نو مئی کے بعد کی سیاسی صورتحال/ڈاکٹر ابرار ماجد

نو مئی کے بعد سے سیاسی منظر نامہ یکسر تبدیل ہوگیا ہے۔ تحریک انصاف بڑے بڑے مقبولیت کے دعوے کر رہی تھی مگر حقیقت میں وہ ساری مقبولیت سوشل میڈیائی ثابت ہوئی اور جونہی حکومت نے اس غبارے پر ہلکی سی سوئی چبھوئی یہ ٹھاہ کر گئی۔ جس کا ثبوت اس سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے کہ ابھی بھی اگر آپ ٹویٹر پر تحریک انصاف کے ٹرینڈ دیکھیں تو ان کی وہی پروازیں ہیں مگر زمان پارک اور عمران خان کی پیشگیوں پر جو مناظر ہیں وہاں تحریک انصاف کا کوئی کارکن نظر نہیں آتا۔

اسی طرح جو لوگ تحریک انصاف کو چھوڑ گئے ہیں وہ بھی چھپکلی کی کٹی ہوئی دم سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ جو تھوڑی دیر کے لئے تڑپتی ہے تو یوں لگتا ہے کہ اس میں ابھی جان باقی ہے مگر جلد ہی ٹھنڈی پڑ جاتی ہے۔ دوسری طرف جو لوگ جہانگیر ترین سے رابطے کر رہے ہیں وہ بھی ماضی کی یادوں کے دلاسوں سے زیادہ کچھ نہیں۔ جہانگیر ترین کا برینڈ نہ تو کسی کو الیکشن جتوا سکتا ہے اور نہ ہی اس کو کوئی قبول کرے گا۔

اس وقت تو جیتے ہوئے ممبران کی سیاست تھی جہاں اس کا پیسہ چل گیا یا اس کے پیچھے طاقت کی کرامات تھیں۔ اگر موجودہ حالات میں عمران خان کا طلسماتی جادو اور سابقہ خاتون اول کا دم درود ناکام ہو چکا ہے تو پھر کوئی یہ مت سمجھے کہ وہ تحریک انصاف کے نام پر اپنی دکانداری چمکا لے گا۔ تحریک انصاف اب تحریک استقلال ہی سمجھئے۔ تحریک انصاف کی بقاء صرف عمران خاں کی اصولی سیاست اور جمہوریت سے ہی ممکن تھی جس کا چانس اس کو عوامی ہمدردیوں سے مل گیا تھا مگر وہ اس کو سبنھال نہ سکے۔

اگر وہ قومی اسمبلی اور صوبائی حکومتوں کی طاقت کو ہاتھ سے جاتا نہ کرتے تو ان کے حامی سفید پوشوں کو بھی آسان تھا کہ ان کو بچا لیتے مگر اب تو ان کو بھی اپنی جان کی پڑ گئی ہے۔ قومی اسمبلی سے استعفے اور صوبائی حکومت کے خاتمے نے تحریک انصاف کو جھاڑیوں میں تبدیل کر دیا تھا۔ اور اب حقیقی آزادی کی تباہی نے ان جھاڑیوں میں جو آگ لگا دی ہے اس نے انصاف کی جھاڑیوں کو بھی راکھ بنا دیا ہے اور جو بچ سکتے تھے وہ بھاگ گئے اور جو اندر پائے گئے ان کا بچنا مشکل لگ رہا ہے۔ تحریک انصاف، اب تحریک استقلال بنتی نظر آ رہی ہے۔

تحریک انصاف اور عمران خان کا اصل نقصان ان پر سے اٹھ جانے والا اعتماد ہے۔ اب پاکستان کی سیاست میں ان کی حکمت عملیوں کو فقط انتشار کا درجہ حاصل ہے جو ہمارے موجودہ حالات کے پیش نظر تباہی کے علاوہ کچھ نہیں۔ سب سمجھتے ہیں کہ اگر ان کو آزادانہ سیاست کرنے دی جائے تو سیاسی استحکام کی کوئی امید نہیں اور نہ ہی ان کے پاس ملک کو سنبھالنے کی اہلیت ہے۔ لہٰذا فی الحال ان کی سیاست کو پابند سلاسل رکھنے میں ہی بہتری تصور کی جا رہی ہے۔

دوسری طرف پی ڈی ایم اور ان کی اتحاد ی جماعتوں کے لئے بھی کوئی یقینی منزل نظر نہیں آ رہی کیونکہ ان کے پاس ابھی تک دکھانے کے لئے نہ کوئی کارکردگی ہے اور نہ ہی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا کوئی فارمولا۔ حکومت کا بھی ایک کڑا امتحان ہے۔ اگر تو حکومت اچھی روایات کی شروعات چاہتی ہے تو اس کا آغاز اصولی سیاست اور حقیقی جمہوریت سے رکھنا ہوگی۔ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ آزادانہ طور پر الیکشن میں حصہ لیں اور “ووٹ کو عزت دو” کے اپنے نعرے کو کوئی اور عزت دے یا نہ دے خود تو دینی چاہیے۔

اور اگر وہ اس پر عمل کرنے میں ناکام رہے تو پھر ان کے سیاسی تابوت میں بھی آخری کیل ہی ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے پاس بھی تحریک انصاف کی طرح ترقی کا کوئی حل نہیں مگر ان کے پاس ماضی سے سبق حاصل کرنے کا موقع ضرور ہے کہ وہ ماضی کی غلطیاں نہ کریں اور کسی بھی طرح کا اقتدار حاصل کرنے کی کسی بھی بے اصولی سیاست کی کوشش کرکے اپنے آپ کو مزید کسی امتحان میں نہ ڈالیں۔

غیر جانبدار اور شفاف الیکشن ہونے چاہیے۔ تمام جماعتوں بشمول تحریک انصاف کو آزادانہ شرکت کی اجازت ہونی چاہیے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ الیکشن سے پہلے ایسی اصلاحات کی ضرورت ہے جن سے الیکشن کمیشن کو مکمل خود مختاری حاصل ہو اور الیکشن ہمارے زمینی حقائق کی بنیاد پر ہونے چاہیے۔ جن میں صرف شفاف اور آزادانہ ہی نہیں بلکہ اس طرز کے ہونے چاہیے جن میں پاکستان کے عوام کی حقیقی نمائندگی ملے۔

جس کی بنیاد روائتی مال و دولت کی نمائش اور عمل دخل والی سیاست نہیں بلکہ حقیقت کی بنیاد تعلیم، کردار اور ملک و قوم سے محبت ہو۔ ہمارے معاشرے کی سطح کی قیادت کو سامنے آنے کا موقع ملنا چاہیے تاکہ عام شہری کی شرکت بھی یقینی ہو سکے۔ اور جس کو بھی عوام چاہتے ہوں اس کو حکومت دینی چاہیے۔ اور یہ سب تب ہی ممکن ہے جب تمام سیاسی جماعتیں بشمول تحریک انصاف اکٹھے بیٹھ کر انتخابی اصلاحات لائیں جن میں غیر جمہوری اور غیر سیاسی کرداروں کا راستہ بند کیا جا سکے۔

ماضی کی جمہوری حکومتوں کا تقابلی جائزہ لیں تو مسلم لیگ نواز کے پاس ترقی کا پلان بھی ہے اور بین الاقوامی اعتماد بھی۔ جس کی گواہی ان کا ہر دور دیتا ہے۔ اور اس کا مشاہدہ دو ہزار تیرہ اور اٹھارہ کے پاکستان کے فرق سے لگایا جا سکتا ہے۔ عمران خان کی حکومت گرانے کے بعد سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ نون کا ہوا ہے۔ اب اس آنے والے بجٹ میں اگر وہ عوام کو کوئی ریلیف دے سکے تو پھر عوامی غضب سے بچا جا سکتا ہے جس کی امید کم ہی ہے کیونکہ ابھی آئی ایم ایف کی شرائط بھی سر پر لٹک رہی ہیں اور مہنگائی جس تناسب سے بڑھی ہوئی ہے اس کو واپس لانا بھی انتہائی دشوار ہے۔

اب ان کے پاس نواز شریف پر لوگوں کے اعتماد اور بھروسے کی آخری امید باقی بچی ہے جس کی بنیاد پر قوم ان کو موقع دے سکتی ہے۔ اگر تو جس طرح سے غیر جانبداری کے دعوے چل رہے ہیں ان پر اسٹیبلشمنٹ کے لئے قائم رہنے کے حالات بن جاتے ہیں تو پھر پنجاب اور مرکز میں مسلم لیگ نواز کی حکومت بن جائے گی اور ان کے لئے 2013 والا سازگار ماحول بھی میسر آ سکتا ہے۔ لیکن یہ اسی صورت میں اگر ان کی آپس میں کوئی مفاہمت کی صورتحال بن جائے تو اور اگر مفاہمت نہ ہو سکی تو پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ میں اقتدار کی ایک دوڑ بھی شروع ہو سکتی ہے اور پھر جنگ اور کھیل میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

امید کی جاتی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ماضی سے سبق سیکھیں گی اور ملک و قوم پر رحم کرتے ہوئے اپنے ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دیں گی۔ اب محسوس یہ ہو رہا ہے کہ حکومت کوئی دوستانہ بجٹ دے کر انتخابات کی طرف جانے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ تمام شکوک و شبہات کو ختم کرکے صحیح عوامی ترجمان حکومت کے قیام کی طرف جایا جائے جو انتخابات سے ہی ممکن ہے۔ اور آنے والی حکومت کے لئے معاملات بہت بڑا چیلنج ہونگے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply