ہندو مسلم پانی/راؤ عتیق الرحمان

قیام پاکستان تک ریلوے اسٹیشنز پر مشک / مشکیزہ ، گھڑے اور صراحیوں میں مزدور لوگ مسافروں کے پینے کے لئے پانی رکھتے تھے اور پانی پلا نے کے عوض مسافر ان غریب ماشکیوں کی مدد کر دیتے ۔ پھر دونوں اطراف سے ایسی فضا بنی کہ پانی ہندو اور مسلم کہلانے لگا جبکہ ایک ہی ٹوٹی یا نلکے( Hand pump)سے پانی بھرا جاتا تھا پھر فرق کیسا ؟

سماج میں یہ فرق دونوں جانب کی تنگ نظری نے پیدا کیا، مذہبی ٹھیکیدار وں نے تخلیق کیا. انگریز سامراج سے آزادی کی جنگ میں اس وقت کے مسلم اور ہندو رہنما اکھٹے کھانا نہیں کھاتے رہے جواہر لال نہرو سہ پہر کی چائے مولانا حسرت موہانی کے بغیر نہ پیتے تھے ۔محمد علی جناح آ خر وقت تک ہندو مسلم یونٹی کے داعی رہے ۔ تا ہم قیام پاکستان کے وقت دونوں اطراف کے تنگ نظر ، متشدد مذہبی ٹھیکیدار وں نے ہجرت کے موقع پر جو نفرت کے بیج بوئے اسکی بہت بڑی سزا قتل وغارت گری کے صورت میں تمام مذہب کے لوگوں نے جھیلی ۔ لیکن اس موقع پر محمد علی جناح، لیاقت علی خان، جواہر لعل نہرو اور مو ہن داس گاندھی کے علاؤہ کچھ دیگر رہنماؤں نے اسے کم کرنے کی کوشش کی ۔

یاد رہے کہ گجرانوالہ کی رہنے والی نامور ہندو ادیبہ امرتا پریتم نے ہجرت کے بعد مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے قتل عام پر اپنی مشہور زمانہ نظم ” اج آ کھاں وارث شاہ نوں کتوں قبراں و چو ں بول ” لکھ کر مسلمانوں کی حالت زار بیان کی۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان اور ہندوستان ایک حقیقت ہیں ۔ ہندوستان اور پاکستان میں سماج کی ترقی کے لئے تسخیر ہندوستان اور تخریب پاکستان کے سازشی ایجنڈے کو ترک کرنا چاہیے ہندوستان میں رہنے والا مسلمان ہندوستانی ہے تو پاکستان میں رہنے والا ہندو پاکستانی ہے۔

انفرادی غلطیوں  کا خمیازہ بعض اوقات اجتماعی غلطیوں کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے ہے تاہم برصغیر کی عوامی اکثریت بیر نہیں رکھتی تھی کیونکہ کوئی بھی مذہب بیر رکھنا نہیں سکھلا تا ،کسی بھی مذہب کا سب سے اچھا سبق “حسن سلوک ” ہوتا ہے ۔ پاکستان اور ہندوستان میں رہنے والے ہندو ، مسلم ، سکھ اور عیسائی اپنی قابلیت کی بنیاد پر ترقی یافتہ ممالک میں کلیدی عہدوں پر فائز ہیں، ترقی یافتہ ممالک قابلیت کو مذہب کی بنیاد پر نہیں میرٹ پر جانچتے ہیں جو کہ انکی ترقی کی کنجی ہے ۔

پاکستانی آ ئین میں تمام اقلیتوں کو ترقی کے برابر مواقع کی ضمانت دی گئی ہے اور کسی بھی شیڈولڈ کاسٹ سے امتیازی سلوک کی نفی کی گئی ہے ،پاکستان کے ہلالی پرچم میں سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے پاکستان میں بلا تفریق مذہب تمام رہنے والوں کو قائد اعظم نے پاکستانی شہری قرار دیکر اس عزم کا اعادہ کیا کہ انکے شہری حقوقِ یکساں ہیں ۔ پاکستان کے لئے غیر مسلم اقلیتوں کے افراد کی شاندار خدمات ہیں، آ پ کوئی بھی شعبہ دیکھیں اقلیتوں کی بہترین نمائندگی نظر آتی ہے۔ دفاع میں سیسل چودھری ہوں یا بطور جج بھگوان داس یا جسٹس اے آ ر کار نیئلس ہوں فن اداکاری،/ گلوکاری میں شبنم ، رونالیلااور اے نئیر ہوں، غرض یہ کہ تمام شعبہ حیات میں اقلیتوں کا کردار ہے یہ سب روشن پاکستان کا چہرہ ہیں ۔

موجودہ دور میں پاکستان میں اقلیتی برادری کے افراد نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں گزشتہ دنوں ایک خاتون محترمہ ڈاکٹر سنا رام چند نے جن کا تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر شکار پور سے ہے، CSS کا امتحان پاس کرنے کے بعد اکیڈمی ٹریننگ کر کے بطور اسسٹنٹ کمشنر تحصیل حسن ابدال ضلع اٹک سے اپنا سروس کیرئیر شروع کیا تو اخبارات اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا کہ ایک ہندو لڑکی بطور اسسٹنٹ کمشنر تعینات ہو گئیں تو گویا ایک انہونی بات ہو گئی ،نہیں ایسا نہیں  ہے،ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہو گی و ہ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی پاکستانی لڑکی ہے پاکستان کا روشن اور لبرل چہرہ ہے ۔ کوئی بھی پاکستانی ہندو، سکھ، عیسائی جو کسی عہدے پر فائز ہے مذہبی نوعیت کی بجائے انہیں پاکستانی گردانتے ہوئے شمار کیجئے کیونکہ پاکستان کے تمام مذاہب کی برادریوں کے افراد کو آ ئین پاکستان نے شہری حقوقِ برابری کی بنیاد پر فراہم کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہوئی ہے لہذا محترمہ ڈاکٹر سنا رام چند آپ پاکستانی ہیں اور ہماری بہن ، بیٹی ہیں آپ پاکستان ہیں اور پاکستان کی بہتری کے لئے اپنا فرض نبھائیں گی ۔ ہمیں تم سے پیار ہے ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

راؤ عتیق الرحمن “تاریخ بہاولنگر” کے مصنف اور افسانہ نگار ہیں-

Facebook Comments

راؤ عتیق الرحمٰن
مصنف راؤ عتیق الرحمن نے گریجویشن گورنمنٹ ڈگری کالج بہاولنگر سے کی ۔ 1984میں کالج سٹوڈنٹ یونین کے جنرل سیکرٹری رہے۔ لکھنے کا شوق سکول ہی سے تھا ۔کالج کے میگزین "لالہ صحرا "میں مضامین لکھے ۔ 2016 میں بھاولنگر شہر سے متعلق کتاب "تاریخ شہر بہاول نگر"لکھی ۔۔تاریخ اور سماجیات پر لکھتے ہیں اور سماج پر لکھتے ہوئے تاریخ کو ساتھ لیکر چلتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply