ہماری حکومت زراعت پر توجہ دے۔۔حاجی زاہد حسین

ساٹھ کی دہائی میں جب   شعور نے  آنکھ کھولی تو آزاد ریاست کے پہاڑوں میں گھری وادیاں ہر ے بھرے کھیتوں سے اٹی پڑی تھیں ہر سو لہلہاتے کھیت جنت نظیر کا منظر پیش کرتے ،یہاں کے محنتی کسان۔ سالانہ چار اقسام کی فصلیں اگاتے۔ فصل ربیع اور فصل حریف کے علاوہ دھان باجرہ اور انواع  و اقسام  کی سبزیاں اگاتے ہل چلاتے گوڈیاں دیتے پانی لگاتے اور سال بھر کا غلہ اگاتے۔ اس دور کے کسانوں کا یقین اور ایمان اتنا پختہ کہ بیج زمینوں کے حوالے کر کے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتے بس پھر کیا تھا ابر رحمت چھم چھم برستا ،دیکھتے دیکھتے فصلیں اگتی ، پروان چڑھتی  اور پک کر کسانوں زمینداروں کے گھر بھر جاتے۔ پھر رفتہ رفتہ زمانہ ترقی کرتا گیا۔ زمیندارے  کی جگہ نوکریوں نے لے لی، اپنوں کی نوکریاں بیگانوں کی نوکریاں انگریزوں اور عربوں کی نوکری۔ نوجوان آنکھوں میں سہانے   خواب سجائے پردیس سدھارے، بڑے بوڑھوں نے چار پائی سنبھال لی۔ کچے گھروں کی جگہ پکے مکان، گائے بھینسوں اور بکریوں کی جگہ گاڑیاں موٹر سائیکل گھروں میں باندھے جانے لگے۔ ہل بیلوں کی جگہ ٹریکٹر ٹرالیاں آگئیں۔ گھر گھر  ریالوں ڈالروں نے  جگہ بنا لی ، آسمان کی طرف اٹھنے والی نگاہیں ڈرافٹ  کا انتظار کرنے لگیں۔ اور پھر ہماری ریاست کی زرخیز وادیاں بنجر ہوتی چلی گئیں ۔

پانی کے جھرنے سوکھنے لگے۔ ابررحمت کی جگہ مسلم خور آئی ایم ایف اور یونیسف کے نلکوں ٹوٹیوں پمپوں نے لے لی۔ موسم بہار کی بارشیں خزاں میں اور سرما کی بارشیں گرما میں۔ اوپر سے ہماری نا اہل حکومتیں ریاست بیزار حکمران اپنا کشکول لئے اسلام آباد میں دھرنے دینے  لگے۔ زراعت و صنعت پر کوئی توجہ نہیں۔ اپنے چمچوں کرچھوں کو خوش کرنے کے لئے محکمے ،ادارے ،وزیروں، مشیروں کی فوج ظفر موج بھرتی کرنے لگے۔ سالوں سے زراعت کا محکمہ بھی موجود ہے۔ لائیوسٹاک کے ادارے بھی ہیں دفتروں میں بیٹھے سالانہ اربوں روپے تنخواہوں کی مد میں وصول کرنے لگے۔ زرعی زمینوں پر تحقیق نہ بچے  کچھے کسانوں زمینداروں کو تربیت۔ ریاست بھر میں نہ کوئی زرعی فارم بنے نہ مال مویشی دودھ دینے والے جانوروں پر توجہ۔ جدید بیجوں کی تقسیم نہ کھادوں کی ترسیل۔ غریب کسانوں کے پالتو جانوروں پر کوئی توجہ نہ ڈیری فارموں کا قیام۔

ریاست بھر میں یہ ادارے اور ان کا عملہ وقت لنگھاؤ ڈنگ ٹپاؤ چلتے آئے ہیں۔ باقی اضلاع کی تو مجھے خبر نہیں لیکن ہمارے ڈسٹرکٹ سدہنوتی کی تحصیلوں میں اور مرکز پلندری میں آج تک زرعی فارم ڈیری فارم زرعی تجربہ گاہ یا لائیوسٹاک پر تجربات اور تحقیق کہیں نظر نہ آئی، فصل حریف پر وہی نصف صدی پرانے بیج پیلی چٹی مکئی کے بیج اور فصل ربیع پر وہی ساگر منڈی گندم کے بیج کبھی بھی یہاں نئے بیجوں کو لا کر کسانوں میں تقسیم نہ کیا گیا۔ ایسے میں پاکستان سے بغیر تحقیق کیے گئے نہری بیج لا کر بیچنے میں تاجروں کی چاندی ہی چاندی ہے۔ پالتو جانوروں کی بیماری پر بازار سے جگہ جگہ قائم پرائیویٹ دواخانے غریب زمینداروں کو لوٹنے میں پیش پیش ہیں۔ محکمہ کی طرف سے نسل کشی آبیاری کے لئے کوئی حکمت عملی نہیں۔ آگاہی نہیں چند پرائیویٹ ورکرز گھر گھر جا کر گائے بھینسوں کا بیج رکھنے کے عمل کے لئے بارہ پندرہ سو روپے وصول کرتے آرہے ہیں۔ ہمارے وٹرنری ہسپتال کی طرف سے عملے کے ایک دو لوگ کسی وبائی بیماری کی صورت میں سال میں دو مرتبہ ایک ہی سرنج سے صحت مند اور بیمار جانوروں کو چند سی سی ویکسین لگا کر فی جانور بیس تیس روپے وصول کرتے ہیں۔ کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں۔ بھلا ایسے میں ریاست کی زراعت اور لائیوسٹاک کیسے ترقی کرے گی۔ قوم سے اس قدر بدیانتی۔ ریاست سے اس قدر خیانت ،جس کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی۔

عوام علاقہ اس قدر بدظن ہو چکے ہیں کہ ان دونوں محکموں کو بہتر یہی ہے اب ختم ہو جانا چاہیے۔ تاکہ ان اداروں پر اٹھنے والے اخراجات تنخواہوں وظیفوں کی مد میں بچت کر کے ریاست کے دوسرے شعبوں کے استعمال میں لائے جا سکیں۔ ورنہ وزیر زراعت اور امور حیوانات اولین فرصت میں اس طرف متوجہ ہوں۔ اور ریاست بھر میں قائم ان دونوں اداروں کو پابند کریں کہ وہ تمام فصلوں کی بیجائی کے موقع پر جدید تحقیق شدہ بیج کسانوں تک پہنچانے کا بندوبست کریں۔ تربیت کے لئے ورکشاپ منعقد کریں۔ گاؤں گاؤں قریہ قریہ جا کر زمینداروں کی آگاہی کا بندوبست کریں۔ زرعی فارم کے قیام کو یقینی بنائیں۔ بیمار جانوروں کے علاج معالجے کے لئے فری ادویات کی تقسیم کریں۔ جدید زیادہ دودھ دینے والے جانوروں کی نئی اقسام سے متعارف کرائیں اور نئی اعلیٰ نسل کی گائے اور بھینسوں کے بیج رکھنے کے عمل کو آسان اور یقینی بنائیں۔ تاکہ زراعت اور لائیو سٹاک ایک نفع بخش صنعت بنے اور کسانوں زمینداروں کے علاوہ ریاست کی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکے۔ اور پھر نصف صدی قبل کی طرح ریاستی وادیاں پھر سے پھلنے پھولنے اور لہلہانے کا منظر پیش کر سکیں۔ نئی نسل کو کاروبار اور روزگار کے حصول میں مدداور تازہ خالص دودھ مکھن اور گوشت کی خوراک میسر ہو تاکہ  صحت مند نسل انسانی پروان چڑھے۔

Avatar
hajizahid hussain
columnist

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *