سینٹ ویلنٹائن شہید

سینٹ ویلنٹائن شہید
عارف خٹک
راشد ایک مقامی ادارے میں ایک درمیانے درجہ کا آفیسر تھا۔ بینک سے پرسنل لون لیا تھا تاکہ بہن کی یونیورسٹی کے داخلے اور چھوٹے بھائی کے کالج میں داخلہ فیس جمع کروا سکے۔ جو پیسے باقی بچے تھے اس نے چودہ فروری کیلئے سنبھال رکھے تھے تاکہ وہ کچھ اپنی تشنہ آرزوئیں پوری کرسکے.

باقی ماندہ پیسوں سے اس نے اپنے لئے نیا سوٹ خریدا، نئے برانڈڈ شوز خریدے، مہنگا ترین پرفیوم لگا کر موصوف نے روزینہ کو ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ایک ڈنر کرایا. اسے برانڈڈ ٹیڈی بیئر کا تحفہ دیا تو فاتخانہ نظروں سے وہ روزینہ کو دیکھنے لگا اور جیب سے سرخ گلاب کا پھول نکال کر ویلنٹائن ڈے کی شروعات کردی.
روزینہ نے ایک ادا سے مسکرا کر پھول لیکر اسے ایک سیکسی سی سمائل دی جسے دیکھ کر راشد گویا کھل اٹھا. اس لمحے کا وہ کب سے انتظار کررہا تھا.
یہ وہی روزینہ تھی جس کی جسمانی جاذبیت نے پورے دفتر کو ٹرک کے بتی کے پیچھے لگا رکھا تھا. بالاخر وہ روزینہ کو پٹانے میں کامیاب ہو ہی گیا اور اب جیب سے "احتیاط کا پیکٹ" نکال کر اس نے سینٹ ویلنٹائن شہید کو زبردست خراج تحسین پیش کیا.
کہانی کو زرا ریوائنڈ کرتے ہیں.
صائمہ کا بھائی دن رات ان کے لئے بہت کچھ کررہا تھا ۔ابھی حال ہی میں اس کے بھائی نے اس کیلئے بنک سے لون اٹھایا تھا۔ اس کو بھائی کا احساس تھا سو وہ اپنی طور پر کوشش کررہی تھی کہ اسے اچھا سا لڑکا مل سکے تاکہ بھائی کا بوجھ کچھ کم ہوسکے۔ سو انجم کو اس نے تاڑ لیا جو امیر باپ کی اولاد تھی جو اس کے مستقبل کا ضامن اور محافظ ہوسکتا تھا.
آج چودہ فروری کو انجم نے اتنے ہی اخراجات کئے جو راشد کرچکا تھا. بہترین زارا مین کا سوٹ, برانڈڈ جوتے, مہنگا پرفیوم, فائیو اسٹار کا سجا روم بہترین کینڈل ڈنر اور پھر دونوں کی جسمانی قربت نے ملکر سینٹ ویلنٹائن کو بہترین خراج تحسین پیش کیا کہ سینٹ ویلنٹائن کی روح تک سرشار ہوگئی.
اوئے میرے چوتیو، زرا غور کرو ،یہ تیسری دنیا میں کون لوگ ہیں جو ٹی وی اخبارات پر ویلنٹائن ڈے منانے کیلئے آپکی برین واشنگ کرتے ہیں۔ یہ کارپوریٹ انڈسٹریز ہیں جو اپنے ملبوسات, پرفیومز, کنڈومز اور کھانے آپکو بیچتے ہیں اور بدلے میں اپ کی روایات پر حملہ کرکے آپ کے معاشرے کو مفلوج کرتے ہیں.
کیا باقی تین چونسٹھ دن آپکی مردانگی یا نسوانیت کہیں گھاس چرنے چلی جاتی ہے جو صرف اس دن جاگ جاتی ہے.
یورپ میں سات سال گزارنے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ محبت کیلئے کوئی مخصوص دن نہیں ہوتا سوائے اٹلی کے جہاں کے شوہر اپنی بیویوں کو سرخ انڈر ویئر کا تحفہ دیتے ہیں. یہ کام آپ بھی کرسکتے ہو مگر نہیں اس معاملے میں اپ کو ثواب نہیں ملےگا.

میرے سجنو، سینٹ ویلنٹائن کو ککھ بھی نہیں معلوم ہوگا کہ پاکستان اور ہندوستان میں لوگ اس طریقے سے اسے یاد کرتے ہوں گے اور میں ذاتی طور پر نہیں سمجھتا کہ ویلنٹائن کو یہ بھی پتہ ہوگا کہ اس نے انجانے میں جو حرکت کی اس کی قیمت کارپوریٹ کلچر اس بیدردی سے وصول کریگا۔ پتہ لگتا تو شاید وہ خود کو مردانگی سے محروم کر کے اپنی عزت کسی پٹھان کو گروی رکھوا دیتا۔ مگر مجھے یقین ہے کہ نسوار کارپوریٹ انڈسٹری اس کو اس برے طریقے سے کیش کرتی کہ ہم پاکستانی لوگ پشاور میں اس دن الٹے پڑے ہوتے اور سینٹ ویلنٹائن شہید کو خراج تحسین پیش کرتے.

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *