پچھلا دروازہ/گُل رحمٰن

آج بہت دنوں کے بعد خود سے گپ شپ کرنے کا موقع  ملا۔ گفتگو نے شدّت  کا رنگ اختیار کیا اور ایک عجیب سا ہیجان پیدا ہو گیا۔ سوچا ،کیا زندگی اسی کا نام ہے کہ ہم ذمہ داریوں کے انبار تلے،حقوق و فرائض کی جنگ میں ، خوشیوں کے تعاقب کرتے کرتےخود سے لا تعلق ہوجائیں ۔ وقت کی رو میں اتنا بہہ جائیں کہ خود کو ہی کہیں کھو بیٹھیں ۔ پھر خیال آیا وقتا ًفوقتا ًاس بارے میں بہت کچھ کہاسُنا جا چکا ہے مگر با ت صرف عمل کرنے کی ہے جو ہم پہ لاگو ہوتی ہے ۔

ہر طرف جو نفسا نفسی پھیلی ہے وہ اور کچھ نہیں بلکہ ایک وبال جان ہے ۔ ہوس پیسے ، رُتبے ، شہرت ،برتری ،اَنا کی،حتی کہ ظلم ۔ ۔۔اور ظلم بھی وہ جو ہم اپنے ساتھ کرتے ہیں ۔کسی جلتی لکڑی کی مانند ، آگ کی بھٹی میں جیسے کسی نے پھینک دیا ہو ،اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ سُلگ کر راکھ کا ڈھیر بن جائے پھر وہ راکھ کا ڈھیر ایک ہوا کے جھونکے سے بکھر کے فنا ہو جائے۔حتی کہ بعد میں اُس نقصان کاقصوروار ہم دوسروں کو ہی ٹھہراتے ہیں ۔ ہاں بھئی زمانہ ہی ایسا ہے۔۔کرے کوئی بھرے کوئی۔

بات کچھ لمبی ہو جاتی مگر میں نے گفتگو کا سلسلہ منقطع کرتے ہوئے خود سے سوال کر ہی لیا ۔

اے خودی ! یہ جو آج حسابِ  زیست کرنے بیٹھی ہو، کچھ اندازہ بھی ہے کیا عمر ہو گئی ؟ جواب ملا ہاں خوب معلوم ہے لیکن آج جو تم ساتھ آن ہی بیٹھی ہو تو کیوں نہ کچھ کہہ سُن لیں بیتے دنوں کے معاملات رفع دفع کر لیں۔ اس سے پہلے میں کچھ اور سوال کرتی ،جواب اور طعنوں کی تو جیسے بوچھاڑ شروع ہو گئی ۔الفاظ کہاں دم لیتے، یہی سوچ کر  میں نے چپ تان لی اور آخر ،خاموشی دونو ں طرف سے ہو گئی۔ اب میں یہاں اور وہ وہاں ۔۔ ناراض ہے مجھ سے کہتی ہے !

؀ کیوں اوروں کے دُکھ پالے  ہیں

جب خود کے دل پہ چھالے ہیں

Advertisements
julia rana solicitors

میں جیسے احساس کی بھٹی میں جل گئی ۔ یہ کیا رنگ دکھا دیا ،میں اپنی محبت کا دروازہ دوسروں کے لئے کھلا رکھتی رہی ۔ وہ دروازہ جو میری فطرت کی عکاسی کرتا ،میری شناخت کی تصویر بنا ایسی تصویر جو میں ہمیشہ خوبصورت دکھانے کی تگ و دو میں لگی رہی اور یہ بھول گئی کہ ایک دروازہ اور بھی ہے جو پیچھے کی جانب کُھلتا ہے جس کا راستہ میرے دل کو جاتا ہے میں یہ دروازہ کیوں بند رکھتی ہوں ۔ دوسروں سے محبت کرنا اچھی بات ہے لیکن بات تو سچ ہے اصل محبت وہ ہے جو خود سے کی جائے اور۔ بار ہا کی جائے ۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply