ہم کو پھر انتظارِ ابابیل ہے

لاہور، کوئٹہ، پشاور، مہمند ایجنسی اور اب سہون شریف، چار دن، پانچ دھماکے اور درجنوں لاشیں۔۔۔
کہاں لے جاؤں یہ فریاد مولا
میرا بصرہ۔۔۔۔میرا بغداد مولا
میرے لاہور پر بھی اک نظر
تیرا مکہ رہے آباد مولا
یہ شعر بہت طوالت اختیار کر جائے گا اگر اِس میں میں کوئٹہ کا بھی نوحہ لکھوں، اگر اِس میں پشاور اور مہمند ایجنسی کے رستے لہو کا بھی ذکر کروں، اگر اِس میں سیہون شریف کی لاشوں کا بھی ماتم کروں، اپنے زخم زخم گلی کوچوں، بازاروں اور عبادت گاہوں کا بھی گریہ کروں۔ شاید میں یہ کرنے کی جسارت کر بھی لیتا لیکن یہ شعر میرا نہیں ہے لیکن میرے جذبوں کا عکاس ضرور ہے۔
دہشت گردی کی تازہ و تیز لہر نے ہر ایک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، شاید اس لیے بھی کہ دو ڈھائی سال کے نسبتاً پُرامن دور کے بعد یکے بعد دیگرے بڑے پیمانے پر دہشتگرد ایک بار پھر دندناتے اور ہمارے سینوں پر مونگ دلتے پھر سے متحرک ہو گئے ہیں۔ ہم لاکھ باہر کی دنیا پر الزام لگائیں لیکن جب تک ہم اپنی اداؤں پر غور نہیں کریں گے اور جب تک اپنے گھر کی حالت کو درست نہیں کریں گے، یہ سب ہوتا رہے گا۔ وقتی طور پر کیے گئے فیصلوں سے گند قالین کے نیچے تو چھپایا جا سکتا ہے لیکن نتیجہ خیز اقدامات تک اہداف کو حاصل کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ ہم اپنی اور پرائی جنگ کی بحثوں میں الجھے رہے اور دشمن اپنی کاروائیاں کرتا رہا۔ ہم اچھے اور بُرے طالبان میں تمیز کرتے رہے اور دشمن تاک تاک کر نشانے لگاتا رہا۔ ہم بیانیہ اور جوابی بیانیہ کھیلتے رہے اور دشمن ہمارے بچوں اور جوانوں کی زندگیوں سے کھیلتا رہا۔ ہم اداروں کی بجائے افراد کو مضبوط کرتے رہے اور دشمن ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتا رہا۔ ہم یہ بحث کرتے رہے کہ خودکش غیر ملکی تھا یا مقامی کرائے پہ لیا گیا تھا اور دشمن ہمیں لہولہان کرتا رہا، یہاں تک کہ سانحہ اے پی ایس رونما ہو گیا جسکے بعد دہشتگردی کیخلاف جنگ پر اتفاقِ رائے "حاصل" کر لیا گیا، میں نے اُس وقت بھی لکھا تھا اور اب بھی دہرا رہا ہوں کہ وہ اتفاقِ رائے زبردستی حاصل کیا گیا تھا۔ جنرل راحیل شریف کی بارعب شخصیت کے سامنے شاید کوئی بھی اختلاف کی جرات نہیں کر پایا تھا۔ اِسی لیے جنرل راحیل کے رخصت ہوتے ہی وہ اتفاقِ رائے ریت کی دیوار کی طرح بیٹھ گیا۔ کئی مہینے گزر جانے کے باوجود فوجی عدالتوں میں توسیع کا معاملہ نمٹایا نہیں جا سکا۔ اگر فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ اُس وقت درست تھا تو اب نادرست کیسے ہے جبکہ حالات ایک بار پھر اُسی نہج پر جاتے نظر آرہے ہیں۔ اتفاقِ رائے سے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان کے خلاف بھی اب اعلانیہ کہا جا رہا ہے کہ ہم اُس کی حمایت نہیں کر سکتے۔ میں نے نیشنل ایکشن پلان کے نکات کو ابھی ازسرِنو بھی دیکھا ہے، اُن میں ایسی کوئی بات مجھے نظر نہیں آئی کہ جس کی مخالفت کی جا سکے۔ یہ مخالفت کھل کے اُسی حلقے کی طرف سے کی جا رہی ہے جس کے سپرد کشمیر کمیٹی ہے، جس نے آج تک کھل کر کشمیر میں جاری بھارتی ظلم وستم پر آواز نہیں اٹھائی۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ کشمیر میں ظلم کے پہاڑ توڑنے والے ہی اپنے وطن میں جاری دہشت گردی میں بھی ملوث ہیں اور اگر اُن کے خلاف زبان کھولی تو پھر اکھنڈ بھارت کے نظریے کا کیا ہو گا۔
جنرل راحیل شریف کی متحرک شخصیت کے بعد آنے والے کئی آرمی چیف شاید اپنا امیج اُس طرح نہ بنا پائیں جس طرح کا نظر آنا چاہیے۔ موجودہ آرمی چیف کی شہرت اچھی بتائی جاتی ہے لیکن سابق آرمی چیف نے تحرک، سرگرمی اور رعب داب کا جو پیمانہ مقرر کر دیا ہے وہ شاید ابھی تک اس پیمانے پر پورا اترتے نظر نہیں آرہے۔ دوسری طرف وزارتِ داخلہ گومگو کی کیفیت کا شکار ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کیلیے قائم کیا گیا ادارہ نیکٹا ابھی تک عملاً غیر فعال ہے۔ دہشتگردی کے تانے بانے مذہبی مدارس سے جوڑے جاتے ہیں، کچھ عرصہ قبل وزیرِداخلہ نے فرمایا کہ صرف دس فیصد مدارس دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اربابِ اختیار اور مقتدر ادارے قوم کو کنفیوژن میں مبتلا کیوں رکھتے ہیں؟ وہ اُن دس فیصد مدارس کی نشاندہی کیوں نہیں کرتے جن کی وجہ سے سارے کا سارا مذہبی طبقہ بدنام ہو رہا ہے؟ وزارتِ خارجہ کو چلانے والا کوئی وزیر ہی نہیں ہے جو اِن واقعات میں ملوث بیرونی قوتوں کے ہاتھ کی نشاندہی کر کے پاکستان کا مقدمہ پیش کر سکے اور رہے ہمارے وزیرِاعظم تو وہ فیتے کاٹنے اور سیاسی مخالفین پر برسنے سے ذرا فرصت پائیں تو شاید اِن واقعات مین ملوث قوتوں کو بے نقاب کرنے کیلیے لب کشائی کر سکیں۔ تب تک آئیے جس دہائی سے آغاز کیا تھا اُسی دہائی پر اختتام کریں، اپنے رب سے فریاد کریں، اُسی کے آگے ہاتھ پھیلائیں، اُسی کی چوکھٹ پہ پیشانیاں رگڑیں، اُسی کے سامنے گڑگڑائیں اور پکاریں کہ
کیا وہ لمحہ بھی تیری ہی تخلیق تھا!
جس گھڑی میرے شہروں کی بستی ہوئی بستیاں
قتل کر دی گئیں
خوں سے بھر دی گئیں
اور اے لامکانوں کے تنہا مکیں!
تیرے گھر کو گرانے جو آیا کوئی
تو پرندے پیامِ اجل بن گئے
اور میرے شہر میں
کتنے آباد تھے جو مکاں جل گئے
اور پرندوں کے سب آشیاں جل گئے
ابرہہ اور اُس کے سبھی لشکری
تیرے در سے جو ناکام لوٹے تو کیا
میرے شہروں پہ یوں آ کے وارد ہوئے
ہم زمیں زاد لوگوں کے گھر لُٹ گئے
آشیاں گر پڑے اور شجر لُٹ گئے
ربِ کعبہ تجھے تیرے گھر کی قسم
جو سلامت رہا اور سلامت رہے
تا قیامت رہے
میرے برباد شہروں کی فریاد سُن
ابرہہ کا جہاں لشکرِ فیل ہے
ہم کو پھر انتظارِ ابابیل ہے۔۔۔

ہارون الرشید
ہارون الرشید
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *