• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • انتظامی اتھارٹی کے ہاتھوں زرعی نظام کا استحصال۔۔اسلم اعوان

انتظامی اتھارٹی کے ہاتھوں زرعی نظام کا استحصال۔۔اسلم اعوان

 اس وقت ملک بھر میں کماد کے کاشتکاروں کو جس اذیت ناک مراحل سے گزرنا پڑ  رہا ہے یہ زرعی معیشت کے حامل کسی بھی ملک کے پالیسی سازوں کی ناکامی اور انتظامی اتھارٹی کے زوال کا مظہر سمجھا جائے گا،پنجاب اور سندھ کے کاشتکار کماد کی فصلوں کو آگ لگا رہے ہیں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مل اہلکاروں پہ حملے ہوئے ہیں۔حیرت انگیز امر یہ ہے کہ عام طور پہ دنیا بھر میں سرمایا دار کلاس صنعتی ترقی کے لئے ٹیکنیکل  ایجوکیشن اور زراعت کی افزائش کر کے اجتماعی زندگی کی از سر نو تدوین کرتی ہے کیونکہ وسیع خام مواد اور ماہر رجال کار پیداواری عمل کی ترقی کا وسیلہ بنتے ہیں لیکن بدقسمتی ہمارا سرمایادار طبقہ،جو قومی پالیسیسز پہ اثرانداز ہونے کی طاقت رکھتا ہے،نے مہارتوں کی افزائش پہ دھیان دیا نہ خام مواد فراہم کرنے والی زراعت کو پنپنے کی مہلت دی حالانکہ باہمی انحصار کے باعث صنعت و زراعت ایک دوسرے کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتے،جدید فارمننگ کا مستقبل بجائے خود زرعی مشینوں سے جڑا ہوا ہے اور کیش کراپس کا تصور شوگر و کاٹن ملوں کے بغیر ممکن نہیں.
ان دنوں نہری علاقوں میں کماد اور چقندر کی کاشت میں غیر معمولی اضافہ کے سسبب ملک کے طول و عرض میں شوگر انڈسٹریز کو عروج ملا ہے، سی آر بی سی کینال کی تعمیر کے بعد صرف ڈیرہ اسماعیل خان میں پانچ بڑی شوگر ملیں لگیں،جن میں ایشیا کی سب سے بڑی شوگر مل بھی شامل ہے،شوگر ملوں کی طرف سے ترغیب دلانے کے بعد کسانوں میں کماد کی کاشت کا رجحان بڑھا،کم و بیش دو لاکھ ایکڑ اراضی پہ پھیلی کماد کی کاشت سے ڈیڑھ لاکھ گھرانوں کا روزگار وابستہ ہوا،بیشک ابتداء میں کماد کی آمدن سے دیہاتوں میں خوشحالی آئی اور کارخانہ داروں کو غیرمحدود منافع ملا،کسانوں کی قوت خرید بڑھنے اورگردش زر سے خطہ کی معشت کو توانائی ملی لیکن رفتہ رفتہ کاشتکار اور کارخانوں کے درمیان مڈل مین حائل ہوا جس نے شوگر ملز انتظامیہ کے بعض اہلکاروں کی ملی بھگت سے ٹھیکیداری نظام کو متعارف کرا کے بغیر کسی محنت اور سرمایاکاری کے کروڑوں روپے کمانے کی روایت ڈال کر صنعتی اور زرعی معشت کو یرغمال بنا لیا،
اسی مشق ستم کیش کے ذریعے حرص   سے بھرے ملز اہلکار چھوٹے کاشتکاروں کا استحصال کر کے صنعتی معیشت کو بدنام کرنے لگے،پہلے مرحلہ میں کماد کے کاشتکاروں کو انڈنٹ کی فراہمی سست ہونے لگی،جن کاشتکاروں کی معاشی مجبوریاں انہیں زیادہ دیر تک فصل کو ذخیرہ  رکھنے  کی  اجازت  نہیں  دیتی  تھیں وہ اسی حربہ کا شکار بن کے ٹھیکیداروں کے ہاتھوں اپنی سال بھر کی محنت لٹانے لگے لیکن اب مل اہلکاروں کے علاوہ ضلعی انتظامیہ کے بعض افسران کی تلویث نے مڈل مین کے کردار کو زیادہ مضبوط بنادیا،شوگر ملز انتظامیہ کے افسران کاشتکاروں کی بجائے اب ٹھیکیداروں کو لامحدود انڈنٹس کے علاوہ ایڈونس ادائیگیاں کرکے ٹھیکیداری کے دھندے کو زیادہ طاقتور بنا رہے ہیں،اس بلیک مارکیٹنگ میں مل انتظامیہ کے افسران ٹھیکیداروں کے ساتھ مل کر بغیر سرمایا کاری اور بغیر محنت کے سالانہ کروڑوں کما لیتے ہیں،سرکاری اداروں کی چشم پوشی کے باعث اب اس دھندے  نے باقاعدہ کاروبارکی شکل اختیار کر لی۔
چنانچہ ہر سال کی مانند اس سال بھی چاروں ملز کی انتظامیہ نے کرشنگ سیزن میں تاخیر اور گنے کی سرکاری قیمت خرید 180 روپے فی من سے 150 روپے من کر کے ایسا مصنوعی بحران پیدا کیا جس نے چھوٹے کاشتکاروں کی زندگی اجیرن بنا دی،یکم دسمبر سے کاشتکاروں نے احتجاجی دھرنے دے کر امن و امان کا مسئلہ پیدا کیا تو ضلعی انتظامیہ نے ایوان زراعت کے رہنماؤں کو کرشنگ سیزن شروع کر نے کے علاوہ سرکاری نرخوں پہ کماد خریدی ، یقین دہانی کرا کے دس روز سے جاری احتجاجی دھرنا ختم کر دیا لیکن عہد و پیماں کے باوجود مقامی شوگر ملیں کرشنگ سیزن کا آغاز کر سکیں نہ 180 روپے فی من کے حساب سے کماد کی خریداری ممکن بنائی گئی،واضح رہے کہ کاشتکاروں  کے  دھرنوں اور طویل احتجاج کے بعد   9 دسمبر کوضلعی انتظامیہ کی مداخلت کے بعد چاروں شوگر ملوں کے نمائندوں نے دس دسمبر سے گرشنگ سیزن شروع کر کے 180 روپے من کماد خریدنے کی ضمانت دی تھی لیکن یہ مساعی فریب ثابت ہوئی، شوگر ملوں نے خیبر پختون خوا  حکومت کی جانب سے شوگر ملز کو سبسڈی کی عدم فراہمی کو جواز بنا کر 180 فی من خریداری سے انکار کر دیا،10 دسمبرکے روزکاشتکاروں کی کماد سے لدی ٹرالیاں جب گیٹ پہ پہنچیں تو ملز انتظامیہ نے انہیں 150 روپے من کے حساب سے کماد خریدنے کا مژدہ سنا کے پریشان کر دیا،قانونی مشکلات سے بچنے کی خاطر ملیں سی پی آر دینے کی بجائے کاشتکاروں کو سفید کاغذ پہ صرف کماد کا وزن لکھ کر دینے لگیں جس پہ قیمت خرید کا اندراج نہیں ہوتا ،یہ نہ صرف غیرقانونی عمل ہے بلکہ ریاست کی اتھارٹی کو ماننے سے انکار کے مترادف ہے لیکن یہ سب کچھ صوبائی و ضلعی انتظامیہ کے خفیہ تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔
چنانچہ انتظامیہ کی ادھوری مساعی اور نیم دلانہ کوششوں نے کماد کے بحران کو دوچند کر کے کاشتکاروں کی سال بھر کی محنت کو برباد کر دیا،مل مالکان کا کہنا ہے کہ سندھ اور پنجاب میں صوبائی حکومتوں کی جانب سے شوگر ملوں کو بیس فیصد سبسڈی دی گئی، جس کی وجہ سے وہاں گنے کا نرخ 180 روپے من مقرر ہوا،چونکہ خیبر پختون خوا حکومت نے شوگر ملز کو سبسڈی نہیں دی اس لئے 180 روپے من کماد خریدنے سے انہیں نقصان ہو گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کی طرف سے شوگر ملوں کو سبسڈی ملی تو بھی وہاں 180 روپے من خریداری ہوئی نہ وقت پہ کرشنگ سیزن شروع ہوا، جہانگیر ترین کی دو شوگرملز کے سوا پنجاب میں کوئی شوگر مل سرکاری نرخوں پہ کماد کی خریداری نہیں کر رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شوگر ملز کی طرف سے 180 روپے فی من کے حساب سے خریداری سے نقصان کا واویلا دھوکہ ہے ،شوگر مل مالکان کہتے ہیں کہ گنے کی ریکوری  آٹھ فی صد سے زیادہ نہیں لیکن سن 2014 میں کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان مشتاق جدون نے فیصل آباد کے کین ریسرچ سنٹر سے کماد کی دو ورائٹیز کی ریکوری رپورٹ لی تو ریکوری 12 فیصد سے زیادہ تھی،بارہ فیصد ریکوری کا مطلب یہ ہوا کہ سو کلو کماد سے بارہ کلو چینی پیدا ہو گی،180 روپے فی من کے حساب سے کماد کے سوکلو کی قیمت 450 روپے بنتی ہے جبکہ فیکٹری ریٹ 45 روپے فی کلو کے حساب سے 12 کلو چینی کی قیمت 540 روپے بنے گی اس طرح مل کو سو کلو کماد کی کرشنگ سے 90 روپے کی بچت ہو گی یعنی 36 روپے فی من منافع ملے گا،یہاں کی چار شوگرملیں ہر سیزن میں 10 کروڑ من کماد کرش کر کے مجموعی طور پہ 3 ارب60 کروڑ کما لیتی ہیں، شوگر ملیں سپرٹ ،اتھنول اور بجلی جیسے بائے پراڈکٹس کے علاوہ بگاس،شیرہ اور راکھ تک فروخت کر کے کروڑو روپے اضافی بھی کما لیتی ہیں لیکن کاشتکار کو پھر بھی سرکاری نرخ دینے سے گریز کر کے ایگرو انڈسٹریز کے دو طرفہ نظام کو تباہ کرنے پہ تُل گئی ہیں۔
امر واقعہ یہ ہے کہ ملک کے طاقتور شوگر مل مالکان نے حکومتی اداروں کے تعاون سے غریب کسانوں کو لوٹنے کا ایک منفی میکانزم بنا رکھاہے،صرف پی ٹی آئی کے جہانگیرترین کی دو شوگر ملوں کے سوا ، شوگر مافیا نے پنجاب میں بھی سرکاری نرخ 180 روپے فی من کی بجائے 140 روپے من کے حساب سے گنا کی خریداری شروع کر کے کسانوں کی سال بھر کی محنت کو مٹی میں ملا دیا،سندھ، پنجاب اور خیبر پختون خوا  میں شوگر مافیا نے ایک ماہ کی تاخیر کے بعد بھی پوری قوت سے کرشنگ سیزن شروع نہیں ہونے دیا جس کے باعث ایک طرف چھوٹے کاشتکار اپنی کماد کی فصل مڈل مین پر اونے پونے بیچنے پہ مجبور ہوئے دوسرے کھیتوں میں کھڑی کماد خشک ہو کے وزن کم کرنے لگی،ماہرین کہتے ہیں کہ اس سال تاخیر سے کرشنگ سیزن شروع ہونے سے گندم کی بوائی بھی کم ہوجائے گی حالانکہ وفاقی حکومت نے شوگر ملوں کو 12 ارب کی سبسڈی کے بدلے کماد کی سرکاری قیمت 180 روپے فی من مقرر کی لیکن شوگر ملیں مجبور کسانوں سے کھلے عام 140 روپے فی من کے حساب سے خریداری کر کے سرکاری احکامات کی نفی کر رہی ہیں،کم قیمتوں پہ خریداری کے باوجود ڈیرہ اسماعیل خان جیسے علاقوں میںچھوٹے کسانوں کو اینڈنٹ فروخت کیے جا رہے ہیں۔
قانون کے مطابق شوگر مل مالکان کسانوں کو مل تک گنا پہنچانے کے عوض 15 روپے فی من کرایہ ادا کرنے کے پابند تھے لیکن اب پنجاب کی تمام شوگر ملیں کرایہ کی ادائیگی سے انکاری ہیں،جس سے کسانوں کو اوسطاً ایک سو پچیس روپے من کماد فروخت کرنا پڑتا ہے،جو ملک کو اناج فراہم کرنے والے کسانوں کے معاشی قتل کے مترادف ہے،بظاہر یہی لگتا ہے کہ شوگر مل مالکان ملک کا ایسا طاقتور طبقہ ہے جس کے سامنے حکومتیں بے بس ہیں کیونکہ حکمراں جماعتوں کے قائدین شریف اور زرداری خاندان سمیت اکثر سیاستدان اور بیوروکریٹ شوگر ملوں کے مالک ہیں، اگر حالات اسی طرح بر قرار رہے تو کسان کماد کی فصل کو کھیتوں میں آگ لگا کر  گنے کی کاشت بند کر دیں گے۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *