صوفی عبداللہ، بینی عیسائی اور ہیپی نیو ائیر۔۔شاہد خیالوی

SHOPPING

گاؤں میں بابا جی صوفی عبداللہ کی آمد کے چرچے تھے، تمام لوگ مسجد کی طرف جا رہے تھے. بینی عیسائی کے دل میں پتا نہیں کیا آیا کہ وہ بھی بابا جی کو دیکھنے مسجد چلا گیا اور ہجوم سے چھپ کر کھڑا ہو گیا. بابا جی تشریف لائے ہجوم میں سے راستہ بناتے اپنی خاص نشست پر تشریف فرما ہوئے دفعتاً ان کی نظر بینی پر پڑی. بابا جی اپنی جگہ سے اٹھے بینی کے پاس گئے اسے ستون کے پیچھے سے نکالااور اس کا ماتھا چوم لیا. گاؤں کے نمبردار نے کراہیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “بابا جی ایہہ عیسائی اے تسی ایہدا متھا کیوں چمیا” اور ساتھ ہی اپنے چیلوں سے بینی کو مسجد سے نکالنے کو کہا، بابا جی جلال میں آئے اور نمبردار سے کہا، “تو مینوں دس تو پورا مسلمان آں” بابا کی یہ بات سن کر بینی بولا بابا جی اگر اسلام وہ ہے جس کا نمونہ نمبردار نے پیش کیا تو میں عیسائی بھلا اور اگر اسلام یہ ہےجو آپ نے پیش کیا تو مجھے مسلمان کیجیے.بابا جی نے کہا، بیٹا یہ درویشوں کا اسلام ہے وہ زور آوروں کا اسلام. بینی نے کہا پھر مجھے درویشوں کے اسلام میں داخل کر لیجیے اور کلمہ پڑھائیے.

میری کرسمس نا کہو اس کا مطلب ہے خدا نے بیٹا جنا، نئے سال کی مبارکباد نہ دو اس سے آپ کے یہودی یا نصرانی ہونے کا خطرہ ہے، یہ نہ کرو، وہ نہ کرو. عجیب گھٹن کی صورتحال ہے. یہود و نصاری کے موبائل پر یہود و نصاری کی طرف سے بنائی گئی پورن دیکھنا کیسا ہے حضرت؟
ایک پکے ٹھکے مہتمم مسجد تھے کسی لڑکی سے تیسری شادی کی۔ چوتھے دن طلاق دی اور یہ جا وہ جا. میں نے پوچھا، “طلاق کیوں دی” کہنے لگے، “مجھے اس سے بڑی عجیب سی سمیل آئی اس لیے” . خیر دوسرے یا چوتھے دن میں قرآن کی تلاوت کر رہا تھا تو وہ حضرت آئے اور فرمایا جناب آپ کو اجر نہیں مل رہا بلکہ گناہ ہو رہا ہے کیونکہ آپ قرآن کی درست تلاوت نہیں کر رہے.ان کی اس “سمیل” نے مجھے بہت تکلیف دی
رہی بات نیو ائیر کی خوشی، سالگرہ منانا یا میری کرسمس کہنا حضور اسے بین المذاہب ہم آہنگی کے کھاتے میں ڈال کر صرف نظر کیجیے.

SHOPPING

یہود نصارٰی اس تہذیب کے مؤسس ہیں جس میں تانبہ باتیں کرتا ہے، شیشہ دیکھتا ہے اور اس شیشے کی پشت پر کچھ تانبہ لگا کر ان مناظر کو نہ صرف محفوظ کیا جاتا ہے بلکہ دور دراز تک پہنچایا جاتا ہے.مریخ پر انسان کو بسانے کی بات ہو رہی ہے، آرگن ٹرانسپلانٹ بہت پہلے کا شروع ہو چکا. ہیڈ ٹرانسپلانٹ کی باتیں ہو رہی ہیں. اور ہمارے ہاں سائنس نے کیا ترقی کی کہ پیر اپنے مرید کو پمبیری بنا کے چھوڑ دیتا ہے.، انگلیوں سے کرنٹ مارتا ہے. ہمیں چاہیے کہ ان سے یہ سب سیکھ کے ان علوم کو بڑھاوا دیں. یہی ایک صورت ہے غلبے کی ورنہ غلامی کے پھندے مزید گہرے ہوں گے۔

SHOPPING

Avatar
شاہد خیالوی
شاہد خیالوی ایک ادبی گھرا نے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ معروف شاعر اورتم اک گورکھ دھندہ ہو قوالی کے خالق ناز خیالوی سے خون کا بھی رشتہ ہے اور قلم کا بھی۔ انسان اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور خالق کا شاہکار ہے لہذا اسے ہر مخلوق سے زیادہ اہمیت دی جائے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا لیا تو قلم کوآسودگی نصیب ہو گی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *