عمران خان سخت حفاظتی انتظامات میں کورٹ پہنچ گئے

لاہور: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان لاہور ہائی کورٹ قافلے کی صورت میں پہنچ گئے ہیں، عدالت عالیہ میں انہیں ساڑھے پانچ بجے پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔

اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں، عدالت کے باہر بھی اینٹی رائٹ فورس تعینات کر دی گئی ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سے بلٹ پروف گاڑی کے احاطے میں داخلےکی اجازت مانگتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو خطرہ ہے، گاڑی کو اندر آنے دیا جائے جس پر رجسٹرار آفس نے عمران خان کی گاڑی کو احاطہ عدالت میں لانےکی درخواست منظور کر لی۔

کمرہ عدالت میں اس وقت پی ٹی آئی کے اسد عمر، عمرایوب، حماد اظہر، فواد چودھری، قاسم خان سوری اور ظہیر عباس کھوکھرموجود ہیں جب کہ لاہور ہائی کورٹ کے باہر پارٹی کے کارکنان بہت بڑی تعداد میں ہیں۔

واضح رہے کہ عدالت دہشت گردی کے 7 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواست سنےگی، عمران خان کی ضمانت کی 9 درخواستیں آج ہی سماعت کے لیے مقرر ہوئی ہیں

قبل ازیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے دوران سماعت پوچھا تھا کہ وارنٹ پر عمل ہونا چاہیے یا منسوخ ہونا چاہیے؟ جس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا ابھی عمران خان عدالت میں آنا چاہتے ہیں، کیا آپ کو اس پر اعتراض ہے، اب تو حفاظتی ضمانت پر بہت فیصلے آچکے ہیں۔

واضح رہے کہ عمران خان نے اسلام آباد اور لاہور میں درج 9 مقدمات میں حفاظتی ضمانت کے لیے درخواستیں دائر کی تھیں۔

قبل ازیں زمان پارک سے روانگی کے موقع پر پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما حماد اظہر نے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان تھوڑی دیر میں لاہورہائیکورٹ پہنچیں گے، ہماری ساری جدوجہد ہمیشہ قانون اور آئین کے دائرے میں رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے دیوارسے لگایا تب بھی ہم نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا، آج بھی قانون کے دروازے پر موجود ہیں، کسی کے ساتھ بھی معاہدہ ہو، اس پر عمل کریں گے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

سابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا پی ٹی آئی کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتی، زمان پارک میں انتہا پسند نہیں بلکہ محب وطن لوگ موجود ہیں۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply