لاہور دھماکہ،سازش یا نا اہلی؟

لاہور دھماکہ،سازش یا نا اہلی؟
طاہر یاسین طاہر
آشکار چیزوں پہ بھی ابہام تراشنے میں ہم اپنی مثال آپ ہیں۔”اخباری دانش “انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی،اس پہ سوشل میڈیا کا سیلاب اور الیکٹرانک میڈیا کے پندرہ بیس دانش ور۔محدودے چند ایسےہیں جن کا موقف واضح ہے۔بھارت کھلا دشمن ہے،اس کی خفیہ ایجنسی” را “افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے ساتھ مل کر پاکستان میں تخریب کاری کراتی ہے۔بھارتی موقف بھی واضح ہے۔ہر سانحے اور ہر دھماکے، کو مگر یہ کہہ کر حقائق سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ یہ بیرونی سازش ہے۔ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی ہیں۔کوئی پانچ درجن سے زائد مختلف مسلح تنظیمیں پاکستان میں کالعدم قرار دی جا چکی ہیں۔ جب کوئی مسلح یا غیر مسلح تنظیم کالعدم قرار دی جاتی ہے تو اس کا سادہ مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس تنظیم کی سرگرمیاں ایسی ہیں جو ریاستی مفادات کے خلاف ہیں۔ترقی کی طرف بڑھتے قدم روکنے کے لیے دشمن سازشیں کرتے ہیں۔ان سازشوں کا توڑ کرنا بہر حال ہمارا کام ہے۔آپریشن ضربِ عضب کامیاب ہوا ہے،نیشنل ایکشن پلان پہ مگر سوالیہ نشان ہے۔ لاہور مال روڈ پہ ہونےو الے دھماکے سے کچھ دیر پہلے اسلام آباد میں،ایوان بالا کے اندر اسی پہ بحث ہو رہی تھی کہ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنا ہی نہیں چاہتی۔
ہم اپنے سماجی رویوں میں بھی ” یک رخے” ہیں۔دھماکہ ہوتے ہی سوشل میڈیا پہ ٹرینڈ چلا کہ یہ دھماکہ پی ایس ایل کے خلاف گہری سازش ہے،سوال اٹھایا جانے لگا کہ وہ کون ہے جو پاکستان کے گراونڈ آباد ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔الیکٹرانک میڈیا کی دانش بھی اسی رخ پہ “بہتی “رہی۔حتیٰ کہ پی ایس ایل کے چیئرمین صاحب نے عوام سے رائے مانگ لی کہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہونا چاہیے یا نہیں۔فرض کریں عوام کا فیصلہ ہے کہ فائنل لاہور میں ہی ہومگر غیر ملکی کھلاڑیوں کو کیسے قائل کریں گے کہ سیکیورٹی کا کوئی ایشو نہیں؟جبکہ دھماکے میں دو فرض شناس پولیس افسران سمیت15افراد شہید اور 90سے زائد زخمی ہیں،جن میں سے اکثر کی حالت تشویشناک ہے۔ اگر اس دھماکے ،کو پی ایس ایل فائنل کے ساتھ ہی جوڑنا ہے تو ان گروہوں اور ان کے فکری رویوں کو بھی یاد کریں جنھوں نے 2009میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کیا تھا۔پی ایس ایل کا فائنل حملے کی ایک وجہ ضرور ہو سکتی ہے مگر اسے کلی وجہ قرار دینا ذمہ داریوں سے فرار کے سوا کچھ بھی نہیں۔پاکستان کی ہر گلی لاہور ہے اور لاہور کی ہر گلی پاکستان۔
کوئٹہ میں دھماکہ ہو تو سی پیک کے خلاف سازش،پارا چنار میں ہو تو غیر ملکی ہاتھ،لاہور میں ہو تو پی ایس ایل کے خلاف سازش۔لیکن وہ تنظیمیں جو ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہیں کیا ان کے وابستگان اور فکری رویے آشکار نہیں؟فیض احمد فیض یاد آتے ہیں
ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے
بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا
ہر دھماکے کے بعد لاشوں کی فی کس قیمت انتہائی مضحکہ خیز سیاسی رویہ ہے۔حکومتوں کا کام ذمہ داری ادا کرنا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے، نہ کہ ان کی لاشوں کی قیمتیں مقرر کرنا۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان ہو،یا مولوی صوفی محمد کی کالعدم شریعتِ محمدی،کالعدم لشکر جھنگوی العالمی ہو یا کالعدم لشکر جھنگوی،کالعدم جماعت الاحرار ہو یا غزوہ ہند نامی کوئی جہادی تنظیم،کالعدم سپاہ صحابہ ہو یا ان کے فکری ہمنوا،یاد رہے کہ یہ سب عالمی دہشت گرد تنظیم داعش سے متاثر ہیں اور اس کے اس خطے میں مسلح ونگ۔ ان سب کا اس بات پہ پختہ یقین ہے کہ وہ ہی” غزوہ ہند “کے چنیدہ مجاہدین ہیں اور اگر انجام موت ہے تو پھر انتخاب شہادت کیوں نہیں؟علم الرجال کے ماہرین کو اس حوالے سے رہنمائی کرنی چاہیے۔بد قسمتی سےان تنظیموں یا ان کے سیاسی،معاشی ورہائشی وابستگان ہر دھماکے کے بعد اسے غیر ملکی سازش ہی قرار دیتے ہیں،جس سے اسلام کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والوں کو بڑی سطح پر” فکری شیلٹر” دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔پوار سچ بولنے سے گریز پا میڈیا اور علما بھی اس خون ریزی کے کسی حد تک ذمہ دار ہیں۔لاہور دھماکے کی ذمہ داری ایک کالعدم دہشت گردتنظیم جماعت الاحرار نے قبول کی۔کیا ہم نہیں جانتے کہ طالبان کون ہیں؟ لشکر جھنگوی کیا ہے اور جماعت الاحرار والوں کا فکری رویہ کیا ہے؟پاکستان یا لاہور میں بد قسمتی سے یہ کوئی پہلا دہشت گردانہ حملہ نہیں۔ پاکستان جب سے دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اتحادی بنا ہے اس وقت سے ایک خاص مائنڈ سیٹ پاک فوج اور پاکستانی عوام کے خلاف مسلح دہشت گردی میں مصروف ہے۔وزارت ِ داخلہ کا ہمیشہ موقف یہی آتا ہے کہ اس نے تو الرٹ جاری کر دیا تھا۔ بے شک اس دھماکے سے پہلے بھی دہشت گردی کے حوالے سے الرٹ جاری کیا گیا،مگر صرف الرٹ جاری کر کے ذمہ داری پوری نہیں ہوتی۔دہشت گردوں کو شہر میں داخل ہونے سے روکنا بھی ہوتا ہے۔کوئی خود کش حملہ آور اپنے ساتھ خود کش جیکٹ لے کر بڑے شہر میں داخل نہیں ہو سکتا،ہاں مقامی سہولت کار انھیں ٹارگٹ تک پہنچاتے ہیں۔ یہ کوئی ایسی سائنس نہیں جو سمجھ نہ آئے۔
اس امر میں کلام نہیں کہ پنجاب میں کالعدم تنظیموں کے سہولت کار موجود ہیں۔ہر بار ایک بڑے آپریشن کی راہ میں سیاسی رکاوٹ بننے والوں کے کردار کو بھی جانچنا ضروری ہے۔دکھ کی بات ہے کہ وزیر قانون یہ فرمائیں،کہ پنجاب اسمبلی کے سامنے حملے کی اطلاع تھی،اگر احتجاج نہ ہو رہا ہوتا تو حملہ آور ٹارگٹ تلاش نہ کر سکتا۔یہ ذمہ داریوں سے فرار اور عوامی رائے کو گمراہ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔دہشت گرد کون ہیں؟دفاعی اداروں،تنصیبات ،پولیس کے ٹریننگ سینٹرز،عوامی مقامات،سکولوں،جنازہ گاہوں اور عباد گاہوں کو کون نشانہ بناتے ہیں؟ اور وہ کون ہیں جو دہشت گردوں کی ان کارروائیوں کو فکری آنچ دے کر انھیں شہید قرار دیتے ہیں؟یہ سب کھلے آسمان کی طرح آشکار ہے۔ضرورت اب اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں کے رہائشی،معاشی و فکری دہشت گردوں پر پہلے ہاتھ ڈالا جائے۔اگر بوجہ ایسا نہ کیا گیا تو لا ریب دہشت گرد ضرب ِ عضب کے ردعمل میں پہاڑوں سے اتر کر شہروں میں اپنی خاموش پناہ گاہوں میں آ بیٹھیں گے اور یہاں سے عوامی مقامات اوراپنے دیگر اہداف پر حملے کر کے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کریں گے۔سازشوں کو روکنا ریاستی اداروں کا کام ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ اندرونی خدشات کے ہر گوشے کو دہشت گردوں کے حمایتیوں سے پاک کیا جائے۔ہر دھماکے کے بعد تبدیل ہوتے بیانیے سے دہشت گردوں کی فکری تشفی ہوتی ہے اور وہ ملک دشمن اکائیوں اور اپنے فکری حواریوں کے گٹھ جوڑ سے وطن کے در و دیوار کو لہو رنگ کرتے چلے جاتے ہیں۔دہشت گرد اپنا نام کوئی بھی رکھ لیں، تنظیم کوئی بھی بنا لیں،خود کش حملے کو بے شک آپریشن غازی کا نام دے لیں،ان کا مقدر دائمی رسوائی کے سوا کچھ نہیں۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *