پیالی میں طوفان (81) ۔ فلائی وہیل/وہاراامباکر

کوئی بھی شے جو گھوم رہی ہو، اپنے گھماؤ کی وجہ سے اضافی توانائی رکھتی ہے۔ اور اس وجہ سے یہ توانائی کو سٹور کرنے کا کام کر سکتی ہے۔ اگر آپ اس کے سست ہونے وقت اس سے واپس توانائی حاصل کر سکیں تو یہ مکینیکل بیٹری کا کام کر سکتی ہے۔ یہ فلائی وہیل ہے۔ اور یہ تیکنالوجی نئی نہیں، صدیوں پرانی ہے۔ لیکن اب ان کی ایک نئی لہر کی آمد ایک بڑے مشکل مسئلے کو حل کرنے میں مدد کر سکتی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

توانائی کے گرڈ کا ایک سب سے بڑا مسئلہ سپلائی اور ڈیمانڈ کے درمیان میچ کروانا ہے۔ اگر سب سرِ شام اپنے گھر کی بتیاں جلا دیتے ہیں تو ملک بھر میں توانائی کی ڈیمانڈ اگلے چند گھنٹوں میں بڑھ جاتی ہے۔ یہ توانائی کے ڈیزائن کے لئے سنجیدہ مسئلہ ہے۔ ہم چاہیں گے کہ کوئی سسٹم پر نظر رکھے اور اتنی ہی توانائی گرڈ میں داخل ہو جتنی ضرورت ہے تا کہ اس اضافی لوڈ کو پورا کیا جا سکے اور جب یہ ڈیمانڈ کم ہو تو توانائی کم بنے۔ لیکن ایک اور مسئلہ پاور سٹیشن ہیں۔ اگر کوئلے کا سٹیشن بجلی پیدا کر رہا ہے تو اس کو سٹارٹ ہونے اور رکنے میں گھنٹوں کا وقت لگ جاتا ہے۔ اور ہمارے پاس ہمیشہ توانائی کی پیداوار کا کنٹرول بھی نہیں ہوتا۔ ری نیو ایبل توانائی کے ساتھ بڑی مشکل یہ ہے کہ ہم اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے کہ یہ کب بنے گی۔ دھوپ ہو تو شمسی توانائی بنے گی اور سرِ شام ختم۔ جب دھوپ چمک رہی ہو اور اتنی توانائی کی ضرورت نہ ہو؟
آپ شاید کہیں گے کہ اس اضافی توانائی کو بیٹری میں سٹور کیوں نہ کر لیا جائے؟ لیکن برقی بیٹری اچھے طریقے سے یہ کام نہیں کر پاتیں۔ یہ مہنگی ہیں اور ان کو بنانے کے لئے نایاب دھاتوں کی ضرورت ہے۔ ان کے چارج اور ڈسچارج ہونے کے سائیکل محدود ہیں۔ اور اس پر حد ہے کہ یہ کتنی سٹوریج دے سکیں۔
پچھلے برسوں میں پروٹوٹائپ فلائی وہیل پراجیکٹ منظرعام پر آئے ہیں۔ اور یہ مستقبل میں ایک ممکنہ متبادل ہو سکتے ہیں۔
فلائی وہیل ایک گھومنے والا سلنڈر یا ڈِسک ہے۔ اس کی بئیرنگ میں فرکشن نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ ایک بار یہ گھومنے لگے تو گھومتی رہتی ہے۔ اور چونکہ گھومنے کے ساتھ ہی توانائی وابستہ ہے، اس لئے یہ توانائی کا سٹور بن جاتا ہے۔ گرڈ کی اضافی توانائی کو ان کو گھمانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ گھومتے رہیں گے۔ اور جب توانائی کی ضرورت ہو تو اس کو سست کر کے بجلی میں بدلا جا سکتا ہے۔ اس پر کوئی حد نہیں کہ ان کو کتنی بار چارج اور ڈسچارج کیا جا سکے اور یہ بہت جلد اپنی توانائی ریلیز کر سکتے ہیں۔ اس کو چلانے کی لاگت کم ہے اور توانائی کا نوے فیصد قابلِ استعمال رہتا ہے۔ ان کا بینک شمسی توانائی کے ساتھ یا انرجی گرڈ کے ساتھ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کو ہائبرڈ بس میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ جب بس بریک لگائے تو توانائی ذخیرہ کر لیں اور بس کو تیز کرنے میں استعمال کی جائے۔
فلائی وہیل اس لئے پرکشش ہیں کہ یہ ایک سادہ اور خوبصورت آئیڈیا کی بنیاد پر ہیں، جو کہ اینگولر مومنٹم کی کنزرویشن ہے۔
انڈے، لٹو اور چینی ہلانے کے لئے گھمائی جانے والی چائے ۔۔۔ ان سب کے پیچھے ایک ہی اصول ہے۔ اور جدید ٹیکنالوجی سے اس کو مفید عملی حل میں بدلا جا سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ابتدائی دن ہیں، لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ ہمیں مستقبل میں گھومتے ہوئے فلائی وہیل دیکھنے کا زیادہ موقع ملے گا۔
(جاری ہے)

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply