ویہلن ٹرائنگ ڈے

دو روز پہلے ایک پنجابی پروگرام کی ریکارڈنگ کے لیئے ریڈیو اسٹیشن جانا ہوا،دو گھنٹے بعد ریکارڈنگ سے فارغ ہو کر باہر رکشے کے انتظار میں کھڑی تھی کہ عمارت سے اگلی طرف موجود گراؤنڈ کے جنگلے کے ساتھ ایک عجیب سی مخلوق کھڑی نظر آئی۔ایک بار دیکھا،دو بار،سہہ بار۔۔۔۔۔اخروٹ کے اندر والے حصے پر چڑھی جِھّلی سے ملتی جُلتی رنگت،ست رنگے شیشوں کا کالے فریم والا چشمہ۔تیل سے چُپڑے بال ایسے چِپکے تھے کہ شاید تیز طوفان میں بھی ایک بال نہ ہِلنے پائے،انتہائی نحیف و نزار بدن،لچک ایسی کہ موم کے بنے ہوں صاحب۔۔ شاید کمزوری کی وجہ سے ایسا ہوگا۔سُر خ رنگ کی ٹی شرٹ میں ملبوس جس پر عین ان کی سینی (سینے) پرپیلے رنگ کے دو دل بنے تھے اُس پل ہمیں یہ شرٹ ایسی محسوس ہوئی جیسے یرقان کے مریض کی آنکھوں میں زردی اور سُرخی بیک وقت اُتر آئی ہو۔موٹر سائیکل کے ہینڈل پربلی اور بلونگڑے کی تصویروں سے سجا ایک بیگ بھی لٹک رہا تھا جس سے موصوف کی پسند کا بخوبی اندازہ ہوا۔۔ سلمان خان کی نقل میں کلائی پربندھی گھڑی جوبس ہاتھ سے نکل کر گِر جانے کو بے چین تھی جسے بکھی(پہلو) پر ہاتھ رکھ کر روک رکھا تھا۔گردن دائیں مڑتی متلاشی نظریں گوہر نایاب کہیں نا پاتیں اور وہی اکلوتی گردن بائیں سمت مڑ جاتی۔۔۔ہمیں اس تفصیلی جائزے میں اتنا ہی ٹائم لگا جتنا آپ کو یہ چند سطریں پڑھنے میں اور اسی اثناء میں دو رکشے گزر چکے تھے،ہم میں اس وقت جیمز بانڈ کی سمائی روح نے کسی بھی رکشے کو روکنے سے انکار کر دیا اور ہم سڑک سے تھوڑا پیچھے ہٹ کر کھڑے ہوگئے دل چاہا دیکھا تو جائے کہ کِس کے بھاگ پُھوٹے جو اس صومالی دیوتا کے عشق میں پڑ گئی۔۔ابھی یہ سوال ذہن کے اطراف میں ٹکریں مار مار کر ہلکان ہو ہی رہا تھا کہ ایک بھاری بھرکم وجود (جس میں سے ہم جیسی تین چار اور نکل آتی) تقریباًاسّی کلو تو وزن ہوگا ہی،صومالی دیوتا کے قریب آن رکا۔۔زرد لباس جس میں انگ انگ تھل تھل کرتا کسی جام کی ماند چھلکا پڑ رہا تھا سر پر برائے نام جمے سرخ آنچل سے جھانکتے سٹریکس زدہ بال دھوپ میں لاٹیں مارتے صومالی دیوتا کو بد مست کیے دے رہے تھے آنکھوں میں دُور تک کِھنچے کاجل کے ڈورے اور پیلے رنگ کا لائنر۔۔۔اللہ اکبر!باقی نقشہ تو صومالی دیوتا ہی جانتا تھاجس نے وٹس ایپ پر نظا رے کیے ہونگے۔۔یقینا!!!لیکن اس وقت ناک کی پُھنگل پر ڈوپٹہ ٹِکا کر صا ف چُھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کی تصویر بنی تھی۔۔دونوں ہستیاں چند منٹ گفتگو میں مصروف رہیں غالباً اعتبار کی فضا قائم ہو چکی تھی۔۔۔ساقی نے رُخ سے پردہ کیا ہٹایا کہ ہر سمت اندھیرا چھا گیا کبھی ہم وائٹ بیس سے لِپے منہ کو اور کبھی چیری بلوسم سے مشابہہ پاؤں کو دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔لیکن ہمیں محسوس ہوا کہ دیوتا کو دیوی کے منہ اور پاؤں کی رنگت کے اس کُھلم کُھلا تضا د پر کوئی اعتراض نہ تھا۔وہ بیچارہ تو بھینگی آنکھوں کی سُوکھی جھیل میں گوڈے گوڈے ڈوبا دنیا و مافیا سے بے نیاز۔۔۔اس بات سے بھی بے نیاز کہ ہم کتنی دیر سے ٹکٹکی باندھے ان کی تمام تمام سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔۔۔ہم رکشہ روکنے ہی والے تھے کہ ایسی ہی “حالت”۔۔مطلب انداز میں ایک اور جوڑا نظر آیا تو دماغ میں ایک کوندا سا لپکا اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔۔دماغ کی بتّی بھی جیسے بُجھ سی گئی افسردگی بلکہ بے وقعتی کے احساس سے۔۔یہ بے وقعتی ہماری نہ تھی بلکہ تمام عورت ذات کی تھی۔۔۔۔کیوں؟۔۔۔ہمیں یا دآگیا تھا کہ آج کچھ اور نہیں بلکہ “ویہلن ٹرائنگ ڈے “یعنی فارغ بالی بالیوں کے ایک دوسرے کو برباد کرنے کی کوششوں کادن منایا جا رہا ہے اور یہ محترمہ اس صومالی دیوتا کی “گال”فرینڈ تھیں۔۔۔
“گال”پنجابی زبان میں گالی کو کہتے ہیں،اردو سپیکنگ “نجی محفلوں “میں “رُخسار “کو بھی “گال “کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔۔کچھ عرصہ پہلے تک گرل فرینڈ کے نام سے بدنام ہونے والی یہ حوّا زادیاں اب مزید تنزلی ہونے کے باعث “گال”فرینڈ کے عہدے پر آچکی ہیں۔۔۔عام دنوں میں کونت کھدروں جبکہ اس دن ملک کے چپے چپے میں مختلف بھیس بدل کر خاک ہو رہی ہوتی ہیں۔۔ ایک عدد “بائے فرینڈ “کے ساتھ۔۔۔جی ہاں “بائے فرینڈ “جو مطلب پورا ہونے کے بعد آرام سے،بِنا کسی بات کی پرواہ کیئے بائے بائے بول کر چلتا بنتا ہے۔۔ہمیں محبت پر کوئی اعتراض نہیں بقول حضرت واصف علی واصف ” محبت کوشش یا محنت سے حاصل نہیں ہوتی یہ عطا ہے بلکہ بڑے ہی نصیب کی بات ہے زمین کے سفر میں اگر کوئی چیز آسمانی ہے تو وہ صرف محبت ہی ہے “(دل،دریا،سمندر)
اور اسی ضمن میں مرحوم اشفاق احمد کچھ اس طرح رقمطراز ہیں “محبت وہ شخص کر سکتا ہے جو اند سے خوش،مطمئن اور پُرباش ہو،محبت کوئی سہہ رنگا پوسٹر نہیں کہ کمرے میں لگا لیا،سونے کا تمغہ نہیں کہ سینے پر سجا لیا،پگڑی نہیں کہ خوب کلف لگا کر باندھ لی اور بازار میں آگئے طُرہ چھوڑ کر۔۔۔محبت تو روح ہے “(من چلے کا سودا)۔
سو ہمیں اس لافانی جذبے پر کوئی اعتراض نہیں،جتنی مرضی کیجئے لیکن اس طریقے سے؟؟؟ درست ہے کیا؟؟۔۔۔آپ ہی کہیے!!
ہم سہیلیوں کے گروپ میں ایک سہیلی “ویہلن ٹرائنگ ڈے ” کی شدید مخالف تھی اور دوسری شدید ترین حمایتی۔۔مخالفت کرنے والی سہیلی کو ہمیشہ یہ طعنہ سُننے کو ملتا کہ جنہیں کوئی منہ نہیں لگاتا وہ لوگ پھر مخالفت کے سوا کچھ نہیں کر پاتے۔۔یہ بات بس کسی حد تک سچ ہے،آ پ زیادہ مت سمجھ لیجئے گا۔۔۔دراصل سارے انگور کھٹے نہیں ہوتے اور ساری بیریاں پکنے کے بعد جُھکا نہیں کرتیں۔!!
فیک بُک پر ایک صاحب کی دیوارپر یہ الفاظ تحریر تھے “جو پاکستانی مسلمان ویلنٹائن ڈے “کو گناہ سمجھتے ہیں وہ “حیا ڈے”منا سکتے ہیں اُس دن ہر مسلمان حیا کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اپنے افسروں،ماتحتوں اور کولیگز کو “کچھ شرم ہوتی ہے،کچھ حیا ہوتی ہے”مسلسل دہراتے ہوئے احساسِ حیا و شرم بیدار کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں اس طرح “امر بالمعروف اور نہی عن المنکر “کا دینی فریضہ بھی ادا ہو جائے گا۔۔۔۔۔اور کچھ اعلیٰ حضرات کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ سب کونسا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہونے جا رہا ہے جو اتنا واویلا مچایا جائے۔۔۔افسوس در افسوس۔
امجد اسلام امجد لکھتے ہیں۔۔۔۔
ٌ عاشقی کی حدوں کے اُس پار
عشق میں کیا ہے جو ہوس میں نہیں
اور پھر اسی سوال کے جواب میں لکھتے ہیں۔۔
ٌ جسم جتنی بڑی حقیقت ہو
دل کی تسکیں مگر ہوس میں نہیں
تو صاحبو!بس یہی مدعا ہے ہمارا کہ عزت دے نہیں سکتے کسی لڑکی کو تو اس ہوس زدہ محبت کے نام پر،جذبوں کی گرمی کے نام پر،عزت چھینو بھی مت اور صنفِ نازک کو بھی چاہیے کہ نازک بنے لیکن اتنی بھی نہیں کہ کوئی بھی آپ کی مرضی سے آپ کو روندتا ہوا آگے نکل جائے اور حیا ڈے منانے والو ں کے لیئے بھی پیغام ہے کہ حیا کو ایک دن تک محدودمت کیجئے بلکہ پوارا سال ہی حیا کا تعلیم عام کریں کہ شاید اس دن کے آنے تک کسی کو حیا آہی جائے!!!!

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *