مجوّزہ تحفظِ والدین قانون: ایک تنقیدی جائزہ (1)-محمد مشتاق

سینیٹ آف پاکستان میں اس وقت ایک قانون کا مسودہ زیرِ غور ہے جسے قومی اسمبلی پہلے ہی منظور کرچکی ہے اور سینیٹ سے منظوری کے بعد اسے صدر کے دستخطوں کےلیے بھیجا جائے گا اور پھر اسے قانون کی حیثیت حاصل ہوجائے گی۔ اس قانون کو “تحفظِ والدین” کا عنوان دیا گیا ہے جو بظاہر بہت خوش نما ہے۔ مسودے کے ساتھ منسلک”اسباب” میں والدین کے احترام کے متعلق آیات و احادیث کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ تاہم مسودے کا جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تیاری میں کچھ خاص محنت نہیں کی گئی ہے اور نہ صرف یہ کہ منظوری کی صورت میں یہ قانون والدین کے تحفظ میں ناکام رہے گا، بلکہ اس سے کئی نئے گمبھیر مسائل بھی پیدا ہوں گے۔ اس قانون کا سارا زور اس بات پر ہے کہ والد/والدہ کسی بچے/بچی کو یا اس کی بیوی/شوہر کو یا اس کی اولاد (پوتے/پوتی یا نواسے/نواسی) کو گھر سے بے دخل کرسکیں گے۔ کیا والدین کا تحفظ یقینی بنانے کا یہی طریقہ ہمارے قانون سازوں کو سوجھا تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسودہ ایک غلط سوال کا غلط جواب ہے۔ چند نکات یہاں پیشِ خدمت ہیں۔

بچے سے مراد؟ 
اس بل میں سب سے اہم شق تعریفات کے متعلق دفعہ 2 ہے جس میں خصوصاً دفعہ 2 (سی) قابلِ غور ہے جس میں “child” کی تعریف دی گئی ہے۔ اس تعریف کی رو سے child کی تعریف میں دو طرح کے افراد شامل ہیں:
ایک کسی شخص کی براہِ راست اولاد (direct descendant)، یعنی بیٹے/بیٹیاں؛ اور
دوسرےان بیٹوں/بیٹیوں کا کوئی بچہ(offspring)، “خواہ کسی عمر کا ہو”(of any age)۔
یہ تعریف یاد رکھنے کی ہے کیونکہ یہ آگے مختلف دفعات کا مفہوم اور ان کے اثرات سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

 گھر سے بے دخلی کا حق
مثلاً بل کی دفعہ 4 (1) میں کہا گیا ہے کہ والد/والدہ کو یہ اختیار ہے کہ وہ کسی child، یا اس کے spouse (بیوی/شوہر) یا اس کے کسی offspring (بچے) کو گھر سے نکال سکتا/سکتی ہے۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس قانون کی رو سے کسی نابالغ پوتے/پوتی یا نواسے/نواسی کو بھی گھر سے نکالا جاسکتا ہے۔ اس پہلو پر خصوصاً تنقید ہونی چاہیے۔
اس پہلو سے یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ “گھریلو تشدد کے خلاف تحفظ کے قانون” کی رو سے خواتین اور نابالغ بچوں کو جس طرح کا تحفظ فراہم کیا گیا ہے، اس کے بعد اسے گھر سے کیسے نکالا جاسکے گا؟ کیا یہ اقدام “گھریلو تشدد” میں شمار نہیں ہوگا؟ اس ضمن میں مثال کے طور پر تقابل کیجیے گھریلو تشدد کے خلاف پنجاب کے قانون 2016ء کی دفعہ 2 (1) (اے) (ای) (ایچ) (جے) (این) (آر)؛ اور دفعہ 5۔

کس گھر سے بے دخل کیا جاسکے گا؟
اس بل کی دفعہ 4 (1) میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ والد/والدہ کو جو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بچے یا اس کے بچے یا بیوی کو گھر سے نکال سکتا/سکتی ہے، تو یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ گھر اس والد/والدہ کی ملکیت میں ہو، بلکہ چاہے اس والد/والدہ نے یہ گھر کرایے پر لیا ہو، یا کسی بھی اور طریقے سے اس کے قبضے میں ہو (in his possession by any means)۔
دفعہ 4 کی اس ذیلی دفعہ (1) کا تضاد اسی دفعہ کی ذیلی دفعہ (7) کے ساتھ ہے کیونکہ وہاں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر والدین میں کوئی ایک کسی کو گھر سے نکال رہا ہو، تو ضروری ہے کہ گھر تنہا اسی کی ملکیت میں ہو، اور یہ کہ اگر گھر والدین میں دونوں کی مشترک ملکیت میں ہو، تو کسی بچے کو نکالنے کےلیے نوٹس پر والدین میں دونوں کے دستخط ہونے ضروری ہیں۔
یہ تضاد بھی اہم ہے، لیکن اس تضاد کو فی الحال نظر انداز کرکے اس سوال پر غور کیجیےکہ اگر گھر کسی بچے یا بچے کی بیوی کی ملکیت میں ہو، لیکن اس کا کوئی کمرہ والد/والدہ کے قبضے میں ہو، تو اس صورت میں بھی اس دفعہ کی رو سے اس والد/والدہ کو حق حاصل ہوگا کہ وہ بچے یا اس کی بیوی کو، جس کے پاس اصل میں گھر کی ملکیت ہے، اسی کے گھر سے نکال سکے۔ اس حق کے بارے میں بہت سی جذباتی باتیں کی جاسکتی ہیں، لیکن اس کے نتائج پر شاید کسی نے غور نہیں کیا۔نیز مکرر عرض ہے کہ اس پہلو سے یہ قانون گھریلو تشدد کے خلاف تحفظ کے قانون سے متصادم ہوگا۔

نا بالغ بچے کو مجرم قرار دیا جاسکتا ہے؟
اس بل کی دفعہ 4 (2) میں کہا گیا ہے کہ والد/والدہ نے جسے گھر سے نکلنے کا نوٹس دیا، وہ اگر سات دنوں کے اندر گھر سے نہیں نکلا، تو وہ ایسے جرم کا مرتکب ہوگا جس پر تیس دن تک قیدِ سادہ یا پچاس ہزار روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔ یہاں تصریح کی گئی ہے کہ offspring، یعنی پوتے/پوتی یا نواسے/نواسی کو بھی اس جرم کا مرتکب قرار دیا جائے گا(“guilty of an offence”)۔ یاد کیجیے کہ تعریفات کی شق میں کہا گیا ہے کہ offspring کسی بھی عمر کا ہوسکتا ہے۔ تو کیا کسی نابالغ بچے/بچی کو مجرم قرار دیا جاسکتا ہے؟یہ تو فوجداری قانون کے بنیادی اصول سے ہی متصادم بات ہوگئی۔ مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 82 کا کہنا ہے کہ 10 سال سے کم عمر کے بچے کے فعل کو جرم نہیں کہا جاسکتا۔ اسی طرح مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ83 کا کہنا ہے کہ اگر بچے کی عمر 10 اور 14 سال کے درمیان ہو، لیکن وہ برے بھلے کی تمییز نہ رکھتا ہو، تو اس کے فعل کو جرم نہیں کہا جاسکتا۔ رسول اللہ ﷺ کی حدیثِ مبارک ہے کہ بچہ جب تک بالغ نہ ہوجائے، اس پر سے شرعی ذمہ داری اٹھائی گئی ہے۔ (رُفِع القلمُ عن ثلاث۔۔۔ عن الصبیّ حتی یَحتَلِمَ)

Advertisements
julia rana solicitors

18 سال سے کم عمر کی بہو یا داماد؟
اس بل کی دفعہ 4 (3) میں بچے کو بے دخلی کے نوٹس دینے کے متعلق ضوابط بتائے گئے ہیں۔ ان میں پہلی قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ بچے کے spouse، یعنی والد/والدہ کی بہو یا داماد ، اور اسی طرح بچے کے offspring یعنی والد/والدہ کے پوتے/پوتی یا نواسے/نواسی کی عمر اگر 18 سال سے کم ہو، تو اس صورت میں بچے کو نوٹس دے کر یہ سمجھا جائے گا کہ اس بہو/داماد یا پوتے/پوتی، نواسے/نواسی کو نوٹس دیا جاچکا۔ پوتے/پوتی یا نواسے/نواسی کی عمر 18 سال سے کم ہو، تو قابلِ فہم ہے، لیکن کیا بہو یا داماد کی عمر 18 سال سے کم ہوسکتی ہے؟ صغر سنی کی شادی کے امتناع کے متعلق پاکستان میں رائج قانون کی رو سے طے پایا ہے کہ شادی کے وقت لڑکے کی عمر 18 سال سے اور لڑکی کی عمر 16 سال سے کم ہو، تو یہ قابلِ سزا جرم ہے۔ واضح رہے کہ سندھ میں پہلے ہی قانون کے ذریعے عمر کی حد کو مرد اور عورت دونوں کےلیے 18 سال کردیا گیا ہے۔ اس عمر سے قبل کی شادی کو قابلِ سزا جرم تو قرار دیا گیا ہے لیکن کیا ایسی شادی بھی غیر قانونی ہوگی؟ اس سوال پر سپریم کورٹ 1970ء میں نفی میں فیصلہ دے چکی ہے (مسماۃ بخشی بنام بشیر احمد) لیکن پچھلے سال 2022ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے ایک فیصلے میں سرے سے اس شادی کو ہی غیر قانونی قرار دیا تھا (مسماۃ ممتاز بی بی بنام قاسم و دیگر، رٹ درخواست نمبر 4227 آف 2021ء)۔
اب قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس نئے بل کے ذریعے نہ صرف 18 سال سے قبل کی شادی کے امکان کو تسلیم کیا گیا ہے، بلکہ سسر/ساس کا یہ حق بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ اس عمر کی بہو/داماد کو وہ گھر سے بے دخل بھی کرسکتا/سکتی ہے۔ اسی طرح offspring کی تعریف میں بتایا گیا ہے کہ وہ کسی بھی عمر کا ہوسکتا /سکتی ہے۔ تو کیا، مثلاً، 10 سال کی عمر کے پوتے/پوتی یا نواسے/نواسی کو بھی بے دخل کیا جاسکے گا؟ یہاں پھر احساس ہوتا ہے کہ موجودہ بل کا مسودہ بناتے وقت دیگر قوانین کے ساتھ اس کے تعلق پر مناسب غور نہیں کیا گیا۔
جاری

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply