• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے؟/ڈاکٹر ابرار ماجد

کیا شہریوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے؟/ڈاکٹر ابرار ماجد

نو مئی کے سانحہ میں جو کچھ ہوا، جس نے بھی کیا اس کو نہ تو صحیح کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس سانحہ کے ملزموں کو عدالتی کاروائی سے بچایا جاسکتا ہے۔ اس کی تحقیق سے تو کسی کو بھی انکار نہیں مگر اس کی تحقیق کون کرے اس پر تحفظات اور اعتراضات ضرور موجود ہیں۔ پہلے تو عمران خان اور ان کی جماعت کی طرف سے جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ آتا رہا ہے مگر اب ایک لائرز کے فورم نے بھی فوجی عدالتوں میں سویلین کے مقدمات چلانے کی مخالفت کر دی ہے۔ اور اس طرح کی مبینہ افواہیں گردش کررہی ہیں کہ یہ مطالبات اگر پورے نہ ہوئے تو وکلاء کے تحفظات تحریک کی شکل بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

شہریوں کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل بارے جو بحث چل رہی ہے اس پر مختلف آراء سامنے آرہی ہیں۔ کل اس کو سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ لیکن میرے خیال میں تو اس کو 184(3) کے تحت نہیں سنا جاسکتا کیونکہ اس معاملے میں نہ تو کوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور نہ ہی یہ مفاد عامہ کا مسئلہ بنتا ہے۔ اس بارے پاکستان کا قانون واضح ہے۔ ہاں اگر کاروائی کے دوران کسی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس پر ضرور عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

2(1)(d)(iii) آرمی ایکٹ 1952 کی دفعات کے تحت سویلین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔ 2015 میں کی گئی ترمیم کے مطابق اگر کوئی “پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھائے، جنگ کرے یا حملہ کرے۔ پاکستان کی مسلح افواج یا قانون نافذ کرنے والے ادارے یا پاکستان میں کسی بھی سول یا فوجی تنصیبات پر حملہ کرے” تو کسی بھی شہری کے خلاف وفاقی حکومت کی اجازت سے مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت بھی فوج کو حکم دے سکتی ہے۔

پہلے بھی ان عدالتوں کی مثال پاکستان میں موجود ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بھی فوجی عدالتیں بنائی گئیں تھیں۔ اور موجودہ سانحہ کسی طرح سے بھی دہشت گردی سے کم نہیں۔

انسانی حقوق ہر انسان کے بنیادی حقوق ہیں جن کا تعلق انسان ہونے سے ہے اور دنیا کے تمام انسان کہیں بھی رہتے ہوں سب ان کے برابر حق دار ہیں۔ اور ان حقوق کو انسان سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا لیکن انسان کا شہری ہونا اس کو اس ملک کے کسی خاص قانون سے استثنیٰ نہیں دیتا۔ شہریت انسانی حقوق میں نہیں آتی۔ اگر کوئی شہری کسی قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کواس کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہاں انسانی حقوق ان کے خلاف کاروائی میں شفافیت، غیر جانبدار ی اور موقف کو سنے جانے یا اپنی بے گناہی کے ثبوت دینے کے حق کو یقینی بناتے ہیں۔ لیکن اس میں وہ یہ موقف نہیں لے سکتا کہ وہ جرم تو کسی اور علاقے میں کرے اور کہے کہ اس کے خلاف مقدمہ اس کے اپنے علاقے میں چلایا جائے۔ بلکہ جہاں وہ جرم کرے گا اسی ملک، علاقے یا قانون کے مطابق اس کے خلاف کاروائی ہوگی۔

میرے چند سوالات ہیں ان لوگوں سے جو سویلین کے مقدمات کوفوجی عدالتوں میں چلانے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کیا جہاں جرم ہوا ہے وہاں پر نافذ قانونی دائرہ اختیار کو نہیں دیکھا جاناچاہیے؟ کیا ان عدالتوں کی آئینی و قانونی حیثیت موجود نہیں؟ کیا اس طرح کی پہلے کوئی مثال موجود نہیں؟ کیا ان فیصلوں کے خلاف کوئی قانونی ریمیڈی موجود نہیں؟ ان نقاط کی روشنی میں اگر ان کے پاس ان پر اعتراض کرنے کا جواز موجود ہے تو ان کو حکومت کے سامنے رکھنا چاہیے یا اس کو عدالت میں چیلنج کریں مگر سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش قطعاً بھی نہیں ہونی چاہیے۔

ظاہراً تو اس معاملے میں کہیں بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں پائی جاتی اور نہ ہی کوئی قانونی اعتراض ان عدالتوں پر اٹھایا جاسکتا ہے البتہ اس میں سیاسی خدشات ضرور موجود ہیں جن کا حل بھی سیاسی معاملات سے ہی تلاش کیا جاسکتا ہے جوپارلیمان میں قانونی اصلاحات ہیں۔ اور جہاں تک تعلق ہے ہماری سول کورٹس کا تو موجودہ حالات میں ان کی غیر جانبداری، شفافیت اور انصاف کے اصولوں پر ان کاعمل خوب عکاسی کررہا ہے۔ اس وقت اگر کوئی آئینی ادارہ سب سے زیادہ متنازع نظر آرہا ہے تو وہ عدلیہ ہے جس پر نہ صرف عوام، پارلیمان بلکہ ادارے کے اندرسے سہولت کاریوں اور جانبداری کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

عدالتوں کے اندر زیر بحث مقدمات میں ججز پر مفادات کے ٹکراؤ کے اعتراضات اٹھائے جارہے ہیں مگر ججز ان کا کوئی اثر ہی نہیں لے رہے۔ تو ایسے حالات میں جب ان واقعات میں ملوث لوگوں کے ہماری عدلیہ کے اندر تعلقات کی مبینہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہوں اوران کے فیصلوں پر خود حکومت ثبوتوں کے ساتھ عدالتی کاروائیوں کو چیلنج کر رہی ہوتو ایسے میں کیا کوئی سول عدالتوں سے شفاف، غیر جانبدارانہ اور انصاف کے اصولوں پر مبنی انصاف کی ضمانت دے سکتا ہے۔

پھر سوال یہ بھی بنتا ہے کہ ان کے اعتراضات کو اگر قانون سے ہٹ کر بھی لیا جائے تو کیا اس پر عوام یا سیاسی جماعتیں متفق ہیں کہ سول لوگوں کے مقدمات سول کورٹس میں ہی چلنے چاہیں۔ کیا حکومت اور سیاسی جماعتیں سول کورٹس کی کاروائیوں پر جانبداری اور سہولت کاری کا الزام نہیں لگا رہیں اور عدالتیں اپنے عمل سے اس موقف کو تقویت نہیں بخش رہیں۔ کیا عوام اور سیاستدان عدالتوں کے سامنے احتجاج نہیں کر رہے۔ کیا لیک ہونے والی مبینہ آڈیوز اس بات کی تصدیق نہیں کر رہیں کہ یہ مبینہ الزامات ٹھیک ہیں۔ کیا ان آڈیو لیکس کے اندر فوج کے مارشل لاء لگانے کی خواہشات کا اظہار نہیں کیا جارہا۔ جس کی مطلب ہوا کہ ان لوگوں کوبھی اپنے سول اداروں سے زیادہ عسکری اداروں پر اعتماد ہے؟

انہی آڈیو لیکس پر حکومت نے عدالت عظمیٰ اور دو ہائیکورٹس کے ججز پر مشتمل انکوائری کمیشن بنایا ہے جس پر عدلیہ کے اندر سے عدم اعتماد اور کام کرنے سے روکا جارہا ہے؟ جب خود عدلیہ ہی اپنے ججز پر اعتماد کا تاثر دینے سے قاصر ہے تو پھر اس طرح کے حساس قسم کے معاملات میں ان کو یہ ذمہ داری کیسے دی جاسکتی ہے۔ کیا اس سے معاملات مزید کشمکش کا شکار نہیں ہونگے؟

آسان سا کام ہے اگر پاکستان کی عوام واقعی نہیں چاہتی کہ چھاؤنیوں پر حملہ آور ہونے والوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں کاروائی ہو تو پھر پارلیمان تو عوام ہی کی نمائندہ ہے۔ بدل دیجئے اس قانون کو اور ختم کر دیجئے اس قانون اور فوجی عدالتوں کو۔ لیکن اس طرح کے احتجاجوں اور تحریکوں کا کوئی جواز نہیں۔ اور کیا جو وکلاء یہ کانفرنسز کر رہے ہیں ان کو پاکستان کے تمام وکلاء کی تائید حاصل ہے؟

کیا جو لوگ نو مئی کو وہاں دھاوا بولنے کے لئے گئے اور قومی املاک کو نقصان پہنچایا اور ہمارے شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کی اس کا کوئی آئینی و قانونی جواز تھا؟ کیا ان کو سول کورٹس میں مقدمات چلانے یا ان کے ساتھ نرمی برتنے کا عمل مستقبل کو ایسے سانحات سے محفوظ کرنے کا موجب بنے گا یا ایسی سوچوں کے حامل افراد کی حوصلہ افزائی کا موجب۔ کیا جو ان سانحات میں ملوث لوگ ہیں ان کے اپنے خاندانوں کا تعلق فوج سے نہیں۔ میرا ن سے سوال ہے کہ اگر ان کے اپنے وہ ریٹائرڈ فوجی افسران آج حاضر سروس ہوتے اور ان کے رشتہ داروں کی بجائے کوئی اور شہری اس سانحہ میں ملوث ہوتے توپھر ان کا کیا فیصلہ ہوتا؟

کیا ماضی میں جو نا انصافیاں ہوئیں وہ ساری فوجی کورٹس نے ہی کی ہیں۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت کسی فوجی عدالت نے دی تھی۔ کیا پچھلے کئی ہفتوں سے جو تحریک انصاف پر مقدمات درج ہورہے ہیں وہ سول حکومتوں کے زیر انتظام اداروں میں نہیں ہوئے۔ کیا وہ سارے مقدمات سول کورٹس میں نہیں چل رہے۔ کیا ان ساری کاروائیوں پر تمام ملزمان خوش ہیں۔ کیا یہ فوجی عدالتیں کسی اور ملک کی ہیں یا ان کو آئین پاکستان کا تحفظ حاصل نہیں۔

شائد کوئی بھی نہ چاہتا ہو کہ سول لوگوں کے فوجی عدالتوں میں مقدمات چلیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب سویلین ایسے اعمال کے مرتکب ہونگے تو پھر ان کو کوئی کیسے وہاں سے گھسیٹ کر باہر نکال سکتا ہے جب وہ خود دوڑ دوڑ کر چھاؤنیوں کی طرف بھاگیں۔ جیسے وہ کسی دشمن ملک کی فوج کو فتح کرنے جارہے ہوں۔ اور اگر سول نظام انصاف فوری، شفاف اور غیر جانبداری کی تاریخ کا اثاثہ رکھتا ہوتا تو پھر ایسے مخصوس قوانیں بنائے ہی کیوں جاتے۔ اگر ہمارے عوام کی اخلاقیات اور ظرف اتنے اعلیٰ ہوتے تو وہ اس قانون کو جاکرکیوں للکارتے۔ اس پر کوئی بات نہیں کرتا اور سہولتیں تلاش کرنے کے چکر میں ہر کوئی شیدائی ہوئےجارہاہے۔

معزرت کے ساتھ مجھے ان لوگوں کی باتوں اور انداز سے ابھرنے والے تاثر سے یوں محسوس ہورہا ہے کہ یہ فوجی عدالتوں کی شفافیت، غیر جانبدار ی اور فوری انصاف سے خوفزدہ ہیں جس کے یہ عادی نہیں ہیں۔ اگر ان لوگوں پر دوہزار چودہ میں پی ٹی وی، پولیس اور پارلیمان پر حملہ کرنے کے جرائم میں سول عدالتوں سےسزا دی گئی ہوتی تو آج ان کے لئے فوجی عدالتوں کے خلاف آواز اٹھانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ خدا را کوئی سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے آئین و قانون اور نظام انصاف اور دفاع کا مذاق نہ بنائیں اور اپنے مفادات اور خواہشات کے خاطر ملکی امن و سلامتی کو داؤ پر لگانے کی کوشش نہ کریں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

میری ان لوگوں سے گزارش ہے کہ آئین و قانون اور اپنی حیثیت کو سیاست زدہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ قانون کی حکمرانی کو اپنی راہ لینے دیں اور جہاں آپ انسانی حقوق کی خلاف ورزی دیکھتے ہیں اس کی نشاندہی ضرور کریں اور ان عدالتوں کے خلاف اپیل کا حق بھی قانون میں موجود ہے۔ لیکن قانون کو سمجھنے والوں کے مطالبات اور انداز میں بھی آئین و قانون اور انصاف کے اصولوں کی جھلک نظر آنی چاہیے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply