پیالی میں طوفان (19) ۔ پودا/وہاراامباکر

“نیچے” کی سمت کا کیا مطلب ہے؟ یہ وہ سمت ہے جہاں پر اشیا گرتی ہیں اور یہ بات تو پودوں کو بھی پتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

دنیا میں اگنے والے ہر پودے کی جڑ زمین کے مرکز کی طرف کی طرف بڑھتی ہے اور تنا اس کے بالکل مخالف سمت کی طرف نکلتا ہے۔ ان دونوں کا ماخذ بیج ہے اور بیج کسی بھی سمت میں بویا جائے، اس سے پھوٹنے والی جڑ اور تنا ہمیشہ صحیح سمت کو جائیں گے۔ لیکن یہ ہوتا کیسے ہے؟
بیج میں چھپی یہ عقلمندی گریویٹی کو پہچان لینے کی ہے اور اس کے پیچھے فزکس ہے۔
آپ نے کھیلنے کے لئے اس طرح کے سنوگلوب دیکھے ہوں گے جس طرح کا تصویر میں لگا ہے۔ اسے ہلایا اور اس میں ہر طرف ذرات بکھر گئے۔ آہستہ آہستہ یہ نیچے کی طرف کو بیٹھ جاتے ہیں۔ ان کا سائز چھوٹا ہے اس لئے گریویٹی کا مقابلہ زیادہ دیر تک کر لیتے ہیں لیکن ان ذرات کی ڈینسیٹی باقی فلوئیڈ سے زیادہ ہے تو ان کی ایکویلیبرئیم کی حالت یہی ہے کہ یہ بالآخر نیچے بیٹھ جائیں۔ بیج میں بھی اسی طرز کی سنوگلوبز لگی ہیں۔
بیج کے درمیان میں خاص قسم کےخلیے ہیں۔ ان کو سٹیٹوسائیٹس کہا جاتا ہے۔ یہ خلیے وہ ننھی منی سی سنو گلوبز ہیں۔ ان میں سے ہر خلیے کے بیچ میں ایک خاص سٹارچ کے دانے ہیں۔ ان دانوں کی کثافت باقی خلیے سے زیادہ ہے۔ گریوٹی کی وجہ سے یہ نیچے کی سمت کو کھسک جاتے ہیں، ویسے ہی جیسے کھلونا سنوگلوب کے ذرات۔ جس بھی سمت میں بیج ہو، ان کی اپنی جگہ خلیے میں نیچے کی طرف ہو گی۔ بیج میں پائے جانے والے پروٹین کے نیٹورک ان کی پوزیشن کو محسوس کر لیتے ہیں اور نکلنے والی جڑ اور شوٹ اس کے مطابق راستہ لیتے ہیں۔
یقین نہیں تو کئی بیج لے کر مختلف سمتوں میں بوئیں اور کچھ روز کے بعد نکلنے والی جڑ کی سمت چیک کر کے دیکھ لیں۔ ہر بیج سے اگنے والا پودا ٹھیک سمت میں ہی بڑھے گا کیونکہ پودا یہ معمہ حل کر سکتا ہے۔
(جاری ہے)

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply