• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جنین کی مزاحمت اور اسرائیلی پسپائی/ڈاکٹر ندیم عباس

جنین کی مزاحمت اور اسرائیلی پسپائی/ڈاکٹر ندیم عباس

اسرائیل پوری طاقت سے جنین پر حملہ آور ہے، اس حملے کو بیس سال کا سب سے بڑا حملہ کہا جا رہا ہے۔ دراصل جنین اب مزاحمت کا مرکز بن چکا ہے، یہاں نئی نسل پروان چڑھ چکی ہے، جسے نہ بین الاقوامی برادری پر اعتماد ہے اور نہ ہی وہ فلسطینی اتھارٹی کو اپنا نمائندہ سمجھتی ہے۔ عوامی حمایت سے محروم فلسطینی اتھارٹی محمود عباس کی قیادت میں دن بدن سکٹرتی جا رہی ہے۔ اس نسل نے سوائے مایوسی کے کچھ نہیں دیکھا۔ یہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی زمینوں پر دن رات بلند و بالا عمارتیں کھڑی ہو رہی ہیں اور وہاں پوری دنیا سے انتہاء پسندوں کو لا کر آباد کیا جا رہا ہے۔ چند دن پہلے ایک تنازع کے بعد ان انتہاء پسندوں نے جنین پر حملہ کیا اور قریبی قصبے ترمسایا میں مکانات کو مسمار کیا اور کاروں کو جلا دیا۔ 2002ء میں بھی جنین مزاحمت کا مرکز تھا، جب اہل جنین نے پوری قوت سے اسرئیلی جبر کو برداشت کیا۔

جنین کوئی بڑا علاقہ نہیں ہے، محض آدھے مربع کلومیٹر سے بھی کم رقبے والے علاقے میں چودہ ہزار افراد رہتے ہیں۔ جب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہم تو ایک جیل میں محصور کر دیئے گئے ہیں اور ہماری زمینوں پر ہمیں نہیں جانے دیا جا رہا تو یہ اپنی زمین کی واپسی کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ان میں جرات ہے، یہ بے خوف ہوچکے ہیں، ابھی اسرائیلی حملے کی ویڈیو دیکھ رہا تھا، ایک دس پندرہ سال کا بچہ دیوھیکل اسرائیلی بلڈوزر کو پتھر مار کر اپنی نفرت کا اطہار کر رہا ہے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اس پتھر مارنے پر اس کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں اسے بیس سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والے تو خاموش ہی رہتے ہیں، یہ قانون صرف اہل فلسطین پر اپلائی ہوتا ہے، کوئی اسرائیلی ایسا کرے تو اس پر اس قانون کا کوئی اطلاق نہیں ہوگا۔

اسرائیلی فوج جنین میں جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے اور بڑے پیمانے پر ایمولینسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ زخمی فلسطینیوں کو طبی امداد نہ دی جا سکے۔ اسی طرح صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کی گاڑیوں اور ان کے کیمرا سمیت دیگر وسائل کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جاتا ہے، تاکہ وہ کبھی بھی دنیا کے سامنے اسرائیلی مظالم کی اصل صورتحال واضح نہ کرسکیں۔ اسی طرح اسرائیلی فوج پانی اور بجلی کے انفراسٹکچر کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے، تاکہ کیمپ کے عام لوگوں کو اذیت میں مبتلا کرسکے۔ اس حملے میں اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف ہیلی کاپٹرز، ڈرون، بکتر گاڑیاں اور ہزاروں مسلح اہلکار استعمال کر رہا ہے۔ اس طرح کے شہری علاقوں میں ہیلی کاپٹر کا استعمال عام غیر مسلح اور گھر میں بیٹھے لوگوں کے لیے تباہی لاتا ہے۔

لوگ گھروں میں محصور ہوگئے ہیں اور کچھ بھوک پیاس اور ان حملوں کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اسرائیل نے غزہ پر بھی حملہ کیا ہے، جس میں اس نے جٹ استعمال کیے ہیں۔ حماس نے تل ابیت میں ہونے والی اس کارروائی کی باقاعدہ ذمہ داری قبول کی ہے، جس میں اسرائیل پر حملہ کیا گیا تھا، جس میں کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔ فلسطینیوں نے ان بے گھر ہونے والوں کے لیے اپنے گھروں کے دوازے کھول دیئے ہیں، قریبی الزبابدہ میں چرچ کو متاثر خاندانوں کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ اس حملے میں گیارہ فلسطینی شہید ہوئے ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔ لوگوں نے کمال مزاحمت سے اسرائیل فوج کو مکمل طورپر کیمپ میں نہیں گھسنے دیا۔ تمام تر وسائل کے باوجود اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ڈینیل ہاگری نے ریڈیو پر اعلان کیا کہ ہم واپس جا رہے ہیں۔

مغربی کنارے سمیت پورے فلسطین میں لوگ اس اسرائیلی شکست پر جشن منا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج ایک چھوٹے سے علاقے کا کنڑول حاصل کرنے کی صلاحیت بھی کھو چکی ہے۔ دوسری طرف جنین کیمپ کی کئی ویڈیوز منظر عام پر آ رہی ہیں، جن میں سینکڑوں لوگ جنین اور قدس کے دفاع کی قسم کھا رہے ہیں۔ ان لوگوں کا جذبہ قابل دید ہے اور یہ ہر صورت میں اپنی سرزمین کا دفاع کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے جان کی قربانی کے لیے بھی تیار ہیں۔ اب زمانہ تھوڑا تبدیل ہو رہا ہے، سعودی عرب، مراکش اور عمان نے جنین پر صیہونی جارحیت کی مذمت کی ہے۔ ایک وقت تھا، اسرائیلی مذاق اڑاتے تھے کہ فلسطینیوں کی دو الگ ریاستیں بنانا پڑیں گی، کیونکہ حماس اور الفتح یا غزہ اور مغربی کنارہ اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے، ان کے آپس میں شدید اختلافات ہیں۔ اب وہ دور گزر چکا ہے اور اب دنیا دیکھ رہی ہے کہ فلسطینی اکٹھے ہو رہے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

رہبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے مغربی کنارے کے اسی کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ فلسطین کا موضوع، عالم اسلام اور امت مسلمہ کے مسائل کا مرکز ہے۔ مسئلہ فلسطین میں جس قدر پیشرفت ہوگی، امت مسلمہ کے مسائل بھی اسی قدر آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے غزہ کو استقامت کا مرکز و محور بتایا اور کہا کہ اب جو علاقہ، دشمن کو دھول چٹائے گا، وہ مغربی ساحل کا علاقہ ہے اور اب تک اس علاقے میں بڑی کامیابی ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کون سوچ سکتا تھا کہ ایک دن جنین میں فلسطینی نوجوان، صیہونی فوجیوں پر اتنا عرصہ حیات تنگ کر دیں گے کہ وہ مجاہد نوجوانوں کے محاصرے سے رہائی کے لیے جنگی طیاروں کا استعمال کرنے پر مجبور ہو جائيں گے۔ رہبر معظم نے درست فریاما، حقیقت حال بھی یہی ہے کہ جنگی طیارے بتا رہے ہیں کہ تم زمین پر ہار چکے ہو۔

Facebook Comments

ڈاکٹر ندیم عباس
ریسرچ سکالر,اور اسلام آباد میں مقیم ہیں,بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply