بگڑے لوگ اور سدھارکا ذریعہ۔۔زوہیب خان

عامر خان میرے پسندیدہ اداکاروں میں سے ایک ہیں ,ان کی یکے  ِ بعد دیگرے دو فلمیں دیکھ چکا ہوں، ایک “Love” اور دوسری “جو جیتا وہی سکندر” ان دونو ں فلموں میں کوئی بھی بات مشترکہ نہیں تھی سوائے امیر باپ کی بگڑی اولاد کی اول الذکر فلم میں عامرخان کوایک امیر باپ کی بیٹی سے محبت ہو جاتی ہے اور پھر موصوف تگ ودو کرتے ہیں اور اس میں کامیاب بھی ٹھہرتے ہیں جبکہ  ساتھ  ہی لڑکی کے  سابقہ  دوست  جو  کہ  لڑکی کے والد کے کاروباری شراکت دار کا بیٹا بھی ہے۔ لڑکی جب عامر خان کی محبت میں پوری طرح گرفتار ہوجاتی ہے تو وہی لڑکا ہیرواور اس کے گھر والوں پر ظلم شروع کردیتا ہے ،چونکہ یہ ایک فلم تھی اس لیے ہیرو یہ جنگ جیت جاتا ہے اور اپنی محبت پالیتا ہے،دوسری فلم میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے اور فلمی روایات کے مطابق ہیرو یہاں بھی سرخرو ٹھہرتاہے۔

یہ دونو ں فلمیں دیکھنے کے بعد اب ہم اپنی اصل زندگی کی جانب آتے ہیں جہاں ہمیشہ ان فلموں اور کہانیوں کے برعکس معاملہ ہوتا ہے حال ہی میں کراچی میں سی ویو پر پیش آنے والا دل خراش واقعہ ہے۔سی ویو  پر  عرصہ دراز سے موٹر سائیکل اور سپورٹس گاڑیوں کے درمیان تیز رفتاری کے مقابلے  ہو رہے تھے میں ہر گز یہ نہیں کہوں گا کہ یہ پولیس کی  سرپرستی میں ہو رہاتھایا ڈی ۔ایچ۔اے کی ویجیلنس ٹیموں کے علم میں نہیں تھا۔اچانک ایک امیر زادہ آتا ہے اور دوران ِ ریس ایک قیمتی جان لے کر فتح کے جھنڈے لہراتا ہوا بھاگ جاتا ہے۔اس افسوسناک واقعہ  کے بعد انتظامیہ حرکت میں آتی ہے اور قاتلوں کو گرفتا ر کر لیتی ہے اور پھر ساحل سمندر کے کنارے اس جنونی کھیل کا خاتمہ ہو جاتاہے ۔

کچھ سال قبل ہم کالج کے دوستوں نے عید قرباں پر باربی کیو کا انتظام سمندر کنارے کیا تھااتفاق سے وہا ں دو موٹر سائیکل سواروں میں تیز رفتاری کا مقابلہ بھی تھا اس ریس میں جیتنے والے کو مبلغ پانچ ہزار وپے انعام ملنا تھا وہ بھی ہارنے والے کی جیب سے ،میں نے جب ان کا طائرانہ جائزہ لیاتو دونوں متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے تھے ،اب جب میں اس واقعہ کے بارے میں سوچتا ہوں تووہاں موجود اسپورٹس گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے درمیان ہونے والے سٹے کا کیا عالم ہوتا ہوگا،ان بگڑی اولادوں کا کیا کیا جائے کہ وہ اس مصیبت سے جان چھڑا ئیں ؟؟ تو اس کا ایک ہی حل نظر آتا ہے کہ والدین خود اپنی اولادوں کو پولیس کے حوالے کردے اور ساتھ ہی ان سے یہ درخواست بھی کریں کہ ایک رات میں اگر یہ ٹھیک ہوجائیں تو اس مہربانی کی ہم ضرور”قدر”کریں گے ۔

ایسی ہی ایک مثال کا میں خود چشم دید گواہ ہو ں ایک ہفتہ قبل کچھ لڑکوں نے نشہ میں دھت میرے دوست کی دکان پر حملہ کر دیا تھا جنھیں سب سے پہلے تو اہل محلہ نے تختہ مشق بنایا اور پھر پولیس کے حوالے کر دیا،جہاں ناصرف ان کی خوب “خاطرمدارت”کی گئی بلکہ ان کے والدین کو بھی معلوم ہوگیا کہ برخوردار کن لوگو ں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں ،اس تمام معاملہ کے بعد ناصرف ان لڑکوں نے آکر معافی مانگی بلکہ اب ان کے والدین نے انھیں اس شہر سے ہی نکال دیا،حال ہی میں میری ملاقات لانڈھی جیل سے رہا ہونے والے ایک شخص سے ہوئی تو ان سے پوچھا کہ جناب اب کیا ارادے ہیں آپ کے؟؟ تو موصوف نے کہا کہ اب میں تما م برے کام چھوڑکر تبلیغی جماعت کے ساتھ چارماہ کے لئے بہت جلد جاؤں  گا، اس کی یہ بات سن کر اندازہ ہو اکہ شاید جیل میں اس کی کسی نے ذہن سازی کی ہو گی لیکن جب تفصیل معلوم کی تو عقدہ کھلا کہ تھانہ ،کچہری اور پھر جیل کی منازل کسی پل صراط سے کم نہیں تھیں ،اس لیے اب تمام برے کاموں سے توبہ کرچکا ہے  اور آئندہ کسی بھی غلط کا م کا حصہ نہیں رہوں گا، اس کی ان باتوں کا نتیجہ صاف ظاہر تھا کہ ہمارا نظام جہاں بہت سے لوگوں کی تباہی کا باعث بنتا ہے وہیں لوگوں کے سدھار کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔

محمد زوہیب خان
محمد زوہیب خان
ًمحمد زوہیب خان نجی ٹی وی میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اس کے علاوہ فری لانس جرنلسٹ اور قلم کار ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *