• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستانی مرد بھارتی نژاد برطانوی حکام کے نشانے پر/محمود اصغر چودھری

پاکستانی مرد بھارتی نژاد برطانوی حکام کے نشانے پر/محمود اصغر چودھری

برطانوی وزیرِ داخلہ سویلا بریورمین ان دِنوں پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کے بارے ایک بیان کے بعد شدید تنقید کی زد میں ہیں ۔ گزشتہ دنوں ایک ٹی وی انٹرویو میں برطانوی کم عمر بچیوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کے جرائم پربات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان جرائم میں ملوث مردوں کے گروہ  ہیں جو تقریباً تمام برٹش پاکستانی ہیں اور ایسی ثقافتی اقدار رکھتے ہیں جو برطانیہ کے ساتھ بالکل مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے پاکستانی نژاد مردوں پر الزام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستانی برطانوی مرد عورتوں کو کمینگی سے اور غلط طریقے سے دیکھتے ہیں، اور ہمارے رویے کے بارے میں ان کا انداز پرانا اور نفرت انگیز ہے۔۔ ۔ہوم سیکرٹری سویلابریورمین کو ان بیانات کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے ان پر نسل پرستانہ اور متعصبانہ خیال رکھنے کا الزام عائد ہوگیا ہے اور ان سے پاکستانیوں سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔برطانوی تنظیم این ایس پی سی سی (بچوں پر ظلم کی روک تھام کے لیے نیشنل سوسائٹی) نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو جنسی استحصال کا شکار بنانے والے صرف ایک قومیت سے نہیں ہوتے اور اگراس طرح ہم ایک ہی قوم کو نشانہ بنائیں گے تو ہماری تمام تفتیش ”بلائنڈ اسپاٹ“ پیداکر سکتی ہیں۔

دوسری جانب پاکستانی وزارت خارجہ نے بھی ان کے خلاف سخت موقف دیا کہ برطانوی وزیر داخلہ کا بیان خطرناک رجحانات کو فروغ دے گا۔

سویلابریورمین کے بیان سے قطع نظر گرومنگ گینگ برطانیہ میں ایک حقیقت ہے اور پچھلی دو دہائیوں سے کم عمر بچیوں کے ساتھ بدسلوکی اور بدفعلی کے بہت سے کیس سامنے آئے ہیں ۔ جن میں گیارہ اور تیرہ سال کی بچیوں تک کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ گرومنگ گینگ ایسے گروہ ہیں جو ایسی بچیوں کو اپنا نشانہ بناتے ہیں جو اپنی کم عمری ، ناسمجھی یا اپنی کسی کمزوری کی بنا پر ایسے لوگوں کے جال میں پھنس جاتی ہیں جو انہیں تعریف اور تحفوں کے لالچ میں پھنسا لیتے ہیں انہیں منشیات کا عادی بنا لیتے ہیں اور پھرجب وہ اپنی بے حسی ،کمزوری ، کم عمری کے باعث ان کے جال میں پھنس جاتی ہیں تو ان کو نہ صرف خود جنسی استحصال کا نشانہ بناتے ہیں بلکہ دیگر گینگ ممبرز کوسپلائی بھی کرتے ہیں ۔برطانیہ میں یہ گھناؤ نا جرم گزشتہ بیس سال سے جاری تھا۔ برطانیہ کے شہروں ہڈرزفیلڈ، رودرہم، روچڈیل، آکسفورڈ، برسٹل، پیٹربورواور نیو کیسل میں یکے بعد دیگرے ایسے اسکینڈلز سامنے آئے ہیں جن میں سفید فام برطانوی لڑکیاں مردوں کے گینگ کا شکار ہوئیں، جو ان کی عصمت دری اور زیادتی کرتے تھے۔بدقسمتی سے ایسے گرومنگ گینگ کیسوں میں برٹش پاکستانیوں کی کثیر تعداد سامنے آئی ہے ۔ مثلاًہڈرز فیلڈ میں 20، روچڈیل اور اولڈہم میں 9اور آکسفورڈ میں آٹھ مردوں کے گینگ سامنے آئے ۔ مجرموں میں ایک سکھ اور ایک افغانی باشندے کو چھوڑ کر باقی سب پاکستانی نژاد مرد ہی تھے جو متاثرین کو شراب اور نشہ آور چیزوں پر لگانے اور جنسی تعلقات کیلئے ”دوسروں کو فراہم“ کرنے کے الزام میں ملوث تھے ۔ مجرمان اکثر ٹیکسی ڈرائیور یا پھر ٹیک اووے ریستوران کے کام سے وابستہ تھے جو ان لڑکیوں کو کاروں، سڑک کناروں، پارکوں اور گیسٹ ہاؤ سز میں عصمت دری کا نشانہ بناتے رہے ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ دو دہائیوں سے جاری تھا تو اتنی تاخیر سے سامنے کیوں آیا ہے ا س کی دو وجوہات ہیں ایک تو   مالی، ذہنی و اخلاقی مشکلات اور کمزوریوں کاشکار ان بچیوں کی ایسی گرومنگ ہوجاتی ہے کہ وہ ایسے کیس پولیس کو رپورٹ ہی نہیں کرتیں ۔ اس جرم میں کم عمر بچیوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا جو اپنی کمزوری یا نشہ کی لت کی وجہ سے اس قابل نہیں رہتی تھیں کہ اس جرم کو رپورٹ کریں تو دوسری وجہ یہ تھی کہ پولیس بعض کیسوں میں زیادہ مستعدی اس لئے بھی نہیں دکھاتی تھی کہ چونکہ زیادہ تر مجرم ایشیائی بیک گراؤنڈ رکھتے تھے تو پولیس ایسی کسی بھی تفتیش میں اپنے اوپر کوئی متعصبانہ لیبل نہیں لگوانا چاہتی تھی۔ اسی لئے جب ان مجرموں کو پکڑا گیا توقانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف ان کا پہلا الزام یہی تھا کہ انہیں اس لئے نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ سفید فام نہیں ہیں۔ لیکن اب بھارتی نژاد برطانوی وزیر اعظم رشی سونک نے ایک نئی ”گرومنگ گینگز ٹاسک فورس“ کا اعلان کیا ہے جس میں بچوں کے جنسی استحصال اورایسے گروہوں کی تحقیقات میں پولیس فورس کی مدد کرنے کے لیے ماہر افسران کوشامل کیا جائے گا ۔وزیر اعظم رشی سونگ کا کہنا ہے کہ وہ گرومنگ گینگز کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور مزید مجرموں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کے لیے جو کچھ کرنا پڑے گا کریں گے۔رشی سونک کاکہنا ہے کہ مجرم اب نسلی یا ثقافتی حساسیت کے پردے کے پیچھے بھی نہیں چھپ سکیں گے ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

وزیر اعظم رشی سونک اور ان کی کابینہ کا اس جرم پر ایکشن لینا واقعی قابل تحسین ہے اور کوئی بھی ہوشمند شخص ان کے اس ایکشن کی حمایت ہی کرے گا ۔ لیکن اصل مسئلہ ہوم سیکرٹری سویلا بریورمین کے بیان پر کھڑا ہوا حیرت ہے کہ وہ کیسے کسی جرم کو کسی ایک قومیت سے نتھی کر سکتی ہیں کسی بھی قسم کے جرم میں اقدار کا تقابل انتہائی تشویشناک ہوتاہے ۔کسی بھی ملک کی اقدار جرم کی حمایت نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا کہ ان کے اس بیان کے بعد برطانیہ میں موجود پاکستانیوں کے خلاف نفرت انگیز فضاءپیدا ہوگی اوروہ غیر محفوظ ہو جائیں گے ۔شاید ان کی نظر اپنے ہی ہوم آفس کی 2020ءکی رپورٹ پر نہیں پڑی جس کے مطابق ”چھوٹے بچوں کے ساتھ جنسی تشدد میں زیادہ تر سفید فام شہری ملوث ہوتے ہیں۔ اگرچہ کچھ کیس سیاہ فام اور ایشیائی مجرموں کی ممکنہ حد سے زیادہ نمائندگی کو ظاہر کرتی ہیں، لیکن یہ نتیجہ اخذ کرنا ممکن نہیں تھا کہ یہ تمام گرومنگ گینگز کے نمائندہ تھے“۔۔ بھارتی نژاد وزیر اعظم اور بھارتی نژاد ہوم سیکرٹری سویلا بریورمین کو احساس ہونا چاہیے کہ اس وقت برطانیہ میں ڈیڑھ ملین سے زیادہ پاکستانی نژاد شہری آباد ہیں جو برطانیہ کی سیاست، معیشت اور معاشرت میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں صرف چند لوگوں کے جرم کی وجہ سے تمام پاکستانیوں کی اقدار پر الزام لگانااگر تعصب نہیں بھی ہے تو اعلی درجے کی کج فہمی ضرور ہے۔

Facebook Comments

محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply