فاٹا الگ صوبہ کیوں نہیں بن سکتا

فاٹا الگ صوبہ کیوں نہیں بن سکتا
محمد زکریا
جمیعت سے نسبتاًزیادہ ہمدردی اور الگ صوبے کی کشش کی وجہ سے میری بھی اولین خواہش تو یہی ہے کہ فاٹا الگ صوبہ بنے ۔لیکن افسوس کہ فاٹا میں رہتے ہوۓ، فاٹا سے جڑی مشکلات مکمل طور پر سہتے رہنے اور اسی وجہ سے اصلاحات کی امیدوں اور بحث سے لازمی تعلق کی وجہ سے، یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ الگ صوبہ ایک خوشنما لیکن ناقابل عمل منصوبہ ہے۔ اولین وجہ فاٹا کی ساخت ہے کہ ایک لمبی سی پٹی ہے ۔جسکا جوڑ بٹھانا ناممکن ہے۔ ایک جیسے کالے قانون کی وجہ سے بظاہر ساتوں ایجنسیاں اور ملحقہ ایف آرز ایک اکائی لگتی ہے ،لیکن حقیقت حال مختلف ہے۔ ایک فاٹا یونیورسٹی، ایک میڈیکل کالج اور انجینئرنگ یونیورسٹی پر اختلافات کی لمبی کہانی ہے، میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز منصوبے تو انہی اختلاف کی وجہ سے تاحال لٹک رہے ہیں اور فاٹا یونیورسٹی کوہاٹ میں قائم کی گئی جسکا کوئی فائدہ باجوڑ، مہمند اور جنوبی اور شمالی وزیرستان کو کبھی نہیں پہنچ سکتا،۔
اسی وجہ سے یونیورسٹی بھی ایک برائے نام یونیورسٹی ہے۔ ان مثالوں سے اور ان جیسی بےشمار دوسری وجوہات کی بنا پر الگ صوبے کی ساخت پر متفق ہونا ناممکن ہے۔ دوسری بات سیاسی جماعتوں کی ایک لمبی جدوجہد اور سوشل میڈیا کمپین کی وجہ سے فاٹا کے تعلیم یافتہ اور حالات حاضرہ سے باخبر نوجوان طبقہ مکمل طور پر پختونخواہ میں انضمام کے حق میں ہیں۔ الگ صوبے کا نعرہ اب بےحد کمزور اور باغی آواز سمجھی جاتی ہے جسے عوام میں کوئی حمایت ملنا مشکل ہے۔
فاٹا میں سیاسی شعور اور اب تک روا رکھے گئے ظلم کی احساس کی وجہ سے ایک اشتعال کی سی کیفیت ہے جسے ختم کرنے کی حکومتی کوششیں ناکام نظر آرہی ہیں۔ جس طبقے کو گورنر ٹیم گرینڈ فاٹا جرگہ کہتی ہے وہ موجودہ تناظر میں ٹھکرائے ہوۓ لوگ ہیں جنہیں ملکان کہا جاتا ہے اور انہیں باقاعدہ ہفتہ وار جیب خرچ دیا جاتا ہے۔ آجکل ایسے لوگوں کی عزت ،اور اثررسوخ صرف پولیٹیکل ایجنٹ کےدفتر تک محدود ہے۔ جو لوگ فاٹا کے حالات سے واقف ہیں انہیں پتہ ہے کہ جن جرگوں کو یہ قبائلی جرگے کہتے ہیں وہ اصل میں گورنر کی ہدایت پر اور پولیٹیکل ایجنٹ کی چٹھی پر بلاۓ جاتے ہیں اور انکا رٹایا ہوا سبق ہی دہراتے ہیں۔ مشترکہ جرگے جن میں فاٹا یوتھ کی نمائندگی ہوتی ہے۔ وہاں یہ لوگ مار تک کھاچکے ہیں۔
اب ان حالات میں اچکزئی کا آزاد کونسل منصوبہ تو کسی شمار میں نہیں اور حقیقت میں وہ ملکان کی منطق ہے کہ فاٹا کی آزاد حیثیت برقرار رکھی جاۓ، لیکن مولانا صاب کا الگ صوبے کا منصوبہ بھی اسی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ یہ صرف معاملہ لٹکانے اور بےجا طول دینے کی اب تک کامیاب کوشش ہے۔ لہٰذا سمجھداری کا تقاضا یہ ہے کہ فاٹا کے عوام کی منشاء کے مطابق فاٹا کو پختونخواہ میں ضم کرنے کی تجویز کا ساتھ دیا جاۓ ۔

Avatar
محمد زکریا
طالب علم، ایک سبق نوکری کیلئے پڑھ رہا ہوں اور ایک خود کو پہچاننے کی، دونوں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *