ختم نبوت کا معاملہ،ن لیگ کا ایک اور کارکن مستعفٰی

مسلم لیگ ن کی حکومت کو ختم نبوت ﷺ کے قانون کی چھیڑ چھاڑ کا معاملہ کافی مہنگا پڑگیا، وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے بعد سے اراکین اسمبلی کے مستعفیٰ ہونے کا سلسلہ شروع ہوگیا اور ایک اور ایم پی اے نے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا۔

ختم نبوت ﷺ کے معاملے پر مسلم لیگ ن کے پانچ اراکین اسمبلی اور متعدد کونسلرز  و تنظیمی عہدیداران نے 10 دسمبر کو فیصل آباد میں سنی اتحاد کونسل کے جلسے میں پارٹی چھوڑنے اور اسمبلی رکنیت سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا تھا۔پنجاب کے حلقہ پی پی 62 سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی نصر اللہ گھمن نے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ اسپیکر پنجاب اسمبلی کو ارسال کردیا۔نصر اللہ گھمن کا کہنا ہے کہ ’ختم نبوت ﷺ کے قانون میں ترمیم سے ایمان کو ٹھیس پہنچی، غیر ملکی طاقتوں کو خوش کرنے کے لیے حکومت نے قانون کو تبدیل کرنے کی کوشش کی‘۔

واضح رہے کہ ختم نبوت کے معاملے اور نصاب میں تبدیلی کے معاملے پر مذہبی جماعتیں وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کے استعفے کا مطالبہ کررکھا ہے جبکہ مسلم لیگ ن یقین دہانی کے بعد اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئی۔یاد رہے کہ  تحریک لبیک یارسول اللہ کے کارکنان گزشتہ ماہ نے ڈاکٹر آصف جلالی کی سربراہی میں 7 روز تک پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دیا تھا، مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ رانا ثنا اللہ فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہوں اور اپنے آپ کو مسلمان ثابت کریں۔

پنجاب حکومت کی جانب سے دھرنا ختم کروانے کے لیے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس میں خواجہ سعد رفیق، میاں مجتبی، شجاع الرحمان جبکہ مذہبی جماعت کی کمیٹی میں مفتی عابد جلالی،میاں ولید شرقپوری سمیت دیگر قائدین شامل تھے۔دھرنا قائدین نے مطالبہ کیا تھا کہ خواجہ حمید الدین سیالوی نے 3 دسمبر تک رانا ثنا اللہ کا استعفیٰ طلب کیا ہے، وزیر قانون پنجاب کو وضاحت کے لیے ہمارے پاس آنا چاہیے، بعد ازاں صوبائی وزیر نے مستعفیٰ ہونے سے صاف انکار کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ’کسی بھی چیز کا فیصلہ ہمارے سیاسی پیر نوازشریف کریں گے‘۔

حکومتی وعدہ خلافی پر مذہبی جماعتوں پیر حمید الدین سیالوی کی سربراہی میں رانا ثنا اللہ کا استعفے لینے کے لیے تحریک کا آغاز کیا جس کے تحت پہلا جلسہ فیصل آباد کے علاقے دھوبی گھاٹ میں 10 دسمبر کو منعقد کیا گیا تھا۔مسلم لیگ ن کو ختم نبوت کے معاملے پر پہلا بڑا دھچکا فیصل آباد کے جلسے میں لگا تھا کیونکہ اس جلسے میں  رکن قومی اسمبلی غلام بی بی بھروانہ، ڈاکٹر نثا جٹ جبکہ رکن پنجاب اسمبلی نظام الدین سیالوی، محمد خان بلوچ، مولانا رحمت اللہ سمیت کئی بلدیاتی امیدواران نے بھی مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *