• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا سپریم کورٹ الیکشن کروا پائے گی؟-ڈاکٹر ابرار ماجد

کیا سپریم کورٹ الیکشن کروا پائے گی؟-ڈاکٹر ابرار ماجد

سپریم کورٹ کا احترام، سر آنکھوں پر، آئین بھی واضح کہتا ہے الیکشن نوے دنوں میں ہونے چاہیے، مگر کیا سپریم کورٹ واقعی الیکشن کروانے بارے سنجیدہ ہے اور وہ کروا پائے گی؟ اور اگر الیکشن ہو گئے تو کیا یہ واقعی غیر جانبدارانہ، شفاف اور قبولیت کا درجہ رکھتے ہونگے؟

چیف صاحب اور ان کے ہم خیال ججز ضرور الیکشن کروائیں مگر اس کے کل نتائج کیا ہونگے اس پر بھی کچھ سوچ و بچار کر لیں۔ کیا اس الیکشن اور اسطرح سے الیکشن کروانے پر صرف وفاقی حکومت کو ہی اعتراض ہے؟ کیا سپریم کورٹ کے اندر سے اس مؤقف کے خلاف کوئی بات نہیں ہو رہی؟ کیا اس الیکشن کے معاملے پر سپریم کورٹ کے اختلافات کھل کر سامنے نہیں آ گئے بلکہ اب تو ججز کے درمیان تکرار اور ہاتھا پائی تک کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کیا آٹھ ججز کے لارجر بنچ پر اعتراضات نہیں اٹھ رہے؟ کیا فیصلہ دینے والا بنچ مکمل طور اتفاق رائے رکھتا تھا یا اس فیصلہ پر سپریم کورٹ میں کوئی تحفظات نہیں ہیں۔

کیا اس بنچ کے ججز نے اس فیصلہ کے بارے تین چار کی نسبت کی بات نہیں کی۔ کیا تحریک انصاف کے علاوہ اس ملک کی تمام کی تمام سیاسی جماعتیں، اور الیکشن کمیشن سمیت تمام کے تمام ادارے ابھی فی الفور الیکشن کے ممکنات اور نتائج بارے اپنے تحفظات نہیں رکھتے۔ کیا ان تمام سٹیک ہولڈرز کو سنا گیا؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب دینے کے چیف صاحب پابند تو نہیں مگر عوام اور سیاسی جماعتوں اور اداروں کے اندر ان کو جاننے کی تشنگی ضرور ہے جس کے اثرات سے بھی کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے تو کل اسٹیٹ بنک کو حکم بھی جاری کر دیا کہ فنڈز مہیا کئے جائیں۔ مالی معاملات بھی حل ہو جائیں گے۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی تیار بیٹھا ہے تو پھر بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ اب الیکشن کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔ فرض کریں چودہ مئی کو الیکشن بھی ہو جاتا ہے تو اگر اس کے دوران کوئی غیر خوشگوار واقعہ ہو جاتا ہے تو کون ذمہ دار ہوگا۔ اور اگر پر امن ہو جاتا ہے مگر اس کے نتائج کو ماننے سے تحریک انصاف جس کو اپنی ہی حکومت کو ختم کرکے دوبارہ حکومت حاصل کرنے کا بھوت سوار ہے۔

وفاقی حکومت، صوبائی عبوری حکومت، الیکشن کمیشن، اور دوسرے اداروں بارے اس کو پہلے ہی تحفظات ہیں، وہ ہی الیکشن کے نتائج کو ماننے سے انکار کر دیتی ہے اور وہ الیکشن کے نتائج پر دھاندلی کے الزامات لگا دیتی ہے جو کہ ان کی سوچ اور عمل کو دیکھ کر بعید از قیاس نہیں لگتا۔ تو اس الیکشن سے حاصل کیا ہوگا۔ تحریک انصاف کو عوامی ہمدردیوں اور حمائت کا گھمنڈ بھی کسی تکنیکی بندوبست کی زد میں آ جاتا ہے جس کے الزام کی زد میں خود تحریک انصاف بھی رہی ہے تو کیا ہوگا؟

اور فرض کریں اگر وفاقی حکومت کو نااہل قرار دے دیا جاتا ہے اور پنجاب میں الیکشن ہو جاتے ہیں اور تحریک انصاف کامیاب ہو جاتی ہے، نتائج کو تسلیم کر لیتی ہے مگر باقی تمام سیاسی جماعتیں بائیکاٹ کر دیتی ہیں تو کیا حاصل ہوگا کیا پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے احتجاجات کا سلسلہ اور تحریک انصاف کی حاصل کردہ حکومت اس ملک کے مسائل کا حل دے سکی گی۔

ہو سکتا ہے اس وقت عدالتی فیصلوں کی بدولت موجودہ حکومت اور اس کی حامی جماعتیں مظلوم بن کر عوام کی ہمدردیاں سمیٹ رہی ہوں اور تحریک انصاف عوامی غیض و غضب کا سامنا کر رہی ہو۔ کیونکہ جب تک اس ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا اس وقت تک کوئی بھی کسی بھی قسم کی تبدیلی کار گر ثابت نہیں ہو سکتی۔

اتنے عرصے میں سپریم کورٹ کے اندر بھی تبدیلی آ چکی ہوگی اور موجودہ موسم بھی بدل چکے ہوں گے جسکے اپنے اثرات ہونگے جن کے نتائج بھی آج کے حالات سے یکسر مختلف ہونگے۔ ہو سکتا ہے۔ موجودہ تکنیکی بندوبست ختم ہو چکے ہوں اور بنچز کی تشکیل کا طریقہ کار بھی مختلف ہو۔ آج کے کئے ہوئے فیصلے بھی عدالتی رائے کا نشانہ بن رہے ہوں۔ وہ عدالتی رائے جو آج تکنیکی بندوبست کے ذریعے سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ آزاد ہو چکی ہوگی اور اس کے نتائج بھی سامنے آ چکے ہونگے۔ جیسے نومبر میں فوج میں استعفے آئے تھے ایسے ہی ستمبر میں ججز کے استعفے بھی آ سکتے ہیں۔ تاریخ کا ایک باب ختم ہو کر نیا باب شروع ہو چکا ہوگا۔

تو آخر میں سوال یہ بنتا ہے کہ اس ساری مشق اور وسائل کے ضیاع کے بعد حاصل کیا ہوگا؟ کیا اس سے ملک و قوم کی بہتری کی کوئی صورت بھی نکل سکتی ہے۔ کیا موجودہ، سیاسی، معاشی اور آئینی بحرانوں کے کم ہونے میں کوئی مدد مل سکے گی۔ میرے خیال میں تو ان سارے سوالوں کے جواب اس وقت تک نفی میں آتے ہیں جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا اور سب جماعتیں مل بیٹھ کر اس بارے کوئی لائحہ عمل نہیں بنائیں گی اور سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ قوم و ملک کی فکر اور خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے نہیں بڑھیں گی۔

یہ اقتدار کی حوس اور ذاتی مفادات کی سوچ کی جنگ ختم کرکے آگے نہیں بڑھیں گی کوئی پائیدار حل نظر نہیں آتا۔ اس کو ممکن بنانے کے لیے عوام اور اداروں کا بھی بہت اہم کردار ہے جس کا حصول سوچ کی تبدیلی سے ہی ممکن ہے جس کی بنیاد ملکی و قومی مفادات کی ترحیحات ہوں محض زبانی نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے۔ ہر کوئی اپنا اپنا کردار ادا کرے خواہ وہ کسی ادارے میں بیٹھا ہو یا پارلیمان میں اقتدار کی ذمہ داریاں رکھتا ہو یا حزب اختلاف کی۔

Advertisements
julia rana solicitors london

چیف صاحب سے گزارش ہے کہ اس طرح کے الیکشن کی بجائے اپنے ادارے میں تقسیم ختم کرنے کی ایک اور کوشش کر دیکھئے اور اگر اس ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی ساکھ بحال ہو کر تقویت مل گئی تو ملکی و قومی حالات پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ جب سیاسی جماعتوں اور عوام کی سوالیہ تشنگی ختم ہوگی تو ادارے پر اعتماد بڑھے گا اور فیصلوں پر عملداری بھی یقینی ہو جائے گی۔ چار پانچ مہینے کی کوششوں سے تاریخ میں متازعہ بننے کی بجائے ایک متحد کرنے والی شخصیت کے طور پر اپنا نام لکھوائیں۔ ان کے اختیارات اپنی جگہ، ان سے انکار نہیں لیکن اگر سپریم کورٹ کا اپنا ضمیر ان کے فیصلوں کا ساتھ دے رہا ہوتا تو بات ہی کچھ اور تھی مگر افسوس کہ وہ کچھ بھی سمجھ رہے ہوں ایسا نہیں ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply