راجہ بھوج اورگنگو تیلی۔۔محمد اظہار الحق

SHOPPING
SHOPPING

کیا قدیم زمانے کے انسان بہت لمبے قد کا تھا؟

اس کا جواب سائنس دان یا محققین یا اینتھروپالوجی کے ماہرین ہی دےسکتے ہیں۔ہاں سب کی طرح ہم نے بھی سنا ہے کہ ہمارے مقابلے میں اس زمانے کے قد زیادہ لمبے ہوتے تھے۔اس کالم نگار کو اردن میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قبر مبارک دیکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس کی لمبائی دیکھ کر حیرت ہوئی ۔کمرے کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک تھی۔

آج کے زمانے میں  حالات  دیکھیں تو یہ بات’ قد کی لمبائی والی’ درست ہی لگتی ہے۔ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے قد کس قدر چھوٹے ہوگئے ہیں !جہاں شمشاد قد بیٹھتے تھے۔ وہاں بونے نظر آتے ہیں !جہاں دیو ہیکل تھے وہاں بالشتیے براجمان ہیں !تخت یا کرسی کے پایوں  کے نیچے دو دو فٹ اونچی لکڑیاں رکھ کر بھی یہ بونے’ یہ بالشتیے’یہ پستہ قد کردار’بلند قامت نہ ہوسکے۔

اس لیے کہ بلند قامتی مصنوعی اونچائی سے نہیں ملتی!
ذوالفقار علی بھٹوسے شروع کیجیے۔منفی پہلو بہت تھے،آمرانہ رجحانات شخصیت کا حصہ تھے،دلائی کیمپ تاریخ میں ان کے ساتھ چپکا ہوا ہے مگر بطور لیڈر بھٹو بلند قامت تھے۔لباس کا کیا اچھا  ذوق تھا!فرنگی ملبوس بہت رکھ رکھاؤ سے پہنتے۔عوامی جلسوں میں شلوار قمیض کا فیشن شروع کیا تو پورے ملک پر فیشن چھا گیا۔کثرت سے اور باقاعدگی سے  مطالعہ کرتے،انگریزی کمال کی لکھتے ۔اور بولتے تو دھاک بٹھا دیتے۔سیاسی جلسوں میں فن تقریر کی نئی سمت نکالی۔کم از کم اس کالم نگار کے ناقص علم میں ان کی مالی کرپشن کی کوئی کہانی نہیں ہے!صدر سو کارنو سے لے کر یاسر عرفات اور شاہ فیصل تک دوستی تھی۔پارٹی بنائی اور پھر اسے ایک بڑی سیاسی قوت میں تبدیل کیا۔

اس کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت دیکھیے اور اس بات پر ایمان لائیے کہ قد چھوٹے ہوگئے۔پارٹی سربراہ جناب  آصف زرداری کی قابلیت فنِ خطابت پر ان کی گرفت.کتابیں پڑھنے کا شوق اور لکھنے کی مہارت او ر سب سے بڑھ  کر  دیانت  اور امانت کے حوالے سے شہرت! عبرت کی جا ہے کہ قیادت کہاں سے کہاں  آپہنچی۔جو عمارت بھٹو نے تعمیر کی تھی اب اس کے فقط کھنڈر باقی ہیں۔ان کھنڈرات پر مجاور بیٹھے ہیں!چادر چڑھا کر نذرانے وصول کرنے والے مجاور! پارٹی جاں بلب ہے کسی وقت بھی کچھ ہو سکتا ہے۔اسی لیے ان مجاوروں کو اب گورکن اور غسال درکار ہیں۔بقول ظفر اقبال
مجھے غسال ہی نہلائیں گے اب
بہت میلا کچیلا ہوگیا ہوں !

مسلم لیگ کا بخت دیکھیے! عبرت کی جیتی جاگتی مثال!آغاز قائداعظم سے ہوا۔اس قدو قامت کا لیڈر صدیوں بعدپیدا ہوا اور شاید کئی صدیوں تک نہ ملے۔جان کے دشمن بھی ایک پائی کی بد دیانتی نہ ڈھونڈ سکے۔ اصو ل پرستی اور  آئین پسندی کی آخری حد سے بھی کوسوں آگے!زندگی بھر اپنی تعریف میں ایک لفظ نہ کہا!مقدمہ پہلے ختم ہوگیا تو رقم واپس کردی!پھر ذہانت و فطانت اور لیاقت اس درجے کی کہ مشرق و مغرب عش عش کر اٹھا!پیسہ کمایا بھی تو زورِ بازو سے!طعنہ ملا کہ گاندھی جی کانگریس کے خرچ پر سفر کرتے ہیں۔ریل کے تیسرے درجے میں سفر کرتے ہیں اور آپ ہیں کہ فرسٹ کلاس میں! جواب دیا کہ گاندھی جی کا نگریس کے خرچ پر سفر کرتے ہیں،میں اپنی جیب سے ٹکٹ لیتا ہوں!وقت کی پابندی قابلِ رشک!لباس کے معاملے میں ذوق داستانوی حد تک طلسمی! متانت اس قدر کہ زندگی بھر کچی بات نہ کی!رعب اتنا کہ بڑے بڑے سردار،نواب زادے،یہاں تک کہ انگریز بھی سوچ سمجھ کر زندگی بھر کچی بات نہ کی۔رعب ایسا کہ بڑے بڑے سردار’نواب زادے’ یہاں تک کہ انگریز بھی سوچ کر’ناپ تول کر’ان سے بات کرتے۔سرکاری خزانے کی اس قدر حفاظت اور اتنی احتیاط کہ گزرے زمانے یاد دلا گئے۔سرکاری گاڑی اورگورنر جنرل کے استعمال کے لیے جہاز خریدنا پڑا تو اس قدر فکر کہ کم سے کم خرچ ہو! پھر قوتِ بیان ایسی اور اندازِ تقریر  ایسا کہ ایک ایک لفظ سے  کوہسار جیسا عزم چھلک چھلک پڑتا ہو۔حسنِ نیت اور اخلاص کی برکت تھی کہ انگریزی معلٰی میں تقریر کرتے اور کچھ نہ سمجھنے والے عوام  یوں بیٹھے رہتے اور یوں زبانِ حال سے تصدیق کرتے جیسے الفاظ قائد کے منہ سے نہیں ‘ بادلوں  کے اس پار سے اتر رہے ہوں !بمبئی اور دہلی میں محلات چھوڑ آئے’گورنر جنرل ہو کر ایک خشت تک اپنے لیے حاصل نہ کی!

اُسی قائد اعظم کی جماعت مسلم لیگ اب میاں  نواز شریف کی باندی بنی ہوئی ہے۔اب  نہیں ‘تین عشرے ہونے کو ہیں! قوتِ تقریر متانت اور رعب سب کےسامنے ہے۔کچھ  بیان کرنے کی حاجت ہے نہ گنجائش! جس مسلم لیگ کے قائد نے بسترِ مرگ پر ‘لاہور سے آیا ہوا باورچی واپس کردیا تھا اور جورابیں نہیں لی تھیں کہ مہنگی ہیں ‘اُسی مسلم لیگ کا قائد اب تین کروڑ (یا اس سے زیادہ کی) گھڑی کلائی پر باندھتا ہے۔ پورا سالم  ہوائی جہاز ‘اپنے لیے خالی’ لندن منگواتا ہےاور کھڑا رہتا ہے۔غسل خانے پر بیت المال سے کروڑوں روپے صرف کردیتا ہے۔ وزارتِ اعظمٰی سے نا اہل ہوکر بھی سرکاری پروٹوکول ‘مراعات’سرکاری اہلکار اور افسر اپنی اردل  میں یوں بٹھاتا ہے جیسے بیت المال نہ ہو’مشیرِ مادر ہو! آپ کا  کیا خیا ل ہے کہ قائداعظم بیمار  ہوتے تو کیا ان کے فرائض ان کی جگہ ان کی وہ بیٹی سرانجام دیتی  جو حکومت میں ہوتی نہ پارلیمنٹ میں ‘ نہ پارٹی کا ہی عہدہ اس کے پاس ہوتا!اور آپ کا  کیا خیال ہے کہ قائداعظم امریکی صدر سے ملتے تو جیب سے چٹیں نکال کرایک ایک لفظ منہ سے یوں نکالتے جیسے بچہ سبق ازبر کررہا ہو’اور آپ کا کیا خٰیال ہے قائداعظم بھارت جاتے تو وہاں  تاجروں کے گھر جاتے اور کیا مری میں  بھارتی سیٹھوں سے’وزارت خارجہ کو بے خبر رکھ کر’ ملتے؟ اور آپ کا کیا خیال ہے قائداعظم درجنوں  فیکٹریوں اور  لندن کے فلیٹوں اور جدہ  دبئی اور قطر  کی جائیدادوں کے مالک ہوتے ؟اور کیا کرپشن کے مقدمات میں سر سے لے کر  پاؤں تک لتھڑے ہوتے؟اور آپ کا کیا  خیال ہے قائداعظم پارٹی کے صدر ہوتے تو او آئی سی کے اجلاس  میں ترکی اپنے بھائی کو جانے کی اجازت دیتے؟اور خدانخواستہ عدالت آتے تو  کیا تیس تیس گاڑیاں  اور سرکاری اہلکاروں کے جتھوں کے جتھےان کے ساتھ  پروٹوکول کا تزک و احتشام دکھاتے؟اور کیا قائداعظم کا دفاع عابد شیر علیس ‘دانیال عزیز’ طلال چوہدری’اور ضنیف عباسی کرتے؟

کس آسمان پر تھی مسلم لیگ او رکس  اسفل السافلین میں آن گری ہے!جی چاہتا ہے بال کھول  لیےجائیں  اور کمر کے ساتھ پٹکا باندھ کر ایسا ماتم’ایسی آہ و زاری ‘ایسی سینہ کوبی کی جائے کہ فرشتے ماتم میں  شریک ہوجائیں ،آسمان گر پڑے اور زمین پھٹ جائے۔پھر ‘پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا سوچیے،دنیا سے گئے تو بنک میں چند ہزار روپے تھے اور بیوہ کے لیے چھت تک نہ تھی۔اس کے مقابلے میں آج کی قیادت کے اثاثے دیکھیے، صرف تصور ہی سے روح کانپنے لگتی ہے اور رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں !آنکھیں  بند کرکے سوچیےکیا قائداعظم احتساب کا اور دیانت کا لباس  یہ کہہ کر تار تار کرتے کہ “میرے اخراجات میری آمدنی سے زیادہ ہیں  تو تمھیں کیا؟”

جماعت اسلامی کا زوال دیکھیے ‘اس کے بانی سید ابو اعلٰی مودودی  تھے! پچپن برس کے بھی نہ ہوئے تھے الجہاد فی الاسلام جیسا  شاہکار تصنیف کیا۔

تصانیف کی تعداد  حیران کن !مضامین کا تنوع قابلِ رشک!”سلاجقہ ” سے لے کر تفہیم القرآن تک’تنقیحات سے لے کر “سود “اور  “پردہ” جس موضؤع پر قلم اٹھایا حق ادا کردیا۔ اردو ادب کو نثر  کا نیااسلوب دیا ۔پھر تحریر میں مولویت نہ جذباتیت!خالص استدلالی اور سائنسی اندزِ بیان! یہی حال تقریر کا تھا!گھن گرج نہ نعرے’چیخ نہ لَے’صرف’اور صرف دلائل’پھر ایک حلقہ ارباب قلم اپنے گرد باندھا۔ ایک سے بڑھ کر ایک !ملک  غلام علی ‘ خلیل حامدی’عبدالحمید صدیقی’مصباح الاسلام فاروقی’نعیم صدیقی اور کئی ستاروں  جیسے چمکتے دمکتےسکالر اور! ہر ایک اپنے میدان کا شہسوار !پھر گفتگومیں متانت !فیض صاحب اور مولانا ابو الاعلٰی مودودی  دو ابطال ہیں  جنہوں  نے زندگی بھر مخالفین کے متعلق خاموشی اختیار کی۔صبر کیا اور جوابی حملہ نہ کیا۔لباس میں ابوالاعلٰی مودودی حد درجہ نفاست پسند اور منظم! کبھی ڈھیلی ‘کچی ‘لاابالی’بڑبولی بات نہ کی!اب جماعت کی قیادت سراج الحق صاحب کے پاس ہے پرسو ں کراچی خطاب میں دعویٰ کیا کہ 2018 میں بیت المقدس آزاد ہوجائے گااور پاکستان میں اسلامی حکومت کی بنیاد پڑے گی!آپ کا کیا خیال ہے ابوالاعلٰی مودودی ایسا دعویٰ کسی جلسے میں کرتے؟اور کیا وہ جس جماعت کی قیادت پر رات دن کرپشن کا الزام لگاتے’ آزاد کشمیر میں اسی سے اتحاد کرلیتے؟ او رکیا ابوالاعلٰی ہوتے تو لسانی بنیاد پر مولانا فضل ا لرحمٰن اور اچکزئی جیسے لوگوں کے ساتھ بیٹھتے؟

وہی جماعت اسلامی جس پر سکالر’ محقق’ ماہرین لغت’ مفسر ‘شاعر چھتری کی  طرح سایہ لیے ہوئے تھے’وہی جماعت اسلامی اب جن افراد کے  حضور سر جھکائے شرمندہ کھڑی ہے’وہ ایک صفحہ لکھنے سے قاصر ہیں ‘ایک سماعت کو متاثر نہیں کرسکتے’ہا ں پراپرٹی کے معاملات اور کاروبار کے اسرار و رموز کوئی سیکھنا چاہے تو ان سے بڑا ماہر کوئی نہیں ملے گا!ابوالاعلٰی  کا لباس  دیکھ کر شخصیت کا کیا تاثر ملتا تھا اور اب کیا تاثر ملتا ہے!!

SHOPPING

تو اس میں تعجب کی بات ہی کیا ہے اگر اگلے وقتوں  میں قامتیں  بلند تھیں ! اور اب بونے اور بالشتیےپیش منظر پر چھا گئے ہیں ۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *