• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • آئینی بنیادیں اور سیاسی طاقت کا مظاہرہ/نصیر اللہ خان

آئینی بنیادیں اور سیاسی طاقت کا مظاہرہ/نصیر اللہ خان

سچ کو چھپانے کے لیے جھوٹ کو فروغ دے کر میڈیائی بیانیہ معاشرے کو بڑے پیمانے پر اثر انداز کرتے ہیں۔ حالیہ واقعات کے تناظر میں پاکستان تحریک انصاف کی مبینہ ہنگامہ آرائیاں، پبلک مقامات میں توڑ پھوڑ، میڈیا، حکومت، عدالت کا موضوع بحث ہے۔ جس میں فوجی اور عوامی مقامات پر حملوں سے لے کر کثیر الجماعتی سازشی نظریات تک کے الزامات شامل ہیں۔ اسلئے یہ ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی جدوجہد کے تمام پہلوؤں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تاکہ صورتحال کی مکمل اگاہی حاصل کی جا سکے۔

پی ٹی آئی ایک طرف دہشت گردی یا بنیاد پرست نظریات سے کسی بھی طرح کے تعلق کی شدید طور پر مذمت کرتی آرہی ہے۔ تحریک انصاف کا اصرار ہے کہ وہ جمہوریت کے اصولوں پر یقین رکھتی ہے، قانون، آئین، پارلیمنٹ اور عدالت کی بالادستی کو برقرار رکھنے کا خواہاں ہے، اور پرتشدد سیاسی معاملات کی مخالفت کرتی ہے۔ پاکستان کے عوام ایک عوامی سماجی معاہدہ یعنی آئین کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہے۔ آئین ہوگا، ریاست ہوگی، قانون ہوگا، عدالت ہوگی اور اس طرح ادارے اپنے کام سے تجاوز کے مجاز نہیں ہونگے۔ لہذا متعدد قوموں کو ایک ہی آئین کے تحت جوڑا گیا ہے۔ آئین میں قانون کی حدود کے اندر شہریوں کی اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنانا شامل ہے۔ صوبوں یعنی تمام اکائیوں کو ان کے وسائل پر اختیار اس سب کی آئین گارنٹی دیتی ہے۔ لہٰذا ہر قوم اور صوبائی اکائیوں کو پاکستان کے علاقائی تناسب کے حوالے سے اپنی آئینی آزادیوں کا تحفظ کرنا ہے۔
اس تناظر میں پی ڈی ایم کی جماعتیں آئینی اداروں، بیوروکریسی، عدالت، مسلح افواج میں تقسیم کا سبب بن رہی ہے کیونکہ وہ اپنے اصولوں پر رعایت دینے اور سچ اور جھوٹ دونوں کی سچی تصویر کشی کرنے سے گریزاں ہے۔
پی ڈی ایم کی خود ساختہ عداوت، بھر پور مخالفت اور ادارہ جاتی سرپرستی کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے حامیوں کے ساتھ 9 مئی کے حالیہ واقعات کے بعد بدسلوکی کی گئی اور انہیں بلا وجہ جیلوں میں ڈالا گیا۔ زدو کوب اور حراساں کیا گیا۔ متعدد واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کو نشانہ بنانے، بدنام کرنے اور من مانی حراست میں رکھنے کے لئے اٹھائی جاتی ہیں۔

آئینی آزادی اور مساوات کے اصولوں کے مطابق ریاستی قوانین کسی کو بھی کسی بھی قسم کے پر تشدد جرائم کی روک تھام سے منع کرتی ہیں، جرم کی حوصلہ شکنی کے لئے قانون لاگو کیا جاتا ہے. ہر وہ عمل کیا جانا چاہئے جو قانون کہ مطابق ہو۔ چونکہ پی ٹی آئی کے بہت سے کارکنوں کو قانونی طریقہ کار مکمل کیے بغیر یا ان پر لگائے گئے الزامات کے بارے میں جانے بغیر گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ ایک سوال رہیگا کہ پی ٹی آئی پر بھی قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے قانون لاگو ہونا چاہیے تھی یا نہیں۔
متعدد واقعات میں قانونی پابندی اور شفافیت کی عدم موجودگی بنیادی آزادیوں کے غلط استعمال کے بارے میں تشویش پیدا کرتی ہے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کو بھی اس بات پر تحفظات ہیں کہ اس طرح کی غیر آئینی خلاف ورزیوں کو آزادانہ طور پر ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ جس بارے میں پارٹی کے حامیوں کا سپریم کورٹ اور ایجنسیوں کے کردار بارے بھی خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے عوام کو ایک بنیادی حق حاصل ہے کہ حکومت مقررہ آئینی وقت پر انتخابات کرائیں۔ پی ٹی آئی کا ماننا ہے کہ پی ڈی ایم جو کہ ایک غیر فطری اتحاد پر مبنی حکومت ہے، بھی انتخابات کو التوا میں ڈالنے پر بضد ہے۔او اس مد میں کوئی لچک کا مظاہرہ نہیں کرتی ہیں۔ واضح رہے کہ پی ڈی ایم پر الزام ہے کہ انہوں نے سیاسی طور پر لگائے گئے جھوٹے الزامات کی بنا پر عمران خان کی گرفتاری اور حراست کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس مد میں پی ڈی ایم کھلم کھلا اور آزادانہ مکالمہ کو فروغ دینے کے بجائے فاشسٹ طرز عمل اور غیر قانونی جبر کی حمایت کرتی ہے تو ان کا یہ دعویٰ متضاد لگتا ہے کہ اس کا مقصد جمہوریت کا تحفظ ہے۔

پی ڈی ایم پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے سرکردہ عہدیداروں، کارکنوں کو بےجا اور ناجائز طور پر ہراساں کرکے اور ان کی بزور نظریاتی تبدیلی مسلط کرنے کے طریقے پر پی ڈی ایم کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ ان مقاصد کے حصول کیلئے اور اس طرح کے طرز عمل کی آئینی حیثیت کو یقینی بنانے کیلئے مملکت کے تمام اداروں کو یرغمال بناکر یکطرفہ اقدامات اس بات کی غماز ہے کہ آئین اور قانون، اخلاقیات کا جنازہ نکالنے کے درپے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ جمہوری عمل اور قانون ساز اداروں کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے عمران خان کے بطور وزیر اعظم انتخاب سمیت مسلح افواج کی جانب سے انتخابات کو ہائی جیک کرنے کے الزامات کی گہرائی سے تحقیقات ضروری ہیں۔یہ بھی ضروری ہے کہ کس کے شہہ پر عمران خان کی حکومت کو گرایا گیا۔

پی ٹی آئی کی جدوجہد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ عدالت نے پارٹی کا تختہ الٹنے کے بعد پنجاب میں اس کی قیادت کی بحالی کا حکم دیا اور جو کہ پی ٹی آئی نے پنجاب اور کے پی میں صوبائی اسمبلیاں توڑ دی۔ جو کہ بھی ملکی اداروں اور پی ڈی ایم کے جماعتوں کےلئے کافی وجہ تھی کہ جنرل انتخابات کا اعلان کرتے۔ خیر جنرل انتخابات میں روڑے اٹکانا تو بعد کی بات ہے لیکن اس مد میں آئینی ذمہ داری کو بھی پی ڈی ایم حکومت نے پس پشت ڈال دیا ہے۔ جس کا مقصد ایک ہے کہ اپنے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرکے انتخابات کروائے۔ جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کو رکاوٹ ڈالنے اور پی ڈی ایم کی کوششوں کے نتیجے میں تقریبا ہر سطح پر پی ٹی آئی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی کے متعدد فیصلوں کے غیر متوقع نتائج ائے ہیں، لیکن پی ٹی آئی کو ان حالات میں وسیع تر مفادات اور رکاوٹوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

یہ واضح ہے کہ پی ٹی آئی کو ان پیچیدہ حالات سے نمٹنا ہوگا جس میں مثبت یا منفی فوائد دونوں شامل ہیں. اگرچہ انہوں نے جمہوریت کو آگے بڑھانے اور بدعنوانی کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑی پیش رفت کی ہے۔ لیکن پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے اداروں کا غلط استعمال، اختلاف رائے کو جابرانہ طور پر دبانے اور سیاسی تنظیم کو غیر مستحکم کرنے کے غیر قانونی اقدامات نہ صرف آئین کے برعکس ہے بلکے جمہوریت کیلئے بھی زہر قاتل ہیں۔ اس لئے منصفانہ معاشرے اور اداروں کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے جمہوری اور سیاسی ماحول کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔ اس مد میں پاکستان میں ترقی اور استحکام کے لیے شہری حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ اسلئے قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنا ہوگا اور جمہوریت کے اصولوں کا احترام کرنا ہوگا۔

حالیہ وقت میں پی ٹی آئی کے سیاسی چیلنجز کا گہرائی سے جائزہ لینے سے ایک پیچیدہ صورتحال کا پتہ چلتا ہے۔ تاہم، یہ سچ ہے کہ جمہوریت کے ساتھ اس تحریک کی وابستگی اور بدعنوانی کے خلاف اس کی لڑائی کو تسلیم کرنے کے لئے اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔

پی ٹی آئی کو آزادی اظہار رائے، تقریر اور تحریر کو دبانے اور پی ٹی آئی کی ساکھ کو خطرے میں ڈالنے سے نمٹنا اہم ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی مذکورہ بالا خدشات کو دور کرنے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے، سرکاری ایجنسیوں، سپریم کورٹ اور متعلقہ اداروں کو مکمل تحقیقات کرنا چاہئے.

ان حالات میں جمہوری اقدار کو برقرار رکھنا، انسانی حقوق کا تحفظ، خاص طور پر قانون کے بنیادی اصولوں کا تحفظ ناگزیر ہے۔ پی ٹی آئی یا اس کے حامیوں کے خلاف کسی بھی کارروائی میں آئین کے قوانین کا احترام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مناسب طریقہ کار اور کارکنان کے ساتھ منصفانہ سلوک کی ضمانت دی جا سکے۔ غیر جانبدارانہ انصاف کی ضمانت دینے کے لیے، فوجی عدالتوں اور سول عدالتوں کے درمیان خط امتیاز برقرار رکھنی چاہیے۔
میں سمجھتا ہوں کہ پی ڈی ایم کی انتخابی مداخلت اور مسلح افواج کے ملوث ہونے کے الزامات کی تحقیقات ضروری ہیں۔ جمہوری انتظام پر عوام کے اعتماد کے تحفظ کے لیے انتخابی عمل کی غیر جانبداری بھی ضروری ہے۔
اس ضمن میں اگر کوئی خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو حالات کو درست کرنے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لئے مناسب کارروائی کی جانی چاہئے۔

پی ٹی آئی کو دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ان کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ ان کے طرز عمل کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ اگرچہ اس راستے میں کچھ غلطیاں ہو سکتی ہیں، لیکن ان چیلنجوں اور مطالبات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے جن کا سامنا پارٹی کو انتہائی پولرائزڈ سیاسی ماحول میں کرنا پڑا ہے ۔ ان غلطیوں سے چھٹکارا پانے اور اتفاق رائے پر مبنی نقطہ نظر سے پاکستان میں بہتر سیاسی منظر نامے کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی مثبت اور منفی خصوصیات کی حامل جماعت ہے۔ جس سے کوئی بھی جماعت مبرا نہیں ۔ اگرچہ جمہوری اقدار کے تئیں ان کی وابستگی، بدعنوانی کے خلاف اقدامات اور صوبائی اسمبلیوں میں اکثریت حاصل کرنا قابل ستائش کامیابیاں ہیں، لیکن غیر جانبدار آوازوں کو دبانے اور قانون کا غلط استعمال اور ان کے جواز میں حائل رکاوٹیں سنگین سوالات کو جنم دیتی ہیں۔

اس لئے ضروری ہے کہ موجودہ حالات میں شامل تمام جماعتیں، خاص طور پر حکومت، حزب اختلاف کے گروپ، ملٹری، عدلیہ اور نجی شعبے کو ان مسائل کو حل کرنے کے لئے مشترکہ طور پر آنا ہوگا۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے اور پاکستان کی آئینی بنیادوں کا اعادہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جمہوری اقدار کو برقرار رکھا جائے، انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے، قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور شفافیت کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

یہ ضروری ہے کہ ہر الزام کو احتیاط سے دیکھا جائے اور قانون کی مطابق کھلے عمل کے ذریعے سنبھالا جائے۔ چونکہ مجموعی طور پر قوم کو آگے بڑھنے اور اب بھی مستحکم ہونے کی ضرورت ہے، سیاسی گروہوں اور عام لوگوں کو اعتماد کے ساتھ پروان چڑھانا ہوگا۔ پاکستان کی عوامی شمولیت، مکالمے اور جمہوری اقدار کے احترام کا کلچر پیدا کرکے اپنے ہر شہری کے لیے اور ایک بہتر کل کے لیے کام کرکے اپنی موجودہ مشکلات پر قابو پا سکتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

مختصر یہ کہ پی ٹی آئی کا منظر نامہ پیچیدہ ہے اور اس کے لیے ایک مبنی بر انصاف نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کی کامیابیوں اور ان کے جمہوری اقدار کے ساتھ وابستگی کو سراہتے ہوئے اس کی خامیوں اور دعوؤں پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان ان رکاوٹوں پر قابو پا کر لچکدار اور روادار سیاسی اور جمہوری ڈھانچہ قائم کر سکتا ہے جس کے لیے وہ جوابدہ ہو سکتے ہیں اور جمہوریت کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے شانہ بشانہ کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ جمہوریت اس وقت پھلتی پھولتی ہے جب مختلف نقطہ نظر کو سنا جاتا ہے، قانون کی حکمرانی برقرار رہتی ہے، اور تمام شہریوں کی آزادیوں کا تحفظ بنیادی ہے۔

Facebook Comments

نصیر اللہ خان
وکالت کے شعبے سے منسلک ہوکرقانون کی پریکٹس کرتا ہوں۔ قانونی،سماجی اور معاشرتی مضامین پر اخباروں اور ویب سائٹس پر لکھنا پڑھنامیرا مشغلہ ہے ۔ شعوراورآگاہی کا پرچار اپنا عین فریضہ سمجھتا ہوں۔ پولیٹکل سائنس میں ایم اے کیا ہےاس لئے پولیٹکل موضوعات اورمروجہ سیاست پر تعمیری ،تنقیدی جائزے لکھ کرسیاست دانوں ، حکام اعلی اور قارئین کرام کیساتھ اپنا نقطۂ نظر،فہم اور فکر شریک کرتا ہو۔ قانون،تاریخ، سائنس اور جنرل نالج کی کتابوں سے دلی طور پر لگاؤ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply