اس شب کے مقدر میں/محمد اسد شاہ

گزشتہ روز پاکستان کے بیشتر قومی اخبارات نے یہ خبر پہلے صفحے پر نمایاں انداز میں لگائی کہ سابق ایم این اے شیخ وقاص اکرم نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔ جس روز وہ پی ٹی آئی میں گئے، عین اسی روز سابق گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے ق لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ یہ خبر بھی شائع تو ہوئی، لیکن اسے جان بوجھ کر غیر نمایاں جگہ دی گئی۔ اس سے بڑا دھوکا یہ کہ محترم شیخ صاحب اور پی ٹی آئی کی خبر کو نمایاں شائع کرنے والے اخبارات نے انھیں “سابق ن لیگی ایم این اے” بھی لکھ دیا۔ یہ سب کچھ سہواً نہیں ہوا۔

بعض قارئین کے لیے شاید یہ بات باعثِ حیرت ہو کہ مذکورہ اخبارات نے یہ غلطی جان بوجھ کر کی ہے، اور یہ سب کچھ ایک منظم انداز میں ہوا ہے۔ وہ دور گیا، جب اخبارات کو “حقائق” جاننے کا ذریعہ، اور حق و صداقت کا علم بردار مانا جاتا تھا۔ اب دنیا بہت بدل گئی ہے۔ اخبارات جانتے ہیں کہ شیخ وقاص کبھی ن لیگ کے ایم این اے نہیں رہے۔ موصوف نے سیاست کا آغاز سابق صدر فاروق احمد لغاری کی ملت پارٹی سے کیا اور ملت پارٹی کے ہی انتخابی نشان پر 2002 میں قومی اسمبلی کے امیدوار بنے۔ یہ جنرل پرویز مشرف کا دور تھا۔ جب انھیں معلوم ہوا کہ جنرل پرویز تو ق لیگ کے بانی ہیں اور انتخابات میں ق لیگ کی سرپرستی کریں گے تو وہ انتخابی مہم کے عین درمیان میں ق لیگ کی طرف چل پڑے، ٹکٹ لیا، انتخابی نشان بدلا اور ایم این اے بن گئے۔ انتخابات کے بعد جنرل پرویز کی سرپرستی میں وفاق اور چاروں صوبوں میں ق لیگ کی حکومتیں قائم کروا دی گئیں۔

2008 کے انتخابات میں بھی شیخ صاحب ق لیگ ہی کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے۔ پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے اتحاد کی حکومت بنی تو شیخ صاحب کو وزیر مملکت برائے خصوصی تعلیم و تربیت کا منصب بھی مل گیا۔ 2013 کے انتخابات سے قبل عدالت نے انھیں نااہل قرار دیا۔ اس فیصلے کے خلاف ان کی اپیل منظور ہوئی لیکن وہ بوجوہ انتخابات میں حصہ نہ لے سکے۔ پھر 2018 کے انتخابات میں وہ آزاد امیدوار تھے اور ان کا انتخابی نشان گھڑا تھا۔ اور اب 2023 کے انتخابات سے قبل وہ تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس پورے سیاسی سفر میں وہ مسلم لیگ نواز کے ایم این اے کبھی نہیں رہے۔ ان کے حلقہ کے لوگ بھی یقیناً یہ جانتے ہوں گے۔

شیخ صاحب 2008 میں آخری بار ق لیگ کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے۔ گزشتہ چند سالوں میں وہ بعض ٹی وی ٹاک شوز میں خود کو “سینئر سیاست دان” کے طور پر متعارف کرواتے اور ن لیگ کے خلاف بہت سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ “اداروں” میں موجود بعض عناصر چوں کہ مسلسل تحریک انصاف کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہیں، اسی لیے شیخ صاحب بھی پی ٹی آئی میں شامل ہونا چاہ رہے تھے۔ اس کام میں کچھ مقامی سیاسی رکاوٹیں تھیں جنھیں دور کرنے کے لیے ضلع سرگودھا کے ایک روحانی دربار سے وابستہ شخصیت کی خدمات حاصل کی گئیں۔ اس شخصیت نے 2017 اور 2018 میں ن لیگ کے خلاف “بہت کام” کیا، اور گزشتہ سال ضمنی انتخابات میں بھی جھنگ کے دیہی علاقوں میں اپنے مریدین کے ذریعے پی ٹی آئی کو بہت فائدہ پہنچایا۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ مدیران اخبارات ان تمام حقائق سے لاعلم ہوں۔ قومی اخبارات کے دفاتر میں کام کرنے والے تقریباً ہر شخص کی ملک بھر کے ایک ایک حلقے کی سیاست پر نظر ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے 2002 میں نے ایک قومی اخبار میں بطورِ سب ایڈیٹر کام شروع کیا تو جیل روڈ پر واقع ہمارے دفتر میں ملک کے تقریباً ہر حلقے کی سیاست پر گفتگو ہوا کرتی تھی۔

2004 میں جب میں ایک نیوز چینل کا میزبان (اینکر) بننے کے لیے انٹرویو دے رہا تھا تو انٹرویو پینل نے دیگر بہت سے موضوعات کے ساتھ ساتھ مجھ سے لاہور کے علاوہ پشاور، گوجر خان، جھنگ اور ملتان تک کے بعض حلقوں سے متعلق سوالات پوچھے۔ چناں چہ اخبارات کی گزشتہ روز کی غلطی بھی دراصل غلطی نہیں، بل کہ ایک منظم سیاسی مہم ہے، جس کا آغاز خود شیخ وقاص اکرم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے یہ بتا کر کیا گیا کہ وہ “ن لیگ چھوڑ کر” پی ٹی آئی میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہی لائن عمران خان کے لیے کام کرنے والے اخبارات نے بھی اپنائی۔ اس کا مقصد ن لیگی ووٹرز کو دھوکا دینا ہے۔ چوں کہ پنجاب کو ن لیگ کا گڑھ مانا جاتا ہے، اس لیے ن لیگ کو ہی نشانے پر رکھا جاتا ہے۔ اس کارروائی کے پیچھے عمران خان کی “ذہنیت” کار فرما ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان میڈیا اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کے بہت بڑے ماہر ہیں۔ اس وقت برصغیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے بعد سب سے بڑا، منظم اور تربیت یافتہ سوشل میڈیا نیٹ ورک تحریک انصاف کا ہے۔ خاں صاحب اور ان کی موجودہ شریکِ حیات خود اس نیٹ ورک کی نگرانی، اور تمام باریکیوں کے ساتھ قدم قدم پر تربیت بھی کرتے ہیں۔

2010 سے قبل خاں صاحب کی سیاست مختلف تھی، لیکن 2010 میں انھیں خاص طور پر مسلم لیگ نواز کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اور تب سے اب تک وہ اور ان کے تمام سرپرست اسی کام پر پوری قوت سے لگے ہوئے ہیں۔ خاں صاحب اپنی زندگی کی ہر سانس میں مسلم لیگ نواز کو یاد رکھتے ہیں اور ہر معاملے میں مسلم لیگ نواز کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں۔ چناں چہ گزشتہ روز بھی یہی کام کیا گیا، شیخ صاحب کے ذریعے بھی، اور اپنے حامی اخبارات اور نیوز چینلز کے ذریعے بھی۔ میری ذاتی رائے ہمیشہ یہ رہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ (فوجی اداروں اور عدلیہ وغیرہ کے ملازمین) کے لیے ہر قانون، آئین اور اخلاقی اصول کے تحت عملاً سو فی صد غیر جانب دار رہنا لازمی ہے۔ اس معاملے میں انھیں جرأت مند اور صاحب کردار ہونا چاہیے۔ کسی کو ڈان، اور کسی کو “بہت بڑا لیڈر” کہہ کر اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرنا چاہیے۔ کوئی اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر سامنے آئے، یا کوئی سوشل میڈیا کے ذریعے ہزاروں غنڈوں کا جتھہ بلوا کر پیش ہو، منصفین کو ترازو برابر رکھنا چاہیے۔ اسی طرح اخبارات، نیوز چینلز، صحافیوں، کالم نگاروں اور اینکرز کو بھی غیر جانب دار ہی ہونا چاہیے۔ تب ہی ملک کی سیاست، معاشرت، معیشت اور اخلاقی حالت درست ہو سکتی ہے۔

لیکن ہمارے ایٹمی پروگرام اور سی پیک سے خوف زدہ عالمی طاقتوں نے ان سب جگہوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کی کھلم کھلا کوششیں کیں۔ ایٹمی پروگرام اور سی پیک، دونو منصوبوں کے ساتھ پاکستان کی دونو بڑی سیاسی جماعتوں یعنی مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے نام وابستہ ہیں۔ اسی لیے تمام پروپیگنڈا، الزام تراشی، مقدمات، جیلوں، ہتھ کڑیوں اور گالم گلوچ کا رخ ہمیشہ ان دو جماعتوں کی طرف ہی رکھا گیا۔ سچ اور جھوٹ کو گڈمڈ کر دیا گیا ہے۔ منفی پروپیگنڈے کی اتنی شدید دھول میں بے چارے عام آدمی کو آئین کے فرمان بردار سرکاری ملازمین، غیر جانب دار منصفین، اور بے باک صحافی تلاش کرنا مشکل لگتا ہے۔ دل میں ہول اٹھتے ہیں جب اسلام آباد سے لاہور تک، اور کراچی سے پشاور تک کوئی غیر جانب دار نظر نہ آئے۔ بہت سے مقدس لوگ اپنے جبوں، فیصلوں، قلم، ریمارکس، دستار، کرسی اور ضمیر کے تقاضوں کو خاک میں ملا کر کھلم کھلا جانب دار ہو چکے ہیں۔ لیڈر بنانے والی فیکٹری نے اب لیڈر بھی ایسے تیار کیے ہیں کہ جو عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں۔ انھیں اپنے جھوٹ، سازشوں اور بدترین جرائم کا پردہ چاک ہونے کا اتنا خوف ہے کہ جعلی زخموں، بے ثبوت بیماریوں اور جان کے خطرے کے من گھڑت بہانے بنا کر پیشیوں سے تو غیر حاضر رہتے ہیں اور مسلسل استثنیٰ مانگتے رہتے ہیں، لیکن جلسوں اور ریلیوں کی قیادت کے لیے اچھل اچھل کر سامنے آتے ہیں۔ جانے کیوں غلام عباس محسن نقوی کا یہ شعر ذہن میں آتا ہے؛

Advertisements
julia rana solicitors

اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسن
دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر !

Facebook Comments

محمد اسد شاہ
محمد اسد شاہ کالم نگاری اور تعلیم و تدریس سے وابستہ ہیں - پاکستانی سیاست ، انگریزی و اردو ادب ، تقابل ادیان اور سماجی مسائل ان کے موضوعات ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply