ماہر اور شاطر کھلاڑیوں سے ناتجربہ کار ہار گئے ۔۔حفیظ نعمانی

لکھنؤ کارپوریشن بننے کے بعد پہلا الیکشن 1958 ء میں ہوا تھا اس کے بعد جو اس زمانہ میں حکومت کا مزاج تھا کہ بلدیاتی انتخابات کو کسی نہ کسی بہانے ٹالو الیکشن ٹلتے رہے آخرکار عدالت کو مداخلت کرنا پڑی اور 1968 ء میں کارپوریشن کے الیکشن کا اعلان کیا گیا۔ آج جیسی تکلیف ہمارے کرم فرما وقار رضوی مہدی کو مولوی گنج حلقہ سے بی جے پی کے امیدوار کی کامیابی سے ہوئی ہے ایسی ہی تکلیف ہمیں 1958 ء میں مولوی گنج اور امین آباد سے مشترکہ حلقہ دونوں جیتنے والوں سے ہوئی تھی کہ دونوں مسلمان اُمیدوار ہار گئے تھے۔ امین آباد اور مولوی گنج کے مسلمانوں میں ماتم تو خوب ہوا مگر دس برس گذرتے گذرتے سب بھول گئے۔ پروردگار کا احسان ہے کہ ہم کینہ پرور کہیں سے کہیں تک نہیں ہیں لیکن 1958 ء کا وہ زخم ایسا تھا کہ اس کی چبھن محسوس ہوتی رہتی تھی۔
تنویر پریس ہمارے پاس تھا ہم نے اپنے دوست سرفراز علی خاں، حسن احمد صدیقی، شیخ اصغر علی، محمد سبحان، خلیق احمد اور جلیس میاں کے نام سے تین پوسٹر تیار کیے اور صرف پچاس پچاس کاغذ انتہائی خوبصورت کتابت کراکے چھاپے جس کا مضمون تھا انتخاب۔ اور حسن ِ انتخاب سرفراز اور حسن احمد اور اپیل کہ مولوی گنج اور امین آباد کے حلقہ سے آپ کی خدمت اور حلقوں کی ترقی کے لئے آپ کے تعاون کے اُمیدوار وغیرہ وغیرہ ہر پوسٹر میں دو نام اس طرح پوری رازداری سے کہ صرف ان چھ دوستوں کے علاوہ کوئی نہ جان سکا کہ یہ کوئی سازش ہے۔ یہ معلوم تھا کہ کانگریس ایک ہندو اور ایک مسلمان شاہد رضوی کو ٹکٹ دے گی اور یہ بھی خبر تھی کہ اعزاز رضوی ایڈوو کیٹ لڑنا چاہ رہے ہیں۔
ان پوسٹروں کا نتیجہ یہ ہوا کہ کسی مسلمان نے نامزدگی نہیں کرائی اور جب آخری دن ہوگیا تو ہم ضلع کچہری گئے اور اعزاز رضوی سے معلوم کیا کہ نامزدگی کرائی یا نہیں؟ کہنے لگے کہ اتنی بھیڑ میں ذلیل ہونے سے کیا فائدہ ۔۔تب ہم نے بتایا کہ صرف آپ کے لئے ہم نے یہ کھیل کھیلا تھا، آپ جاکر معلوم تو کیجئے کہ اس حلقہ سے کتنے مسلمانوں نے نامزدگی کرائی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف دو مسلمان رہ گئے اور آرام سے دونوں جیت گئے۔ یہ چھوٹی سی شرارت صرف ایک آدمی کا کھیل تھا۔ وقار صاحب نے اتحاد کو ہی واحد علاج بتایا ہے بیشک اتحاد ہر مسئلہ کا حل ہے لیکن یہ ایسی دوا ہے جس سے مسلمان کو نفرت ہوگئی ہے ہر آدمی اتحاد چاہتا ہے لیکن اس کی شرط یہ ہوتی ہے کہ جو میں کہوں وہ مانو جبکہ اتحاد کی پہلی شرط اطاعت ہے۔ ’’اطیعو اللّٰہ و اطیعوالرسولؐ و او الامر من کم‘‘ اللہ کی اطاعت کرو رسول اکرمؐ کی اطاعت کرو اور اس کی جو تمہارا امیر ہو بات امیر پر آکر رُک جاتی ہے۔
جب مولانا سید ارشد مدنی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند ہوں مولانا سید کلب صادق ہوں اور راشٹریہ علماء کونسل کے عامر رشادی بھی امیر ہونے کا دعویٰ کریں تو؟۔ اتحاد کی افادیت سے کون انکار کرسکتا ہے لیکن منصوبہ بندی اور تجربہ بھی ضروری ہے۔ گجرات میں کانگریس تو نام کے لئے تھی اس کے وجود اور طاقت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ صرف راجیہ سبھا کی ایک سیٹ بچانے کے لئے اس کے پاس ممبر موجود تھے مگر کانگریس کی کمزوری سے اتنا ڈرے ہوئے تھے کہ گیارہ گیارہ کروڑ میں ہاتھیوں کی طرح بک رہے تھے اور انہیں امت شاہ سے بچانے کے لئے احمد پٹیل کرناٹک میں ایک وزیر کے گھر لے گئے اور ووٹنگ کے دن ان کو لائے اب کانگریس کو طاقت ملی ہاردِک پٹیل اور دوسرے دو نوجوان لیڈروں سے ان میں اتحاد تو تھا جوش بھی بہت تھا مگر منصوبہ بندی اور تجربہ نہیں تھا۔
الیکشن لڑانا ایک فن ہے اور اس میں سب سے اہم کام ووٹ ڈلوانا ہے جو انتہائی خشک کام ہے۔ جلسے کرنا جوش میں بھری تقریریں کرنا اور نعرے لگوانا یہ تو دلچسپی کی باتیں ہیں اور اس سے ماحول بنتا ہے۔ کانگریس کے پاس مضبوط تنظیم نہیں ہے پانچ سال میں شاید پانچ بار بھی سونیا گاندھی اور راہل گجرات نہیں گئے جبکہ مودی جی آئے دن کسی نہ کسی بہانے گجرات جاتے ہیں اور 12 سال وزیر اعلیٰ رہ کر صرف تین سال پہلے دہلی گئے ہیں۔ راہل گاندھی کو جتنی سیٹیں بھی ملی ہیں وہ ان لوگوں نے دلائی ہیں جو مودی جی سے ناراض ہیں۔ اگر وہ تجربہ کار ہوتے اور انہوں نے دو چار الیکشن لڑائے ہوتے تو اس بار وہ حکومت بنا سکتے تھے۔
14 دسمبر کے بعد ہاردِک پٹیل نے اے وی ایم پر شک ظاہر کرنا شروع کردیا تھا جس سے اندازہ ہونے لگا تھا کہ انہیں یہ محسوس ہوگیا تھا کہ وہ اپنے سارے ووٹ پول نہیں کراسکے۔ ہمیں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کانگریسی بھی گجرات میں الیکشن ہارتے ہارتے ہمت بھی ہار چکے ہیں اور جو نیا خون ان کے ساتھ آیا وہ ناتجربہ کار تھا لکھنؤ میں وہ لوگ ابھی موجود ہیں جنہوں نے دیکھا تھا کہ ہم نے اکیلے دم پر 1969 ء میں امتیاز حسین کا الیکشن لڑایا تھا کائونٹنگ کی صبح کو بڑے بھائی صاحب آئے اور دریافت کیا کہ میاں جا تو رہے ہو اندازہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا تھا کہ الیکشن بہت ہی کانٹے کا ہوا ہے شاید ڈھائی تین سو سے ہار جیت ہوگی۔ اور امتیاز صرف 315 ووٹوں سے جیتے تھے بابو ترلوکی سنگھ سے ان کے پولنگ ایجنٹ وکیل نے دریافت کیا کہ کیا دوبارہ گنتی کرالی جائے بابوجی نے انکار کردیا وہ جانتے تھے کہ دوبارہ گنتی میں ہار کا ووٹ کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتا ہے۔ اگر الیکشن پر پکڑ نہیں ہے تو پھر الزام کا ہی سہارا لیا جاتا ہے۔
بشکریہ مضامین!

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *