پیالی میں طوفان (42) ۔ ناچتی پتلیاں/وہاراامباکر

چلتے وقت ہماری آنکھ منظر کا ساتھ دیتی ہے لیکن اگر آپ بھاگ رہے ہیں یا چل رہے ہیں اور کسی چیز کو غور سے دیکھنا ہے تو رک جائیں گے۔ جب ہم حرکت میں ہیں تو آنکھ اس انفارمیشن کی تفصیل اکٹھی نہیں کر پاتی۔ اور جیسا حربہ کبوتر استعمال کرتا، ویسا ہم بھی۔ آنکھ سے آنے والی انفارمیشن کو دماغ ٹانکے لگا کر جوڑتا ہے اور ایک تصویر بنا دیتا ہے۔ ہماری آنکھیں ایک سے دوسری جگہ ناچ رہی ہیں، ذہنی تصویر میں انفارمیشن کا اضافہ کر رہی ہیں۔
اگر آپ کو اس پر شک ہے تو آسان سا تجربہ۔ آئینے کے آگے کھڑے ہو کر اپنی دائیں آنکھ پر کچھ دیر نظر جمائیں۔ پھر بائیں آنکھ پر۔ کیا اس کے دوران آپ کو آنکھ میں حرکت محسوس ہوئی؟ اسی طرح دائیں سے بائیں کی طرف فوکس بدلتے رہیں۔ کیا اپنی پتلیوں میں کسی قسم کی حرکت محسوس کرتے ہیں؟
اب اپنے دوست کو کہیں کہ وہ اس عمل کے دوران آپ کی آنکھوں کو دیکھے۔ کیا پتلیاں حرکت کر رہی ہیں؟
اگر آپ یہ تجربہ کریں گے تو آپ کو آئینے کے آگے کھڑے ہو کر یہ حرکت محسوس نہیں ہو گی جبکہ آپ کا دوست بتائے گا کہ آپ کے پتلیاں مسلسل متحرک تھیں۔
دماغ دنیا کی perception اس طریقے سے تخلیق کرتا ہے کہ آپ کو پتلیوں کی لگائی چھلانگوں کا علم بھی نہیں ہوتا۔ اگرچہ یہ ہر وقت جاری رہتی ہیں۔
یہاں پر نکتہ یہ ہے کہ ہم کبوتر سے بس تھوڑا سا ہی تیز ہیں۔ اور یہ ہمیں ایک اور چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بہت کچھ ایسا ہو گا جو ہم سے بہت تیز ہو گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا وقت کا ادراک محدود ٹائم سکیل پر ہے۔ ہم ایک سیکنڈ سے لے رک چند سال تک کی چیزوں کو محسوس کر سکتے ہیں۔ لیکن ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ ٹائم سکیل بڑھایا جا سکتا ہے۔ ملی سیکنڈ سے لے کر ہزاروں سال تک جایا جا سکتا ہے۔
اور یہ وجہ ہے کہ کمپیوٹر بہت سا کام کر سکتے ہیں۔ ان کا ٹائم سکیل چھوٹا ہے۔ جتنی دیر میں یہ ایک پیچیدہ کام کو کر کے فارغ بھی ہو جاتے ہیں، ہمیں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا ہوتا۔ کمپیوٹر تیز سے تیز تر ہو رہے ہیں۔ ہمارے لئے ایک سیکنڈ کا لاکھواں حصہ ہو، کروڑواں یا ایک اربواں، سب برابر ہی لگتا ہے۔ کیونکہ ہم اتنا کم دورانیہ محسوس نہیں کر سکتے لیکن اربواں حصہ لاکھویں حصے سے دس ہزار گنا کم ہے۔ یہ بہت ہی بڑا فرق ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply