ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا۔محمد اظہار الحق

ہسپتال والے جواب دے دیں  حکیم ‘ہومیو پیتھک سب آزما لیے جائیں ‘ جھاڑ پھونک کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے؟ کیا کِیا جاسکتا ہے؟اسی لیے تو صدیوں پہلے بتا دیا گیا تھا۔

“ہر گز نہیں ! جب پہنچ جائے گلے تک اور کہاجائے ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا اور سمجھ لے گاوہ کہ اب جدائی کا وقت ہے اور لپٹ جائے پنڈلی پنڈلی سے”۔

حکومت پر اس سے زیادہ بر ا وقت کیا ہوگا کہ جو وزیر بد عنوانی کے الزامات  لگا کر استعفٰی دے دیتا ہے’بجائے اس کے کہ اس کے الزامات کی تردید کی جائے،وزیراعظم اس سے کہہ رہے ہیں ‘درخواست کررہے ہیں کہ آپ استعفٰی واپس لے  لیجیے!اس سے زیادہ مضحکہ خیز ‘عبرت ناک ‘شرم  ناک اور ندامت سے سر جھکا دینے والی بات کیا کوئی اور بھی ہوسکتی ہے؟ہے نا جھاڑ پھونک والے کو بلانے کی بات!

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایم این اے دوستین خان ڈومکی کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی منسٹری کا وزیر مملکت حال ہی میں بنایا گیا ۔حالات خراب تھے۔بدعنوانی کی بُو ہر طرف پھیلی ہوئی تھی !شکایات کا انبار لگا تھا۔ وزیر  مملکت نے تفتیش شروع  کردی۔وزارت کے ذیلی اداروں میں این ٹی ایس (نیشنل ٹیسٹنگ سروس)اور کامسیٹ جیسے دیو ہیکل ادارے شامل ہیں ۔مگر ایک رات ‘اچانک ‘ایک اور وزیر صاحب کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی منسٹری کا اضافی  چارج دے دیا گیا۔ دوستین  ڈومکی نے جب اپنی تطہیری مہم کا یہ حشر دیکھا تو استعفٰی دے دیا!

چار دن پہلے دوستین ڈومکی نے وزیر اعظم سے ملاقات کی! ملاقات کے بعد ڈومکی صاحب نے ڈنکے کی چوٹ پر لگی لپٹی رکھے بغیر’میڈیا کو بتایا کہ “وزیر اعظم صاحب نے مجھے استعفٰی واپس لینے کے لیے کہا مگر میں نے انکار کردیا  کیوں کہ فلاں وزیر کے ساتھ’جسے فُل منسٹر کا چار ج دے کر میرے اوپر بٹھادیا  گیا’کام نہیں کرنا چاہتا!”انہوں نے الزام  بھی لگایا کہ اس کے مستعفٰی ہونے کے بعد وزارت کے ذیلی اداروں میں تقریباً  تین درجن تعیناتیاں کی گئیں ۔ان کے بقول ان تعیناتیوں کے لیے(امیدواروں کی)فہرست میں “تبدیلیاں “کی گئیں !

اس ضمن  میں  ہنسانے والی باتیں اور بھی ہیں  ان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اخلاقی حوالے سے وزیر اعظم کے پاؤں کے نیچے زمین کتنی”مضبوط” ہے!وزیراعظم صاحب نے ڈومکی صاحب کو مطمئن کرنے کے لیے بتایا کہ دوسرے وزیر کو اس لیے اضافی چارج دیا گیا کہ  دفاعی پیداوار کی وزارت’وزارتِ  دفاع میں ضم کی جارہی ہے!وہ دوستین صاحب وزیراعظم کو کارنرنہیں کرنا چاہتے ہوں گے ورنہ عرض کرتے کہ جناب عالی! ابھی ضم ہوئی تو نہیں!اگر ایسی بات  تھی تو وہاں کا یعنی دفاعی پیداوار کا چارج وہ وزیر  صاحب چھوڑ دیتے!اب صورتِ حال یہ ہے کہ وہاں بھی وزیر ہیں اور یہاں بھی !اور پھر رات گئے اس تبادلے کی کیا ضرورت تھی ؟ کیا صبح کا انتظار نہیں کیا جاسکتا تھا؟

وزیراعظم الزامات کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔استعفے میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس طرف آتے ہی نہیں دو ہی تو امکانات ہیں ایک  ڈومکی صاحب درست کہہ رہے ہیں یا غلط! اگر درست کہہ رہے ہیں  تو ان کے اوپر رات کی تاریکی میں ایک اور صاحب کو کیوں مقرر کردیا گیا؟اگر ڈومکی صاحب کے الزامات غلط ہیں تو وزیراعظم انہیں سزا دینے کے بجائے استعفٰی واپس لینے کے لیے منت سماجت کیوں کررہے ہیں ؟

اور اتنا”صائب”فیصلہ وزیراعظم نے خود کیا ہے یا اس کا حکم کہیں اور سے آیاہے؟بظاہر تو یوں لگ رہا ہے کہ گائے کوئی اور دوہ رہا ہے اور وزیراعظم صاحب گائے کو صرف چارہ ڈالنے پر مامور ہیں !

ساٹھ کی دہائی میں راولپنڈی صدر میں  ایک ریستوران تھا سلور گرل !یوں سمجھیے اس زمانے میں یہ سٹیٹس سمبل تھا! کھاتے پیتے لوگ یہاں  شام کو بیٹھتے تھے۔ہم ان دنوں کالج کے طالب علم تھے ہمارے پروفیسروں کا ایک گروپ روزانہ شام کو وہاں بیٹھ کر چائے پیتا  تھا اور شام گزارتا تھا۔روپے کی ان دنوں قدرو قیمت تھی!ہم جب سنتے کہ سلور گرل میں چائے کا کپ آٹھ روپے کا ملتا ہے تو حیران ہوتے تھے اور مرعوب بھی!ایک لطیفہ ان دنوں گردش کرنے لگا کہ ریستوران سے اٹھتے وقت جب بل ادا کرنا ہوتا تو ایک صاحب ہرروز جیب سے سو روپے کانوٹ نکال کرپیش کرتے اتنا بڑا نوٹ (اس زمانے میں !)دیکھ کر  کاونٹر والا  کیش کلرک پوچھتا۔”کھلے نہیں ہیں ‘یہ سن کر کوئی نہ کوئی اور دوست بل کی ادائیگی کردیتا! یہ “نسخہ” کئی دن چلتا رہا۔ آخر ایک دن دوستوں نے فیصلہ کیا کہ آج اس نوٹ کو ریزگاری میں تبدیل کرہی لیا جائے!

ایک سو روپے کا نوٹ قومی ائیر لائن کے پاس بھی ہے اس نوٹ کا نام ہوٹل روز ویلٹ ہے۔یہ نیو یارک میں ہےاور قومی ائیر لائن کی ملکیت ہے۔حکومت سے جس طرح قومی ائیر لائن نہیں چل رہی اور ایک عرصہ سے آکسیجن کی نلکی کے سہارے زندہ ہے’ بالکل اسی طرح  ائیر لائن سے یہ ہوٹل نہیں چل رہا! آپ نااہلی ‘نالائقی’بددیانتی’ بدنیتی اوربدبختی کااندازہ لگائیے کہ نیویارک جیسے شہر میں ‘قابل رشک محلِ وقوع میں ‘یہ عظیم الشان عمارت قومی ائیر لائن کی مملکت میں ہے اور یہ ہوٹل ‘ائیر لائن کے خسارے پر چل رہا ہے!کوئی اور ملک ہوتا  یو اے ای  یا ملائشیا جیسا ‘تو اس ہوٹل کے ذریعے ائیرلائن کے اور ملک کے بھی ‘وارے نیارے ہوجاتے!

آکسیجن کی نلکی پر چلنے والی ائیر لائن کروڑوں اربوں کی مقروض ہے!لمحہء  موجود میں اس کے واجبات liabilities چارسو ارب روپے کے ہیں ۔گزشتہ کئی دہائیوں سے ائیر لائن چلانے والے”لائق “اہلکاروں نے یہ تماشا  بنا رکھا ہے کہ جب بھی واجبات کی بات ہوتو جیب سے روز  ویلٹ  ہوٹل  کا  بڑا نوٹ نکال کر پیش کردیتے ہیں !کون سی حکومت چاہے گی کہ ملک اس عالی شان اثاثے سے محروم کردیاجائے چنا نچہ ہوٹل فروخت کرنے کی تجویز رد کرکے ائیرلائن کو قومی خزانے سے ہر بار خطیر رقم دے دی جاتی ہے۔

اس بار بھی یہی ہوا۔ یہ فلم ایک بار پھر چلی۔ ایک بار پھر بڑا نوٹ نکال کر حکومت کو پیش کیا گیا۔ہوا بازی کی وزارت نے وزیراعظم کو تجویز پیش کی کہ ہوٹل فروخت کرکے 406 ارب روپے میں سے کم از کم 352 ارب روپے کے واجبات ادا کردیے جائیں ۔وہ تو بھلا ہو وزیراعظم کا کہ انہوں نے انکار کردیا۔ان کی دلیل یہ تھی کہ گراں بہا اثاثہ ہونے کے علاوہ اس ہوٹل کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت کا بھی حامل ہے!وزارت کو حکم ہوا ہے کہ ہوٹل منافع بخش  بنانے کے لیے کیس تیار کیا جائے!

قومی ائیر لائن کیا ہے؟ ایک چھوٹا ساپاکستان ہے! مِنی پاکستان !نااہلی ‘دوست نوازی’ اقربا پروری اور خود غرضی کا جیتا جاگتا مرقع! یہ وہ بھینس ہے جس کا دودھ حکومت نے پیا ۔جیالوں نے متوالوں نے اور ماشااللہ صالحین بھی پیچھے نہیں رہے۔ہر ایک نے حصہ بقدر  جثہ وصول کیا ہے اور اس  لذیذ کیک کو چھری کانٹے کے ساتھ اطمینان سے کھایا ہے ۔ائیرلائن میں کا م کرنے والے نچلے درجے کے اہلکار بھی کروڑ پتی ہوگئے۔سمگلنگ کے لیے اس ادارے کو بے تحاشا استعمال کیا گیا۔کئی بار تو منشیات پکڑی گئی ۔پائلٹ اس  کے دوسرے ملکوں نے جیلوں میں ڈالے  عشروں تک افرادی قوت اس میں کھلے مقابلے کے ذریعے نہیں ‘بلکہ چور دروازوں سے لگائی گئی جس کسی کو عافیت کا اور آسودگی کا گوشہ درکار تھا’اس نے سفارش پکڑی اور یہاں آکر بیٹھ گیا،پھر بے شمار یونینیں  اسے دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں ۔ پائلٹوں کی یونین گراؤنڈ ڈیوٹی والوں کی یونین’ کلرکوں کی یونین’ان یونینوں نے انتظامیہ کو ایک طرف گلےسے پکڑا ہوا ہے او دوسری طرف ٹانگیں زنجیروں  سے باندھی ہوئی ہیں  !بلیک میلنگ روزمرہ کا معمول ہے!

2016 میں حاصل کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں  کہ فی جہازافرادی قوت کے اعتبار سے شام کی ائیر لائن دنیا کی بدترین ائیرلائن ہے کیوں کہ اس کے پاس  جہاز دس ہیں اور سٹاف تعداد چار ہزار ہے۔یعنی چار سو افراد فی جہاز!ہماری قومی ائیر لائن میں یہ تعداد 390 افراد فی جہاز یعنی دنیا  بھر میں اس اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے بہت سے ملازم روزانہ (دھیاڑی)کی بنیاد پر بھی ائیر لائن کو چمٹے ہوئے ہیں !ان کی صحیح تعداد معلوم ہی نہیں ان سب کو شامل کیا جائے تو فی جہاز تعداد چار سو اور پانچ سو کے درمیان جا پہنچتی ہے۔

اب دوسرے ملکوں سے موازنہ کیجیے ۔بھارت میں 2014ء میں فی جہاز اہلکاروں کی تعداد 135 تھی۔ ایک سال بعد یہ تعداد  114 تک کم کردی گئی۔

یہ موازنہ کرتے وقت یاد رکھیے کہ پاکستان  کی قومی ائیر لائن کے پاس کل جہاز چالیس سے کم ہیں اور سارے درست حالت میں بھی نہیں ! آئر لینڈ کی قومی ائیرلائن کے پاس 320 جہاز ہیں اور فی جہاز ملازمین کی تعداد صرف 30 یعنی تیس ہے۔انڈونیشیا کی ائیرلائن میں یہ تعداد 56 ہے ۔ہمارےدوست ملک ترکی کے پاس 298 جہاز ہیں اور فی جہاز سٹاف کی تعداد  63 ہے!ائیرچائنا میں  یہ تعداد 70 ہے اور مصر کی ائیرلائن میں یہ تعداد 142 ہے ۔متحدہ عرب امارات کی مشہور زمانہ ائیرلائن اتحاد کے پاس 119 طیارے ہیں اور فی طیارہ سٹاف 149 سے زیادہ نہیں۔سعودی عرب ائیرلائن میں بھی  یہ تعداد صرف 152 ہے۔قطر ائیرلائن میں بھی 180 ،ملائشیا ائیر لائن میں 181،ہے۔اور تو اور سری لنکا بھی ہم سے کوسوں آگے ہے۔ ان کے ہاں فی جہاز تعداد 283 ہے۔امریکہ کی  تو بات ہی نہ کیجیے ۔حوصلہ ہے تو سن لیجیے۔ امریکہ کی معروف ڈیلٹا ائیرلائن میں فی جہاز صرف 110 ملازم کام کررہے ہیں۔اس ائیر لائن کے پاس 722 طیارے ہیں ۔یہ چالیس ارب ڈالر کے منافع پر چل رہی ہے۔امریکہ ہی کی ایک اور ائیرلائن ہے ۔یونائیٹڈ ائیرلائن ۔اس کے پاس 939 طیارے ہیں او  ایک طیارے کے لیے صرف 120 ملاز م کافی ہیں ۔

ایک طیارے  کو پانچ سو جونکیں چمٹی ہوئی ہوں ‘انتظامیہ یونین کے سامنے پا بہ زنجیر ہو’پائلٹ ہٹ دھرم ہوں’ قوائد و ضوابط کی رات دن دھجیاں اڑا رہی ہوں اور تجویز روز ویلٹ ہوٹل کو بیچنے کی دیں !کیا بات ہے!

گنوا دیں  گے اب اک دن آخری بارہ دری بھی

مگر ظلِ الہ کا طنطنہ باقی رہے گا

تاکہ یہ جونکیں ہوٹل  کی فروخت سے ملنے والی رقم چوس جائیں اورایک سال بعد خسارہ پھر اتنا ہی ہو جائے!
خدا کے بندو !آکسیجن کی نلکی کے سہارے سانس لینے والی اس ائیرلائن کو نجی شعبے کے حوالے کرو! ورنہ جھاڑ پھونک کرنے والے کو بلاؤ!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *