خواتین کو روزوں میں چھوٹ /ڈاکٹر نویدؔخالد

خواتین کی جسمانی ساخت مردوں سے کچھ مختلف ہوتی ہے۔ ان کو ہر ماہ کچھ مخصوص دنوں میں خدا کی طرف سے نماز روزے کے فرائض سے آزادی میسر ہوتی ہے۔ اس لیے اگر ماہِ رمضان میں گھر میں، بازار میں ، سفر میں ، سکول کالج یا کسی دوسرے ادارے میں موجود خواتین یا نوعمر بچیوں کو کچھ بھی کھاتے پیتے دیکھیں تو ان سے روزے کی بابت سوال جواب مت شروع کریں۔ نہ ہی ان کے کھانے پینے پہ اچنبھے کا اظہار کر کے انھیں اس بات کا احساس دلائیں کہ وہ کوئی عجیب یا مختلف کام کر رہی ہیں۔

خصوصاً گھر میں موجود خواتین کو اگر رمضان کے دوران دن کے وقت کھاتا پیتا دیکھ لیں تو کچھ پوچھے یا کہے بغیر ان کے جسمانی معاملات کو سمجھ جائیں۔ انھیں اتنا اعتماد اور سکون دیں کہ انھیں آپ سے جھوٹ نہ بولنا پڑے، انھیں آپ کے سامنے روزے کی ایکٹنگ نہ کرنی پڑے ، وہ بغیر کوئی صفائی دیے اپنے ایامِ مخصوصہ میں روزے چھوڑ سکیں اور دن کے وقت میں عام دنوں کی طرح اپنا کھانا پینا جاری رکھ سکیں۔ ورنہ روزہ نہ ہوتے ہوئے بھی انھیں شرم کے مارے سارا دن بھوکا پیاسا گزارنا پڑے گا یا چھپ چھپ کے کھانا پڑے گا اور کسی کے دیکھ لینے کی صورت میں بغیر کوئی گناہ یا غلطی کیے شرمندہ ہونا پڑے گا۔ اسی طرح گھر میں مہمان آئی ہوئی خواتین کا بھی اس حوالے سے خیال رکھنا ضروری ہے۔

عام دنوں میں بھی اگر خواتین کچھ دن کے لیے نماز سے دوری اختیار کر رہی ہوں تو بغیر کوئی سوال و جواب کیے انھیں ان دنوں سے گزرنے دیجیے۔ یا پھر ان کو اتنا اعتماد اور بھرم دیجیے کہ وہ آپ کو اپنے جسمانی معاملات سے آگاہ کر سکیں۔ کچھ شدید مذہبی گھرانوں میں ایسے دنوں میں خواتین کو نماز پڑھنے کی ایکٹنگ بھی کرنی پڑتی ہے کیونکہ اپنی فطری شرم اور حیا کی وجہ سے وہ گھر کے مردوں کو اپنے جسمانی معاملات سے آگاہ نہیں کر سکتیں اور اپنی نیکی اور مذہبی عقائد کا بھرم رکھنے کے لیے ایکٹنگ کرنی پڑتی ہے۔

ایامِ مخصوصہ میں خواتین کو نماز روزے سے چھوٹ خدا کی طرف سے دی گئی ہے، ہمیں خدا کے حکم کا احترام کرنا چاہیے اور خواتین کو ان معاملات میں ہر ممکن آزادی اور اعتماد دینا چاہیے۔
زیادہ بہتر تو یہ ہے کہ ایسے معاملات میں گھر کے بچوں کو بھی کچھ آگہی دے دی جائے تاکہ روزہ نہ رکھنے پہ وہ اپنی ماں یا بہن سے روزہ چھوڑنے کی بابت سوال و جواب نہ شروع کر دیں۔ کیوں کہ کسی کے سامنے کیے گئے ایسے سوال و جواب ان خواتین کے لیے شرمندگی اور پریشانی کا باعث بنیں گے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

طبی حوالے سے بھی ان دنوں میں خواتین کے جسم میں ہارمونز میں کافی تبدیلیاں آتی ہیں اور یہ تبدیلیاں ان کے مزاج اور معمولات پہ بھی فرق لا سکتی ہیں۔ لیکن طبی حوالے سے یہ موضوع کافی تفصیل طلب ہے تو اس پہ الگ سے کسی وقت ایک مضمون لکھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply