داعی محبت ، مولانا طارق جمیل۔۔منصور ندیم

اک شور و غوغا بپا ہے سوشل میڈیا   پر نظر آنے والی  ایک تصویر پر، کہ ایک عالم دین ، مولانا طارق جمیل ایک لگژری  لیموزین  گاڑی سےاتر رہے ہیں   اور اعتراض یہ کیا جارہا ہے کہ مولانا طارق جمیل جب اسوہ حسنہ یا سادگی پر بیان کرتے ہیں تو ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے ہیں ۔ پھر  وہ اس لیموزین میں کیوں بیٹھے؟پہلے تو  وضاحت یہ کہ یہ ان کی ذاتی گاڑی نہیں ، مولانا کو کینیڈا کی ایک تنظیم نے ایک  سیمینار میں شرکت کے لئے مدعو کیا   اور اس تنظیم نے اپنے تمام مہمانوں کو ایئرپورٹ سے ہوٹل تک پہنچانے کے لئے ایسی گاڑیوں کا ہی انتظام کیا.

آپ کسی کے ہاں مہمان جائیں. میزبان آپ کو ریسیو کرنے کے لئے اپنی مہنگی کار لے کر آئے تو کیا آپ یہ بول سکتے ہیں کہ جناب میں تو سادگی پسند ہوں. میرے لئے نیلی پیلی ٹیکسی کا انتظام کرو. ایسا کرنا سادگی نہیں بلکہ سادگی کا ڈھونگ اور تکبر ہے. اور یہ آپ کا میزبان پر احسان نہیں بلکہ اس کو مصیبت میں ڈالنا ہے کہ وہ اپنی کار چھوڑ کر آپ کے لئے ٹیکسی ڈھونڈنے نکل پڑے.

دوسری بات  یہ ہے کہ  مولانا طارق جمیل صاحب کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے ہے جو  تلمبہ سے دو تین کلو میٹر آگے آڑی والا (حسین پور) میں ہے مولانا کےخاندان کاعلاقے کے بڑے زمینداروں میں شمار ہوتا ہے سینکڑوں کنال کی زرعی اراضی ہے، آم، کینو، امرود کے باغات ہیں مولانا کے دوسرے بھائی ڈاکٹر طاہر سہو صاحب کا پاکستان کے دل کے بڑے ڈاکٹروں میں شمار ہوتا ہے لاہور ڈاکٹر ہسپتال جوہر ٹاؤن میں ہوتے ہیں،  مولاناطارق جمیل  خاندانی رئیس ہیں ۔

مولانا طارق جمیل صاحب نے گورنمنٹ کالج لاہور سے پری میڈیکل کرنے کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں داخلہ  لیا  مگر پھر دینی تعلیم کی طرف رجحان غالب ہوا تو کنگ ایڈورڈ سے تعلیم مکمل کیے بغیر ہی اسے چھوڑ دیا۔یہی وجہ ہے کہ یہ ایک جدید تعلیم سے آراستہ ذہن کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے آزاد فضا میں تعلیم پائی ہے۔ ان طبقات کی سنگت میں جوانی گزاری ہے جن کو آج وہ اپنی تبلیغ سے اپنا مرید بنائے ہوئے ہیں۔ یہ ان جیسی زبان میں بات کرتے ہیں۔ ان کی سوچ کو سمجھتے ہیں۔ ان کے شکوک و شبہات سے آگاہ ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ان طبقات کی سوچ کو کیسے متاثر کیا جا سکتا ہے۔ ان کی توجہ کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔جبکہ عصر حاضر کے روایتی علما کی اکثریت اس خصوصیت سے محروم ہے۔

مولانا طارق جمیل صاحب کو جدید تعلیم سے آراستہ ذہنوں میں پذیرائی حاصل ہے۔ مختلف تعلیمی اور پروفیشنل ادارے بھی ان کے لیکچرز کا اہتمام کرتے ہیں۔ میرا مقصد کسی مذہبی بحث میں پڑتے ہوئے یہ حکم لگانے کی کوشش نہیں ہے  کہ کس عالم کا کیا درجہ ہے یا اس کی تعلیمات میں کیا کیا نقائص ہیں۔ ہم صرف اس پہلو پر بات کریں گے کہ ان کی مقبولیت کی کیا وجہ ہے۔مولانا کا بیان سنتے ہیں۔ ان کے مختلف سبق آموز قصے اور زندگی کے واقعات سنانے کا انداز دل کھینچتا ہے۔ انسانوں سے محبت کرنے کا ان کا درس ہماری سمجھ میں آتا ہے۔ بعض افراد مولانا کے حوروں کے بیان وغیرہ کا خاص طور پر مضحکہ اڑاتے ہیں مگر آپ یہ دیکھیں کہ وہ حضرات بھی دیگر کتنے علما کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی خواہ مولانا سے عقیدت ہو یا ان سے مخاصمت، ان کو سنا ضرور جاتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بات نہ کرنے پر بھی ان پر اعتراض کیا جاتا ہے۔مگر کیا وہ کبھی بھی کسی کی مخالفت کرتے ہیں، انہوں نے کبھی بھی کسی بھی گروہ کی مخالفت نہیں کی، ان کے کام میں تنقید ہے ہی نہیں،  ممکن ہے علماء کو ان پر اعتراض ہو کہ وہ اپنے بیانات میں جنت و دوزخ کا نقشہ کھینچتے وقت مبالغہ کرتے ہیں،مگر ان سب اعتراضات کے باوجود یہ بات تو ان کے حامی اور مخالفین دونوں ہی تسلیم کریں گے کہ مولانا کی بات لوگوں پر اثر کرتی ہے اور وہ ان کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔

مولانا کہیں بھی بیان  دینے جاتے ہیں تو پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اپنا خرچہ کیا جائے ویسے تومولاناکے لئے لوگ لیموزین سے بڑھ کر مہنگی گاڑیاں لاتے ہیں افریقہ کے جنگلوں میں یہی مولانا پیدل یا  گدھاگاڑیوں بیل گاڑیو ں پر بھی سفر کرتے ہیں یورپ میں مولانا کے استقبال کے لیے لوگ لیموزین، بی ایم ڈبلیو، مرسڈیز لاتے ہیں جبوتی کے غریب ترین ملک میں ٹوٹی پھوٹی کشتیوں پر بھی سفر کرلیتے ہیں پاکستان کے دیہاتوں میں موٹر سائکلوں پر بھی سفر کر لیتے ہیں۔ یہ تو انحصار کرتا ہے وہ کس جگہ اور کس طرح کے لوگوں سے ملتے ہیں اور وہاں کے موجود وسائل کیا ہیں۔

عجیب شخصیت ہے مولانا کی کبھی گانے بجانے والوں سے ملتے ہیں کبھی کھلاڑیوں کے پاس جاتے ہیں کبھی سیاست دانوں کےلئے دعا کرتے ہیں تو کبھی مخالف مسلک والوں سے مل بیٹھتے ہیں عجیب آدمی ہیں مولانا بھی۔ یو ٹیوب پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں مولانا کے ایک مخالف مولوی ، مولانا کی محنت کے نتیجے میں کرکٹ کے کھلاڑی یوسف یوحنا کے قبول اسلام پر یہ فرما رہے تھے کہ یوسف یوحنا پہلے عیسائی تھا اور اب مرتد ہو گیا، جنید جمشید کے حوالے سے بھی کافی نا زیبا زبان  استعمال کی  گئی ۔ معلوم نہیں مولانا  طارق جمیل کس مٹی کے بنے ہوۓ ہیں مولانا نے سید مودودی  کی تعریف کی منصورہ گۓ لوگوں نے کہا دیکھو دیکھو گستاخ صحابہ کی تعریف کرتا ہے ” خلافت و ملوکیت ” لکھنے والے کی تعریف ہمارے سیاسی مخالفوں کے گھر جاتا ہے مگر کیا کیجئے مولانا نہیں مانے۔

کبھی سید منور حسن سے محبت کا اظہار تو کبھی سراج الحق سے شفقت ، مولانا طارق جمیل، طاہر القادری صاحب سے ملے موہری شریف گۓ لوگوں نے کہا دیکھو دیکھو یہ تو بدعتی ہو گیا یہ تو مشرک ہوا ہے مولانا نے کوئی پرواہ نہ کی ، مولانا طارق جمیل،  ڈاکٹر ذاکر نائیک کی خدمت میں تشریف لے گۓ لوگوں نے کہا دیکھو دیکھو یہ تو غیر مقلد ہو گیا یہ تو تجدد پسندوں کی تائید کرتا ہے یہ تو گمراہ ہے ، ٹی وی کے مشہور اینکر نصرت جاوید نے مولانا کو ٹی وی پر برا بھلا کہا ،  منافق کہا مولانا طارق جمیل نے ان کے اگلے پروگرام میں کال کرکے اسے دعائیں دیں لوگ  پھر بھی برا مانے اور  اسے مولانا کی مداہنت قرار دیا ۔مولانا طارق جمیل نے عین اس وقت امام بارگاہوں کے دورے کیے کہ جب شمالی علاقہ جات میں شیعہ سنی فساد سامنے کھڑا تھا لوگوں نے کہا یہ تو شیعہ ہو گیا رافضی ہو گیا مگر کیا کیجئے مولانا پر کوئی اثر نہ پڑا ؛

مولانا طارق جمیل کراچی آۓ نائن زیرو کا دورہ کیا اے این پی کے علاقے میں تقریر کی لیاری کے گینگسٹرز سے ملے لوگوں نے کہا دیکھو دیکھو یہ مولوی کیا کرتا ہے لعنت کی ملامت کی مولانا کو پھر بھی کوئی فرق نہ پڑا ، مولانا طارق جمیل،  عمران خان کے گھر گۓ کپتان کی فیملی کے ساتھ کھانا کھایا لوگوں نے کہا دیکھو دیکھو یہودیوں کے ایجنٹ سے ملتا ہے یہ تو گمراہ ہو گیا مگر پھر وہی لا پرواہی مولانا نے کوئی توجہ نہ کی ، مولانا طارق جمیل کی اداکار عامر خان سے ملاقات ہوئی لوگوں کی زبانوں پر پھر زہر تھا مولانا تریاق ڈھونڈتے رہے ، مولاناطارق جمیل نے وینا ملک کے سر پر ہاتھ رکھا لوگوں نے پھر سنگباری کی مولانا کی زبان پر پھر دعائیں تھی مولانا ویسے ہی رہے ،  مولانا طارق جمیل نے نواز شریف سے ملاقات کی ہے اور اس کے  لیے دعا کی سیاسی مخالفین نےپھر نشانے پر رکھا.

کبھی جس کی زبان سے کسی کی برائی نہیں سنی، کبھی کسی مسلک پر جس نے تنقید نہ کی ہو، کبھی کسی علاقائی، مسلکی، مذہبی بنیاد پر کسی کی مخالفت نہیں کی ہو،  کبھی کسی پر اعتراض نہیں کیا ہمیشہ امت کو جوڑنے کی بات کی، ان پر نقطہ چینی صرف اس بنیاد پر کرتے ہیں  کہ ان کے دسترخوان پر ۳ سے ۴ کھانے موجود ہیں، یا وہ لمبی گاڑی سے اترتے ہیں۔   کیا  ہم من الحیث القوم  اتنا گر چکے ہیں کہ ایک ایسے شخص کو جو اخلاقیات کا درس دیتا ہے ، اس پر تنقید کے ڈونگرے فقط اس کے اچھے لباس، اس کے ایکسر سائز کرنے یااچھا  کھانا کھانے کی بنیاد پر کریں۔ جو شخص اگر روایتی طور پر زمیندار بن کر رہتا تو بھی یہ سب کچھ با آسانی کر سکتا تھا۔

اس سب مساعی کے باوجودمولانا طارق جمیل ایک انسان محض ہے- آئیڈیل تو  وہی آقا دو جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہیں تاج نبوّت نوازنے سے کئی سال پہلے ہی  خالق کائنات نے شق صدر کر کے ، ان تمام کمزوریوں سے پاک فرمادیا تھا جو عام انسانوں میں ہوتی ہیں ۔
نعرے بازی،احتجاج،کافر کافر،تبرا بازی،تو سب کرتے ہیں۔۔کاش کوئی مصلح بھی ہو،جو اسی حکمت و بصیرت سے معاشرے کا گند صاف کرے جس طرح چودہ سوسال پہلے میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بدو کا گند صاف کیا تھا جس نے مسجد میں پیشاب کردیا تھا- !!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *