• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • امریکہ کو پاکستان کے حوالے سے جلدی کیا ہے؟۔۔ثاقب اکبر/آخری حصہ

امریکہ کو پاکستان کے حوالے سے جلدی کیا ہے؟۔۔ثاقب اکبر/آخری حصہ

جمعرات 21 دسمبر2017ء کی رات امریکی نائب صدر مائیک پینس غیر اعلانیہ طور پر افغانستان پہنچے۔ انہوں نے بگرام ایئر بیس پر امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس جنگ کو اپنی شرائط کے ساتھ جیتنے کا عزم کر رکھا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے پاس امریکہ کے ساتھ شراکت کی صورت میں بہت کچھ حاصل کرنے کو ہے اور دہشت گردوں، جرائم پیشہ افراد کو پناہ دینے کے سلسلے کو جاری رکھنے پر بہت کچھ کھونے کو ہے۔ یہ وہی لہجہ ہے، جو اس سے پہلے صدر ٹرمپ اختیار کرچکے ہیں۔ انہوں نے نئی امریکی سکیورٹی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف فیصلہ کن ایکشن لے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے حوالے سے مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے یکطرفہ طور پر مفروضہ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کی دھمکی بھی تھی۔ قبل ازیں امریکی کانگریس میں پاکستان کو دہشت گردی کا کفیل ملک قرار دینے کا مطالبہ بھی کیا جاچکا ہے۔ ان تمام بیانات اور مطالبات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کھلے بندوں پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں دینے لگا ہے۔ امریکی راہنماﺅں کے بیانات میں یہ گویا طے کر لیا گیا ہے کہ پاکستان میں ”دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں“ موجود ہیں، لہٰذا ان کے خلاف پاکستان نے فیصلہ کن ایکشن نہ لیا تو پھر امریکہ یہ ایکشن لے گا۔ اتنی واضح اور دوٹوک دھمکیاں امریکہ نے پاکستان کو پہلے کبھی نہیں دی تھیں۔

شاید ہمارے کچھ دانشور اور سیاستدان ان دھمکیوں کو ابھی سنجیدہ نہ لیتے ہوں، لیکن پاکستان میں اب ذمہ دار حلقے انہیں بہت حد تک سنجیدہ لینے لگے ہیں۔ پاکستان، روس اور چین کے مابین کئی ایک بیٹھکیں ہوچکی ہیں۔ حال ہی میں ایک نشست چین، پاکستان اور افغانستان کے مابین بھی ہوئی ہے۔ پاکستان، روس، چین اور افغانستان کی مشترکہ نشستیں بھی ہوچکی ہیں۔ ابھی حال ہی میں اسلام آباد میں 24 دسمبر کو ختم ہونے والی پہلی چھ ملکی سپیکرز کانفرنس کو بھی اسی پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، جس میں پاکستان، چین، روس، ترکی، ایران اور افغانستان نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کے اعلامیہ میں علاقائی سالمیت، خود مختاری اور آزادی کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کا تعلق کسی مذہب، قومیت، تہذیب، ثقافت یا نسلی گروپ کے ساتھ نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ دہشت گردی ہمارے ممالک سمیت پوری دنیا کے لیے مشترکہ خطرہ ہے۔ اس اعلامیہ کے علاوہ مذکورہ نشستوں کے اعلامیوں میں یہ بات جھلکتی ہے کہ اس خطے کی حکومتیں دہشت گردی اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے بارے میں وہ نقطہ نظر نہیں رکھتیں، جو امریکی حکام ظاہر کر رہے ہیں۔ تاہم امریکہ یکے بعد دیگرے پاکستان کے خلاف اپنے الزامات دہرائے چلا جا رہا ہے اور پاکستان کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے رہا ہے۔ اسی طرح کے بیانات بھارت کی طرف سے آرہے ہیں اور وہ بھی پاکستان کے خلاف یکطرفہ اسٹرائیکس کی دھمکیاں دے رہا ہے، بلکہ وہ کھلے عام جنگ کی دھمکیاں بھی دینے لگا ہے۔ اسی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں کہ امریکہ کو پاکستان کے حوالے سے جلدی کیا ہے۔

امریکہ دراصل افغانستان میں ایک لحاظ سے تو ناکام ہوچکا ہے، کیونکہ وہ طالبان کی قوت کو ایک لاکھ پینسٹھ ہزار فوجیوں کے ساتھ مل کر ختم نہیں کرسکا۔ طالبان افغانستان میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہوچکے ہیں۔ اب اگر امریکہ افغانستان میں مزید رہنا چاہتا ہے تو اسے صورتحال کو سنگین بیان کرنا ہے اور اس سنگینی کا الزام کسی نہ کسی پر لگانا ہے، اس کے لئے اس کے پیش نظر سب سے آسان ہدف پاکستان ہے۔ مشرق وسطٰی میں کئی ایک بازیاں ہار جانے کے بعد امریکہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے درپے ہے، ناکامی کا تاثر اس کے لئے زوال آفریں ہوسکتا ہے بلکہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اسے جلد از جلد کسی محاذ پر کامیابی درکار ہے۔ اگرچہ ایسی کسی کوشش میں وہ مزید رسوا بھی ہوسکتا ہے، لیکن ابھی تک امریکی اسٹیبلشمنٹ ذہنی طور پر کوئی متبادل اور محتاط راستہ اختیار کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتی۔ اس کے پیش نظر ہے کہ جنوبی ایشیاء میں بھارت جیسی ایک بڑی فوجی طاقت کی حمایت اسے میسر ہے، وہ اس سے استفادہ کرکے اپنے بعض استعماری مقاصد کو آگے بڑھا سکتی ہے۔ سی پیک کے خلاف امریکہ اور بھارت ایک جیسے بیانات دیتے آرہے ہیں، لیکن بیانات کے ذریعے وہ اس منصوبے کی پیش رفت کو نہیں روک سکتے۔

اگر پاکستان کی سرزمین خطرے میں ہو، خاص طور پر پاکستان کو اپنے مشرق و مغرب میں شدید خطرات لاحق ہو جائیں تو پاکستان کی اقتصادی ترقی مزید متاثر ہوسکتی ہے اور چین اپنی بھاری انوسٹمنٹ کے حوالے سے اپنے منصوبوں پر نظرثانی کرسکتا ہے۔ سی پیک مکمل ہونے کے بعد شاید امریکہ اور بھارت کے نزدیک بہت دیر ہوچکی ہو، اس لئے دونوں ممالک بے چین دکھائی دے رہے ہیں۔ چین اور روس سے پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات اور دونوں بڑی طاقتوں کے عالمی سطح پر زیادہ کامیابی سے سامنے آنے کے بعد امریک کے لئے ”انا ولا غیری“ کا مرتبہ باقی نہیں رہ سکے گا۔ دنیا پھر سے ملٹی پولر ہوتی جا رہی ہے۔ چین کی اقتصادی ترقی اور روس کی کئی گرم محاذوں پر امریکہ کے مقابلے میں کامیابی نے امریکی منصوبہ سازوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ اس کا توڑ کرنے کے لئے جہاں دیگر محاذوں پر امریکہ سرگرم عمل ہے، وہاں وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان چین کے ساتھ ساتھ اب روس سے بھی زیادہ قریب ہو جائے، کیونکہ روس سے قریب ہونے کا مطلب بہرحال امریکی کیمپ سے دور ہونا ہے۔ ابھی تک پاکستان اپنے فوجی وسائل کے اعتبار سے امریکہ پر زیادہ انحصار کرتا ہے، فوج اپنے جدید اسلحے اور اس کی مینٹیننس کے لئے امریکہ اور مغرب پر انحصار کرتی ہے۔ یہ انحصار اگرچہ کسی حد تک کم ہوچکا ہے، لیکن پورے نظام کی تبدیلی کے لئے ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان کو یہ موقع فراہم کیا جائے کہ وہ اپنی پوری جنگی مشینری کے لئے متبادل نظام تشکیل دے لے۔

ان تمام تر حقائق کو سامنے رکھنے سے یہ صورت حال واضح ہو جاتی ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے حوالے سے جلدی کیا ہے اور کیوں ہے۔ تاہم امریکہ اگر جلدی میں ہے تو پاکستان اور علاقے کی دیگر قوتیں بھی اس سے غافل نہیں ہیں۔ وہ امریکہ کو کسی صورت میں فری ہینڈ نہیں دے سکتیں۔ امریکہ آنکھیں بند کرکے پاکستان پر یلغار نہیں کرسکتا۔ پاکستان افغانستان، شام یا عراق بھی نہیں، بلکہ ایک بڑی فوجی اور جوہری طاقت ہے۔ اس کے خلاف کوئی بڑی کارروائی کرنے سے پہلے امریکہ کو سو مرتبہ سوچنا ہوگا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کی فضائیہ کے سربراہ نے امریکی ڈرون طیاروں کو مارگرانے کی بات کی ہے۔ پاکستان کے ذمہ دار حکام ان دنوں امریکہ کے بارے میں جیسی جرات مندانہ باتیں کر رہے ہیں، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ حال ہی میں سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے بھی امریکہ کے خلاف بہت کھل کر بیان دیا ہے۔ یقینی طور پر فوج کے اندر مختلف رینکس پر صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہوگا اور ماضی کے تجربات و روابط کو سامنے رکھ کر نئی پالیسیاں بن رہی ہوں گی۔ بیرون ملک تربیتی کورسز کے نظام میں بھی تبدیلی متوقع ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بس پہلا جرات مندانہ اقدام ہی پاکستان کی کامیابی کا نقطہ آغاز اور امریکہ کی ناکامی کا سرعنوان بن جائے گا۔ دیکھیں کامیابی کے سفر کے لئے جرس کاروان کس کے ہاتھوں گونجتی ہے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *