مذہبی فرقہ واریت کا سد باب۔ توجہ طلب پہلو

فرقہ واریت کی اصطلاح عموماً اس مذہبی تقسیم کے حوالے سے استعمال کی جاتی ہے جس کا اظہار مختلف گروہوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف تکفیر وتضلیل کے فتاویٰ اور اپنے اپنے وابستگان میں دوسروں کے خلاف مذہبی بنیاد پر منافرت پیدا کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے اسباب بنیادی طور پر دو ہیں۔ ایک کا تعلق مذہبی فکر سے اور دوسرے کا سماجی حرکیات سے ہے۔

فرقہ وارانہ مذہبی فکر کا محوری نکتہ یہ ہوتا ہے کہ کسی مذہبی عقیدے کی تعبیر میں مستند اور معیاری موقف (یعنی جسے کوئی گروہ اپنے فہم کے مطابق مستند اور معیاری سمجھتا ہو)سے اختلاف کرنے والے اس مذہب کے ساتھ اپنی جس اصولی وابستگی اور نسبت کا دعویٰ کرتے ہیں، اس کی یکسر نفی کر دی جائے اور انھیں ان لوگوں کی مانند قرار دیا جائے جو سرے سے اس مذہبی روایت کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں رکھتے۔ یہ رویہ مذہبی فہم اور مذہبی تعبیر میں تنوع کے امکان کو تسلیم نہ کرنے اور اعتقادی تعبیرات کو سائنسی یا ریاضیاتی نوعیت کے بیانات کے ہم معنی سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے۔مزید برآں اس انداز فکر میں اس سوال کا بھی ایک غیر متوازن جواب طے کیا جاتا ہے کہ کسی گروہ کی طرف سے ایک مخصوص مذہبی روایت کے ساتھ اصولی وابستگی قبول کر لینے اور اس کے بعد اعتقادی وعملی گمراہیوں میں مبتلا ہو جانے کی صورت میں کس پہلو کو کتنا وزن دیا جائے۔
سماجی حرکیات کی رو سے فرقہ واریت، طاقت اور وسائل کے حصول اور اپنے دائرہ اثر کو بڑھانے کی جبلت کا مظہر ہوتی ہے۔ مذہب ہمیشہ سے انسانی معاشروں میں طاقت اور سیادت کے حصول کا موثر ترین ذریعہ رہا ہے۔ مذہبی اختلاف کی بنیاد پر جب معاشرتی تقسیم پیدا ہوتی ہے تو ہر گروہ اپنے اپنے دائرہ اثر کو محفوظ رکھنے اور اس میں وسعت پیدا کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے اور اس کے لیے حریف مذہبی گروہوں پر کفر وضلالت کے فتوے عائد کرنا نتیجہ خیز اور موثر ثابت ہوتا ہے۔ یہ کشمکش کسی معاشرے کے مانے ہوئے اور مسلمہ مذہبی گروہوں کے مابین بھی پائی جاتی ہے، تاہم صرف اس دائرے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس کا زیادہ سنگین اظہار ان فکری حلقوں کے حوالے سے ہوتا ہے جو اپنی دینی تعبیرات میں روایتی مذہبی گروہوں کے طے کردہ دائروں اور حدود کی پابندی ضروری نہیں سمجھتے۔ ایسی صورت میں روایتی مذہبی گروہ عموماً ایک مشترکہ خطرے کے مقابلے میں یک جان اور یک زبان ہو جاتے ہیں اور یوں نفرت انگیزی کا یہ عمل ایک نئی طرح کی گروہی تقسیم کی بنیاد بن جاتا ہے۔
اس صورت حال میں بہتری لانا، ظاہر ہے ، بہت گہرے غور وفکر اور بہت سنجیدہ منصوبہ بندی کا متقاضی ہے۔ یہ خوش آئند ہے کہ صورت حال کی سنگینی کی طرف نہ صرف عمومی طور پر معاشرتی طبقات بلکہ خود دینی قیادت بھی متوجہ ہو رہی ہے اور خاص طور پر نوجوان نسل بہت سے حوالوں سے ان ذہنی جکڑ بندیوں سے آزاد ہو کر سوچنے کی صلاحیت رکھتی ہے جن میں مختلف مذہبی گروہ پنے اپنے وابستگان کو باندھنے کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔

ہماری رائے میں فرقہ وارانہ ماحول میں تبدیلی پیدا کرنے کے لیے چند نہایت بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگرچہ ان سب کو بیک وقت رو بہ عمل نہیں کیا جا سکتا، لیکن طویل مدتی منصوبہ بندی میں بہرحال انھیں پیش نظر رہنا چاہیے:

۱۔ دینی تعلیم کا موجودہ نظام اور مدارس کا ماحول فرقہ وارانہ ماحول کا سب سے بڑا منبع ہے۔ ا س کی اصلاح کیے بغیر کوئی حقیقی تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ ضروری ہے کہ دینی تعلیم کا نظام مخصوص فکری یا کلامی مسالک کے بجائے مجموعی اسلامی روایت اور اس کے متنوع فکری مظاہر کو تعلیم وتدریس اور ذہن سازی کی بنیاد بنائے۔

۲۔ تمام مذہبی حلقہ ہائے فکر کے مابین باہمی میل جول ، مکالمہ اور تبادلہ خیال کے مواقع ہر ہر سطح پر پیدا کرنے چاہییں۔ ابتدا میں کچھ دوسرے ادارے اس طرح کے فورم مہیا کر سکتے ہیں، لیکن اصلاً دینی حلقوں کو یہ کام خود اپنے داخلی داعیے اور اپنی قوت ارادی کی بنیاد پر کرنا ہوگا۔

۳۔ فرقہ واریت کے حوالے سے سول سوسائٹی کی تعلیم وتربیت اور ذہن سازی سب سے موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ معاشرے کے تمام با اثر طبقات کی ذہن سازی کو مستقل طو رپر موضوع بنانا چاہیے، اس لیے کہ کسی بھی رویے کو جب تک عام معاشرے کی طرف سے تائید اور ہمدردی نہ ملے، وہ جڑ نہیں پکڑ سکتا۔

۴۔ اس معاملے میں حکومت کا کردار زیادہ تر خاموش تماشائی کا ہے اور بعض پہلووں سے منفی بھی ہے۔ حکومتوں نے فرقہ وارانہ تقسیم کا مقابلہ کرنے کے بجائے اسے قبول کرنے اور سیاسی مقاصد کے لیے اسے استعمال کرنے کی پالیسی بنائی ہوئی ہے جو تقسیم کو تسلسل دینے اور مضبوط تر کرنے کی ذمہ دار ہے۔ اس پالیسی میں بھی بنیادی تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

۵۔ مذہبی طبقات کے ذہین عناصر کو جدید فکری اور معاشرتی چیلنجز کی طرف متوجہ کرنا فرقہ وارانہ ماحول میں تبدیلی کا ایک بہت موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ مذہبی ماحول میں جن مسائل وموضوعات کو اہمیت اور ترجیح کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، ذہین عناصر بھی عموماً اس کا اثر قبول کرتے اور انھی ترجیحات کو اپنی ذہنی وفکری کاوشوں کا میدان بنا لیتے ہیں۔ اگر ان کی ذہنی توجہ کے دائرے بدل دیے جائیں اور انھیں امت کے حقیقی اور زندہ مسائل کی طرف متوجہ کر لیا جائے تو اس سے خود بخود ماحول میں ایک مثبت تبدیلی پیدا ہونا شروع ہو جائے گی۔

۶۔ دینی راہ نماوں کی ذہنی ونفسیاتی تربیت بھی کام کا ایک اہم میدان ہے۔ اس کے لیے Capacity building کے باقاعدہ منصوبے بنانے چاہییں اور مستقبل کے متوقع دینی قائدین کو فکر وشعور کے ساتھ ساتھ ایسی عملی مہارتیں بھی سکھانی چاہییں جس سے ان کا کردار مثبت رخ پر ڈھل سکے اور وہ اپنی مساعی کو تعمیر معاشرہ پر مرکوز کر سکیں۔

۷۔ دینی قیادت میں مغلوبیت اور پچھڑے پن کا تحت الشعوری احساس بطور خاص توجہ کا متقاضی ہے۔ یہ احساس علمی اور عملی میدانوں میں مسابقت کے فطری جذبے کو حدود اعتدال میں نہیں رہنے دیتا اور مثبت طور پر اپنے کاز کو آگے بڑھانے کے بجائے انھیں حریف اور مخالف طبقات کے بارے میں غیر ضروری طو رپر حساس بنا دیتا ہے۔ اسی احساس کے زیر اثر، ہر قیمت پر غلبہ اور برتری حاصل کرنے کے جذبے سے مذہبی تقسیم، سیاسی عوامل کا آلہ کار بن جاتی ہے جس سے فرقہ وارانہ مذہبی تقسیم مزید پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتی ہے۔

۸۔ اختلاف اور تنقید کی اخلاقیات کی پابندی کو اس نوع کی ساری کاوشوں کا بنیادی ہدف قرار دینا چاہیے۔ تمام مسلکی حلقوں میں اس طرز فکر کو دینی واخلاقی بنیادوں پر ایک مسلمہ کا درجہ حاصل ہو جانا چاہیے کہ کسی بھی نقطہ نظر پر تنقید کرتے ہوئے اس کے موقف کی درست تعبیر، اصلاح کا ہمدردانہ جذبہ اور اسلوب بیان کی شائستگی جیسے اصولوں کی کسی بھی حال میں قربانی نہیں دی جا سکتی۔

عمار خان ناصر
عمار خان ناصر
مدیر ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *