کل کیا ہوگا؟-ڈاکٹر حفیظ الحسن

ہر روز آنکھیں بند کرنے سے قبل ہم شعوری یا لاشعوری طور پر یہ سوچتے ہیں کہ کل کیا ہو گا؟کیا ہم کل کا سورج دیکھ پائیں گے؟ کیا ہم آنے والا دن بنا کسی مصیبت، پریشان کے گزار سکیں گے؟ یہ سوال انسانی تاریخ کا ایک اہم سوال ہے۔ آپ آج سے ہزاروں برس قبل غار کے دور میں چلے جائیں اور وہاں غاروں میں بستے، جانور سے ڈرتے اور شکار کرتے انسانوں سے پوچھیں تو وہ بھی یہی سوال کریں گے جو آج آپ اپنے نرم بستر پر سمارٹ فون ہاتھ میں پکڑے نیند سے کچھ پہلے سوچ رہے ہوتے ہیں۔ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سوال سے ہماری بقا جڑی ہے۔ مستقبل کو جاننا، بقا کی ضمانت۔ ہم کیوں نہیں چاہیں گے کہ کسی حادثے سے پہلے ہی ہمیں حادثے کی خبر ہو تاکہ ہم بچ جائیں، پناہ لے لیں ، محفوظ ہو جائیں۔

ہر شخص کے کچھ خواب اور خواہشات ہوتی ہیں۔ ہر شخص کچھ اُمیدوں کے ساتھ جیتا ہے۔ کسی کو محبوب سے ملنے کی اُمید ہے تو کسی کو دو وقت کی روٹی کی، کسی کو ایسے مکان کی اُمید ہے جسے وہ گھر کہہ سکے تو کسی کو اولاد کی۔ کسی کو دولت ملنے کی اُمید ہے تو کسی کو صحت کی۔ کوئی دن پھرنے کا انتظار کرتا ہے تو کوئی محبوب کا۔ ہر انسان بھلے وہ امیر ہو یا غریب، مشہور ہو یا گمنام، غم میں ہے یا خوشی میں، حقیقت میں ہو یا افسانے میں، اُمید کے سہارے جیتا ہے۔

ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اُسے کسی طرح مستقبل کا علم ہو کہ آنے والے وقت میں اُسکے ساتھ کیا ہو گا۔ کیا وہ دکھ درد اور تکلیف میں ہو گا یا اُسے خوشیاں نصیب ہونگی، کیا اُسکے پیارے اُسکے ساتھ ہونگے یا اُس سے جدا۔ کیا وہ زندہ رہے گا یا وقت سے پہلے ہی مر جائے گا؟

ہم سب دراصل یہ سوال اس لیے کرتے ہیں کہ ہمارے لاشعور میں موت چھپی ہے۔ اگر کل کو موت ختم ہو جائے تو کیا ہم یہ سوال کریں گے؟ یقیناً نہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہونگے کہ جو ہو جائے ہم نے مرنا نہیں۔ تو اس سوال کا کیا مقصد کہ کل کیا ہو گا۔ کل جو بھی ہو ہم نے تو زندہ ہی رہنا ہے۔

ہم آج تک موت سے چھٹکارا نہیں پا سکے گو ہم نے سائنس کے ذریعے انسانی زندگی کو طوالت اور سہولت بخشی ہے۔ آج ایک عام انسان چند سو سال قبل کے انسانوں سے لمبی اور صحت مند زندگی گزار رہا ہے۔مگر موت کو پھر بھی ختم نہیں کیا جا سکا۔ کم سے کم موجودہ تاریخ میں ہمیں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی انسان نے موت سے نجات حاصل کر لی ہو۔

ہم اس زمین پر رہتے ہیں۔ یہ زمین کائنات کے کھرب ہا کھرب ستاروں میں سے ایک معمولی ستارے کے گرد گھومتی ہے۔ یہ سورج ہے جو پچھلے 4.6 ارب سال سے دہک رہا ہے ہمیں زندگی کی نوید دیتا ہے۔ زمین پر ہم جو خوراک کھاتے ہیں اسے بنانے میں بلواسطہ یا بلاواسطہ سورج کی توانائی ہی شامل ہے۔ آپ گوشت خور ہیں یا سبزی خور دونوں خوراکوں کے لیے سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کی گئی۔ آپ موٹرسائیکل چلاتے ہیں یا گاڑی ان دونوں میں جلنے والا پیٹرول کروڑوں سال قبل پودوں اور جانوروں کے زمین کی تہوں میں حدت اور دباؤ میں رہنے سے بنا۔

مگر یہ سورج بھی ہمیشہ نہیں رہے گا۔ آج سے دس ارب سال بعد سورج ایک پلینٹری نبیولا کی شکل اختیار کر چکا ہو گا جو دراصل خلائی گرد اور گیسوں کا مجموعہ ہو گا جو شاید اتنا مدہم ہو کہ کائنات کی وسعتوں میں اسے دیکھا بھی نہ جا سکے۔ یہ گرد سورج اور نظامِ شمسی کے چار بڑے سیاروں عطارد، زہرہ، زمین اور مریخ کا قبرستان ہو گی کہ سورج اس انجام سے پانچ ارب سال پہلے ہی ریڈ جائنٹ بن کر اپنی موجودہ جسامت سے کئی گنا بڑا ہو چکا ہو گا۔ اور یہ ان سیاروں کو ہڑپ کر چکا ہو گا کہ یہ مریخ کے مدار تک پھیل چکا ہو گا۔ اس موقع پرمشتری، زحل اور نیپچون پھر بھی شاید سورج کے گرد مدار میں گردش جاری رکھیں گے مگر یہ سلسلہ بھی ایک روز ختم ہو جائے گا اور مشتری اور اسکے باہر کے تمام سیارے سورج سیاں کی گرفت سے آزاد ہو کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خلا کی وسعتوں میں بھٹک جائیں گے۔ مشتری وہ واحد سیارہ ہو گا جو آخر تک مرتے سورج کا ساتھ نبھائے گا کہ یہ نظامِ شمسی کا سب سے بڑا سیارہ ہونے کے باعث مضبوط کششِ ثقل رکھتا ہے مگر یہ بھی مستقبل بعید میں کسی روز پاس سے گزرتے کسی دوسرے ستارے کی ٹھوکر سے سورج کو خیر آباد کہہ دے گا۔ ہم اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ تب تک شاید ہم مشتری کے کسی چاند پر جا بسیں مگر سورج تب تک اتنا ٹھنڈا ہو چکا ہو گا کہ اسکی توانائی سے زندگی برقرار رکھنا ناممکنات میں سے ہو گا۔

تاہم ایک بات تو طے ہے کہ ہمیں زمین پر زندگی کے ختم ہونے کا پانچ ارب سال انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ انسانوں کے پاس اس زمین پر بمشکل محض 1 ارب سال بچا ہے۔ ایسا اس لیے کہ سورج کی حدت اور روشنی دن بدن بڑھ رہی ہے۔ سورج کی روشنی ہر ایک ارب سال بعد 10 فیصد بڑھ جاتی یے۔ 10 فیصد اضافے کا مطلب زمین پر اس قدر گرمی کہ یہاں موجود سمندروں میں تمام پانی جو زندگی کی بقا کے لیے ضروری یے، بھاپ بن کر اُڑ جائے۔
ایسا ممکن ہے کہ ہم سورج کے انجام سے قبل کسی اور ستارے پر کوئی اور زمین جیسا ڈھونڈ لیں اور وہاں جا بسیں۔ مگر یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

ہم جس نظامِ شمسی سے باہر جس زندگی بسانے جس سیارے پر بھی چلے چائیں، بالآخر اس سیارے کا انجام بھی زمین جیسا ہی ہو گا۔ ہمارا مقدر خلا کی گرد میں تبدیل ہونا ہے۔ ہمیں پھر سے ایٹموں کی صورت کائنات میں بکھرنا ہے۔ مگر یہ ایٹم کسی اور سیارے پر کسی اور مخلوق میں بدل سکتے ہیں۔ گو ہمارے ایٹم یہ نہیں جان سکیں گے کہ وہ ماضی میں زمین پر ہمارے وجود کا حصہ تھے کہ ایٹم شعور نہیں رکھتے۔جیسے ہم یہ کبھی نہیں جان سکتے کہ ہمارے ایٹم شاید ہم سے پہلے کائنات کے کسی سیارے پر بسی مخلوق کا حصہ رہے ہوں۔ وہ مخلوق اگر انسانوں جیسی ہو تو انکی صنفِ نازک کی بالیوں میں ہمارے ایٹم ہوں، یا مہندی لگے ہاتھوں میں، یہ بالوں میں لگے پھول میں۔ (ویسے یہ بھی ممکن ہے کہ ہمارے ایٹم کسی کے ڈائپر یا خیر چھوڑیں)۔

کائنات ایک ری سائیکلنگ فیکٹری ہے جہاںمادہ اور توانائی ایک وجود سے دوسرے وجود میں منتقل ہوتے ہیں۔ ایٹم ایک وجود سے دوسرے وجود کا حصہ بنتے ہیں۔ ہم میں موجود تمام ایٹم ہم سے اربوں سال پہلے کے ستاروں میں بنے ہیں۔ ایسا ممکن ہے کہ ہمارے دائیں ہاتھ کے ایٹم اور بائیں ہاتھ کے ایٹم ماضی کے دو مخلتف ستاروں میں بنے ہوں جنکے درمیان ہزاروں نوری سالوں کا فاصلہ ہو۔ اتنا فاصلہ کہ جسے ہم عمرِ خضر میں بھی طے نہ کر پائیں مگر انکے ایٹم اب وقت کی موج پر بہتے، کائنات کی وسعتوں کو عبور کرتے اب اتنے قریب ہوں کہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کے فاصلے پر۔

آپ جب آج رات کو یا کبھی آسمان پر ستاروں کو دیکھئے گا تو اُس لمحے یہ ضرور سوچیے گا کہ آپ کائنات کا ماضی تو دیکھ ہی رہے ہیں کہ یہ ستارے آپ سے ہزاروں نوری سال دور ہیں اور انکی روشنی آپ تک پہنچنے میں ہزاروں سال لگ چکے ہیں مگر اسکے ساتھ ہی ساتھ آپ ان ستاروں میں اپنا ماضی اور اپنا مستقبل دونوں ہی بیک وقت میں دیکھ رہے ہیں۔ ماضی یوں کہ آپ کے عناصر انہیں ستاروں میں بنے ہیں اور مستقبل ایسے کہ آپ کے وجود کے ایٹموں نے مستقبل میں انہیں ستاروں میں سے کسی ایک ستارے کے گرد گھومتے زمین جیسے سیارے پر بستی مخلوق کے وجود کا حصہ ہونا ہے۔ ہے ناں یہ خیال پرمسرت اور دلفریب!!!

Advertisements
julia rana solicitors london

زندگی کو قیمتی جان کر خوش رہیں، پر اُمید رہیں۔ ہمارا مستقبل ستاروں کی طرح روشن اور خوبصورت ہے۔ 🙂

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply