پر جکڑ لیتی ہے اور عام طور پر توثیق کے بغیر گزر جاتی ہے۔ دراصل یہ سطور مغائرت کے تجربے کو پیش کرتی ہیں ___ایک اُداس بے مہری ہمارے اپنے ہی وجود سے، اس حقیقی زندگی اور اس کی یادوں اور یادداشت کے جہاں سے۔ بالفاظِ دیگر یہ بیسویں صدی کے اس اردو شاعر کی جانب سے کھوکھلے پن، تنہائی، بے قدری اور مفارقت کے کرب کا بیان ہے جس نے قریب قریب ویران زندگی گزاری۔ ہم جانتے ہیں کہ تنہائی کی تمام اقسام سماجی، معاشی، تاریخی کیفیات یا وجودی نوعیت کی ہیں۔

اگرچہ مغائرت کو جدید زندگی کی نمایاں شناخت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، تاہم اس کی تین جہتوں کو نشان زد کیا جاسکتا ہے: پہلی مارکسی ہے۔ مارکسی تشریح کے مطابق مغائرت کے معنی اُس فرق کے ہیں جو ایک آدمی کی محنت اور اس کے حاصل میں ہے۔ عام اصطلاح میں، جب ایک محنت کش اپنی محنت کا مادی صلہ حاصل کرنے میں ناکام ہوتا ہے تو وہ اپنی محنت کے عمل اور پیداوار دونوں سے بیگانہ ہو جاتا ہے۔ انسانی حیثیت کے احساس سے محروم ہونے کے بعد وہ تب مشین کی طرح کام کرتا ہے ___مسلسل اور نادانستہ طور پر۔

مغائرت کی دوسری قسم اپنی نوعیت میں وجودیاتی ہے۔ یہ انیسویں اور بیسویں صدی کے یورپی وجودی تخلیق کار فلسفیوں کی وضع کردہ ہے؛ مثال کے طور پر کرکیکارڈ، سارتر، کامیو، ہیڈیگر اور دیگر۔ فلسفیانہ اصل کی خاصیت رکھنے والی یہ مغائرت تمام انسانی تجربات کو انسانی وجود پر مرکوز رکھتی ہے۔ انسان خود ہی اپنے انفرادی، مستند نفوس سے بیگانہ ہوتے ہیں۔ کامیو کے’اجنبی‘ کی یہ عبارت ’وہ آسانی سے دوسرے لوگوں کے ساتھ انسلاک اور شناخت نہیں کرسکتا۔‘ بنیادی وجودیاتی مغائرت کو بیان کرتی ہے۔ دنیا، اس کی اقدار، وصف اور خیالات سے متعلق افسردہ لاتعلقی وجودی مغائرت کی بنیاد ہے۔

مغائرت زدہ باشندے کے لیے یہ ایک اجنبی، کٹھور اور لاتعلق زندگی ہے۔ مغائرت کی دونوں اقسام یعنی مارکسی اور وجودیاتی یورپ مرکوز ہیں جو اس کی وضاحت کرتی ہیں کہ کیسے سرمایہ دار اور صارف مغربی معاشرے اپنے شہریوں کو مغائرت زدہ کرتے ہیں۔

نوآبادیاتی مغائرت، مغائرت کی تیسری قسم ہے۔ بلاشبہ یہ مارکسی اور وجودیاتی مغائرت کی کچھ عمومی خصوصیات ___ بالخصوص اپنے حقیقی، مستند وجود سے اجنبیت کا موضوع __ میں شریک ہے۔ بہر کیف اب یہ خود ایک مخصوص قسم ہے۔ یہ زندگی کے اُن تہہ در تہہ تجربوں کا نتیجہ ہے جن سے نوآبادیاتی باشندوں کو مجبوراً گزرنا پڑا۔ جس لمحے کوئی نوآبادیاتی محکوم باشندہ، حاشیائی حیثیت (پر پہنچنے) کا راستہ اور کردار اپناتا ہے، اسی لمحے مغائرت کے مرحلے کی ابتدا ہو جاتی ہے۔

ایک ’نوآبادیاتی باشندہ‘ ہونا محض ایک نئی سیاسی شناخت نہیں جو استعماری طاقت نے اُس پر عائد کی ہے بلکہ یہ ایک پیچیدہ اور رفتہ رفتہ نفسیاتی مراحل سے گزر کر ایک نئی ’موضوعیت‘ اختیار کرنے کا عمل ہے۔نوآبادیاتی باشندوں کی ’موضوعیت‘ کا نقشہ باہر کے استعماری اور اجنبی ’دوسرے‘ وضع کرتی ہیں۔ وہ اس’موضوعیت‘ کی آرزو کرنے پر خود کو مجبور محسوس کرتے ہیں ___یہ موضوعیت مجموعی طور پر بیرونی دنیا کے ادراک اور نوآبادیاتی باشندے کی اندرونی و بیرونی دنیا کے درمیان ترجیحات اور تعلقات کے تعین کے لیے ایک حاکمانہ وقوفی طریقہ ہے۔ وہ ’غیر‘ سے حکم، ہدایت اور نصیحت لیتا ہے جو ہٹ دھرمی سے اُس کے اندر سکونت اختیارکر گئی ہے۔ اس طرح نوآبادیاتی باشندے اُن کے مقامی، اصلی، مستند شناخت سے بیگانگی کا شکار ہوتے ہیں۔

نوآبادیاتی باشندے کو نو آبادکار کے تخلیق کردہ ’حال‘ تک محدود رہنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر نوآبادیاتی ساخت میں ’حال‘ کو ایک خاص مقام اور لازمی استبدادی حیثیت حاصل ہے۔ نوآبادیاتی آقا اپنے محکومین کو یقین دلاتے ہیں کہ اُن کا ’سیاسی ماضی‘ ظالمانہ اور اُن کا ’ثقافتی ماضی‘ زوال پذیری میں لپٹا ہوا تھا جب کہ اُن کا ’حال‘ روشن خیالی، اصلاح، پیش رفت، ترقی، نئے تعلیمی نظامات اور آئینی اداروں سے مزین ہے۔ یہ سب ممکن بنایا جاتا ہے، نوآبادی خطے کی تاریخ کو دوبارہ لکھ کر اور اصلاحات کے ایک بڑے ایجنڈے کے ذریعے، تاکہ نوآبادی خطے کی عوامی رائے کو تبدیل کیا جاسکے۔

تاریخ کو دوبارہ لکھنے کا مقصد کچھ تو مکمل طو رپر ماضی کی یادوں کو مٹانا اور کچھ تاریخی واقعات، شخصیات اور اداروں کے بارے میں غلط بیانی کرنا ہے۔ ہمارے انگریز آقاؤں کی طرف سے ہندوستانی تاریخ کی جس طرح سے غلط تعبیر کی گئی ہے، اس کا طنزیہ اظہار شبلی نعمانی نے اپنی نظم ’ہمارا طرزِ حکومت‘ میں کیا ہے: [تم (برطانوی حکمران تاریخ نویسوں کے ساتھ) نے پوری کہانی (ہندوستان میں مسلم حکمرانی) میں سے صرف ایک چیز لی ہے: عالمگیر ایک ظالم، سنگ دل اور ہندوؤں کا قاتل تھا۔]

مقامی مصنفین کی کتابیں جلائیں یا اُن پر پابندی لگائی جاتی ہے اِس بہانے سے کہ وہ غیر اخلاقی، غیر شائستہ مواد پر مشتمل ہیں۔ اسی طرح نو آبادیوں کے نایاب مسودوں پر مشتمل کتب خانوں کو یورپ کے شاہی مرکز میں محفوظ کرنے کے نام پر جلایا یا لوٹا جاتا ہے۔ ماضی سے نفرت اور انقطاع نے (نو آبادیاتی باشندوں کے یہاں) ’نوآبادیاتی جدید‘ حال کی خواہش اور اس کی ستائش کی راہ ہموار کی۔

جیسا کہ جدیدیت کی بنیاد حال کی ستائش ہے۔نوآبادیاتی باشندے بھی اس سراب کا شکار ہوتے ہیں کہ وہ ایک جدید آدمی بننے کی راہ پر ہیں۔ جدیدیت کو اپنانا قریب قریب تمام نوآبادیاتی اور مابعد نوآبادیاتی لوگوں کے لیے مشکل رہا ہے۔ انقطاع کے سبب، جدیدیت اور نوآبادیت کے درمیان امتیاز کرنے والا منحنی خط دھندلا گیا ہے۔ جدید بننے کے لیے ماضی کی روایات سے انقطاع کا تجربہ ایک لازمی ضرورت ہے اور نوآبادیاتی لوگوں کو اپنے ماضی سے زبردستی منقطع اور الگ کیا گیا ہے جب کہ جدید لوگ خود اپنی مرضی اور اختیار سے روایتوں کی غلامی سے آزاد ہونے کے بعد حال کا جشن مناتے ہیں۔ جب کہ نوآبادیاتی باشندہ ’نوآبادیاتی حال‘ میں جکڑا ہوتا ہے اور خود کو اپنے ماضی سے منقطع اور منحرف کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہے۔

نوآبادیاتی باشندے، ان تجریدات، آئیڈیالوجیوں، روایات، علامات اور اشارات کی دنیا میں رہتے ہیں جنھیں ان کے آقاؤں نے تشکیل دیا ہوتا ہے۔ اُن کے جذبات، محبت، نفرت، وفاداری، مزاحمت یا مطابقت اِنھی تجریدات سے ماخوذ ہوتے ہیں۔ درحقیقت ’ماضی‘ اور ’حال‘ دونوں، اُن کے لیے تجریدی ہیں۔ حتیٰ کہ ماضی کے لیے اُن کی نفرت ایک ’حقیقی شے‘ نہیں۔ یہ ایک تصوراتی تشکیل دیا گیا ماضی ہے جو نفرت کا ’ہدف‘ بنتا ہے۔

نوآبادیاتی مغائرت، معاشرے اور ذہن کے استعمار زدہ کیے جانے کے مجموعی عمل کی پیداوار ہے۔ یہ لسانی، ثقافتی، تاریخی اور وجودیاتی سطح پر تجربہ کی جاتی ہے۔ اس لیے یہ زیادہ پیچیدہ اور متنوع طور پر تہ دار بن کر ظاہر ہوتی ہے۔ نوآبادیاتی باشندے اپنی زبان سے بیگانہ ہو جاتے ہیں۔ اوّل، اُن کی مقامی زبانوں کو نوآبادیاتی انتظامی، معاشی، تعلیمی نظام میں اہم کردار ادا کرنے سے محروم رکھا جاتا ہے…ایک ایسی پالیسی جس کا مابعد نوآبادیاتی دور میں بھی تسلسل جاری ہے۔ پھر وہ یقین قائم کرتے ہیں کہ مرکز کی زبان صرف انگریزی (ہے اور وہی) اس قابل ہے کہ حال یا نوآبادیاتی جدیدیت کے پیچیدہ تجربے کو سمجھ سکے یا اس کا اظہار کر سکے۔

کوئی بھی شخص مقامی زبانوں کے لیے اس مخفی اور بعض صورتوں میں کھلی نفرت کو آسانی سے محسوس کر سکتا ہے جو سامراجی زبان کے لیے پر جوش خواہش رکھنے والوں کے یہاں موجود ہوتی ہے ___یہ ایک مغائرت زدہ شخص کی واضح نشانی ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ وہ اکثر مقامی زبانوں کی محرومی پر افسوس یا مذمت سامراجی مرکز کی زبان (یعنی انگریزی میں) کرتے ہیں لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ وہ اِن مقامی زبانوں کو اپنے تخلیقی اور علمی اظہار کے لیے بھی استعمال کریں۔ استعماری طاقت سے آزادی کے بعد بھی سامراجی مرکز نوآبادیاتی مغائرت زدہ لوگوں کو متاثر کرنا جاری رکھتا ہے۔ وہ اسی مرکز کی طرف سے سراہے جانے، نوازے جانے اور تحسین کی خواہش رکھتے ہیں۔

نوآبادیاتی مغائرت زدہ باشندے تخلیقی و علمی مقاصد کے لیے اپنی مقامی زبانوں کے استعمال سے کیوں نفرت کرتے ہیں، اس کا جواب اس اعتقاد میں نہیں کہ یہ زبانیں ساخت کے لحاظ سے کسی نااہلی کی حامل ہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ کیسے اُن (مغائرت زدہ لوگوں) کا تشخص یا شعورِ ذات تشکیل پاتا ہے جب وہ یہ زبانیں استعمال کرتے ہیں۔ ہماری فردی حیثیت کا احساس زبان میں غیر فعال طور پر نہیں ہوتا بلکہ اس فعال تعلق میں تشکیل پاتا ہے جو وہ زبان قائم کرتی ہے اُس مخصوص لمحے کے ساتھ جب ہم اُس کے ذریعے ابلاغ کرتے ہیں۔

چناں چہ جب ہم انگریزی، اردو، سندھی، پنجابی، بلوچی، سرائیکی، براہوی، پشتو، بلتی وغیرہ میں اپنے جاننے والوں یا اجنبیوں کے ساتھ یونیورسٹی کیمپس میں، کانفرنسوں، میڈیا، تعلیمی اداروں، ریسٹورنٹ، شاپنگ مال یا گھروں اور بیرونِ ملک بات چیت کرتے ہیں تو زبان کی تبدیلی کے ساتھ ہی) ہمارے فرد ہونے کا احساس بدل جاتا ہے۔ سوائے اپنے گھروں کے، مقامی زبان میں بات چیت کرنے والوں کا احساس انفرادیت، مغائرت میں ملفوف ہوتا ہے۔

منیر نیازی کی نظم ’اک اور بھی گھر تھا میرا‘ اُس متنوع تہہ دار اجنبیت کو بیان کرتی ہے جس کو سہنا نوآبادیاتی باشندے کا مقدر ہے۔ اس کا بیان کنندہ ایک غیر انسانی شے کے طور پر اُبھرتا ہے جو گھر، خاندان، تاریخ، ثقافت اور ذاتی انفرادی حیثیت کے احساس سے محروم ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

اک اور گھر بھی تھا مرا
جس میں میں رہتا تھا کبھی
اک اور کنبہ تھا مرا
بچوں بڑوں کے درمیاں
اک اور ہستی تھی مری
کچھ رنج تھے کچھ خواب تھے
موجود ہیں جو آج بھی
وہ گھر جو تھی بستی مری
یہ گھر جو ہے بستی مری
اس میں بھی تھی ہستی مری
اس میں بھی ہے ہستی مری
اور میں ہوں جیسے کوئی شے
دو بستیوں میں اجنبی
۔۔۔۔۔۔۔
(دی نیوز)

Facebook Comments

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply