صحافیوں کیلئے مفاد عامہ کا پیغام /اظہر سید

عمران ریاض کے بعد سمیع ابراہیم بھی اٹھایا جا چکا ہے اور توقعات کے مطابق پولیس نے گرفتاری سے لاعلمی ظاہر کی ہے ۔جو خبریں آرہی ہیں وہ اچھی خبریں نہیں ہیں۔ جلد ہی یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کے دوسرے یوتھیوں پر بھی ہاتھ ڈالا جا رہا ہے ۔
صحافیوں نے نوسر باز کا پرچم اٹھایا تو اس کے پیچھے محبت یا نظریہ نہیں صرف مفادات تھے ۔عام لوگوں کو پتہ ہی نہیں سوشل میڈیا اور اداکاروں کی طرف سے حمایت بھی بھاری رقوم کے عوض ہوتی تھی ۔ سمیع ابراہیم کی گرفتاری ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے ۔مزید گرفتاریاں ہونی ہیں ہم اس موقع پر پالتو صحافیوں کو ایک مرتبہ پھر بتا رہے ہیں کہ انسان بنیں اور عوام کو گمراہ نہ کریں ورنہ اب باجوہ نہیں حافظ صاحب ہیں ۔

جب قلم اور ضمیر بیچ دیا تو پھر مجاہد بننے کی کوئی ضرورت نہیں ۔مالکوں کے حکم پر آنکھیں بند کر کے حکم کی تعمیل کا مشورہ ہے۔جنہوں نے پالا پوسا ،بڑے چینلز پر پرائم ٹائم لے کر دیا ۔چینل مالکان کے Zریعے بڑی تنخواہیں مقرر کرائیں, انہیں آنکھیں دکھانا بے وفائی ہی نہیں بے غیرتی بھی ہے ۔

چینل پر بیٹھ کر عوام کو گمراہ کرو, زرداری کے پیسے فالودے والے کے اکاؤنٹس میں جاتے ہیں۔رائے عامہ ہموار کرو ,نواز شریف کی مِلوں میں را ء کے ایجنٹ ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر سے ملاقات کی ہیں ۔

عوام کو بے خوف ہو کر گمراہ کرو، نواز شریف پانچ ارب ڈالر اور آصف علی زرداری دس ارب ڈالر کی ڈیل کیلئے پاؤں پکڑ رہا ہے ۔
اپنے لئے جہاز خریدو تمہارہ کوئی بال بیکا نہیں کر سکتا ۔

پالتو اینکرز کو دنیا میں جنت فراہم کر دی گئی ۔ ہاؤسنگ اسکیموں میں پلاٹ در پلاٹ اور پھر ان پر تعمیرات ،بیگمات کے نام پلاٹ ۔

چند سالوں میں بڑے بڑے محلات ،قیمتی گاڑیاں جنہوں نے بنانے کا موقع دیا ان کے سامنے صرف دُم ہلانے کا مشورہ ہے ۔ہر گز ہر گز غرّانے کی کوشش نہ کی جائے ۔چپ چاپ پُر آسائش زندگی گزاری جائے ۔قیمتی گاڑیوں میں “چوٹے” لئے جائیں اور بس ۔

احسان فراموشو  ! جب مالکوں کو للکارتے ہو کیوں بھول جاتے ہو تمہیں مخصوص کلاسیفائیڈ دستاویزات دی گئی تھیں ۔تمہیں “بڑا”صحافی بننے کا موقع دیا گیا تھا ۔

نالائقو !تمہیں تو انگریزی دور کی بات درست اردو لکھنا بھی نہیں آتی تھی ۔تمہیں بڑے چینلز پر پتہ نہیں کون کون سے عہدے لے کر دیے گئے ۔جو سب کچھ لے کر دیتے ہیں وہ اپنے اوپر بھونکنے کی اجازت کیوں دیں گے ،کیا اتنی عقل نہیں ۔؟
جب قلم فروشی اور ضمیر فروشی کی مان چاہی قیمت وصول کر لی تو پھر بغاوت چہ معنی؟

جب اپنی آئندہ نسلوں کیلئے بھی اثاثے بنا لئے ۔ جب کلاسیفائیڈ دستاویزات حاصل کر کے بہت بڑے پھنے خان صحافی بن گئے تو پھر احسان فراموشی کیوں ۔؟

مفاد عامہ کیلئے مفت مشورہ ہے چوں کرو نہ چراں۔قیمت وصول کر لی تو پھر اعتراض کی گنجائش کہاں بچتی ہے۔مالک دن کو رات کہیں تو فوری طور پر دم ہلا کر اسے رات کہو۔ مالک رات کو دن کہیں فوری سے پہلے قدموں میں لوٹ پوٹ ہو کر قسم کھا لو یہ دن ہے ۔

مالکوں کو تمہاری اوقات کا پتہ ہے ۔ہر گز ہر گز غیر جانبداری کا ڈرامہ نہ کرنا ۔مالک کہیں نواز شریف چور ہے پوری طاقت سے نواز شریف کو چور کہو۔مالک بولیں نواز شریف ٹھیک ہے الٹی قلابازی لگانے میں ایک لمحہ ضائع کئے بغیر کہو نواز شریف ٹھیک ہے ۔جب تم قیمتی پلاٹ خرید رہے تھے ۔جب تمہاری بیگم کسی کے کریڈٹ کارڈ پر مہنگی شاپنگ کر رہی تھی اس وقت تم نے اپنا صحافی والا کردار ختم کر دیا تھا۔

جب تم دی گئی ایکسکلوسیو خبروں کے ذریعے طرم خان بن رہے تھے اس وقت تم صحافت چھوڑ کر دلال بن چکے تھے ۔

اگر زندگی پُر لطف رکھنی  ہے ۔محلات اور قیمتی گاڑیوں والی زندگی جاری رکھنی  ہے ۔طرم خان بنے رہنا ہے ۔بڑا صحافی اور بڑا اینکر کا ٹائٹل برقرار رکھنا ہے تو پھر خاموش رہو ۔مالکوں کو آنکھیں مت دکھاؤ ۔جھوٹ بولو لیکن صرف مالکوں کے حکم پر ۔نو سو چوہے کھا کر حج کرنے کا ارادہ کرو گے تو انجام دردناک ہو گا اور جو کچھ کمایا اس پر دوسرے مزے کریں گے ۔ضمیر فروشی اور قلم فروشی کی کمائی سے مزیدار زندگی گزارنی ہے تو جیسے چل رہا ہے ویسے چلنے دو کیوں بھری جوانی میں ساتھیوں کو لمبی جدائی کا دکھ دینا چاہتے ہو ۔

Advertisements
julia rana solicitors

دیکھتے نہیں نواز شریف نے زندگی بھی بچا لی اور سیاست بھی ۔دیکھتے نہیں بلاول بھٹو نے صرف 24 گھنٹے لگائے عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں اپنے الفاظ پر معذرت کر لی ۔کیا تمہیں نظر نہیں آتا، ن لیگ نے چیف جسٹس کے نامزد جج قبول کر لئے ۔جب سیاستدان بھٹو کی پھانسی سے سبق حاصل کر چکے تم کس باغ کی مولی ہو ۔؟

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply