دوسرا رُخ۔روبینہ فیصل

SHOPPING

جب بھی میں لاہور ائیر پورٹ  پر اترتی ہوں سوچتی ہوں میں یہاں کیوں آئی؟ شایدسچ اور سکون ہم پاکستانیوں کو راس نہیں اس لئے۔۔
آج کل میں ملنے والی بے شمار ای میلز میں سے ایک ای میل نے مجھے جکڑ  سا لیا تو سوچا، اسے اپنے اندر سے باہر نکالوں،جو چیز تنگ کرے اسے دوسروں کے ساتھ شئیر کر نا بھی ایک طرح کا خود کا علاج ہو تا ہے۔۔آج کل نفسیات کی کتابوں کو بھی چاٹ رہی ہوں نا ۔۔۔
بہرحال ثاقب نامی لڑکے کی ای میل حاضر ہے:
“میڈم آپ کا کالم جونکیں پڑھا۔۔۔لورین ایک لڑکی ہے، اس کے ساتھ دھوکہ ہوا اور آپ نے ا س پرپو را کالم بلکہ نظمیں بھی لکھ ماریں۔ لیکن کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ جن جونکوں کا ذکر آپ نے اپنے کالم میں مردوں کے حوالے سے کیا ہے، وہ عورتیں بھی ہو سکتی ہیں؟ آپ کی آنکھوں پر بھی عورت کے تعصب کی پٹی بندھی ہو ئی ہے۔ آج کل زمانہ اور ہی چال چل رہا ہے۔ پاکستان میں آکر رہیں تو اندازہ ہو گا کہ آج کل عورتیں اپنی ضرورتیں کس طرح پو ری کر رہی ہیں؟جس عزت ِ نفس اور سچی محبت کا ڈھنڈورا آپ اپنے کالموں میں پیٹتی ہیں، ہمیں بھی دکھائیں کہاں ہے ایسی عورتیں؟ میڈیم کسی عورت کو سچی محبت نہیں چاہیے۔ ایک پولیس آفیسر (آ پ نے اپنے کالم میں پو لیس کے محکمے کا ذکر کیا تھا نا) اگر چار چار خفیہ شادیاں کر تا ہے، یا ایسی سودے بازیاں کر تے ہیں تو کیا آپ کا خیال ہے وہ عورتیں معصوم ہیں جو ایسا کر تی ہیں۔ کیا عہدے دار کی بیوی (چاہے سیکرٹ) ہی کیوں نہ ہو، بننا، ان کی اپنی چوائس نہیں ہو تی؟ آپ چونکہ ایک عورت ہیں اور بالکل روایتی انداز میں ایک عورت کو ہی مظلوم دکھائیں گی مگر کیا آپ یہ جانتی ہیں کہ مظلومیت کا یہ طوق عورت کا اپنا انتخاب ہے، اگر اچھا نکل آئے تو عیش کرو، نہ نکلے تو مظلوم بن کر ہمدردیاں کماؤ۔۔یعنی دونوں طرف سے بازی ان کے ہاتھ۔۔

ذرا مجھے بتائیں شہباز شریف جیسے بڈھے کھوسٹ شادی شدہ مرد سے جوان اور حسین عورتیں سچے پیار کے لئے شادی کر رہی ہیں؟ اگر شہباز شریف خرید رہا ہے تو بکنے والیوں کو دھوکہ دے کر نہیں بلکہ ان کی مرضی سے۔ بتائیے ایک عام سی نوکر ی کر نے والے پچاس سال کے بوڑھے بے ڈھنگے نفسیاتی کو یا ریڑھی چلانے والے ہینڈ سم جوان کو دوسری شادی کے لئے کوئی عورت اتنی آسانی سے مل جائے جتنی ان امیر کبیر بڈھے حکمرانوں کو پلیٹ میں رکھ کر مل رہی ہیں؟کیا یہ عورتیں سچی محبت چاہتی ہیں؟ عزت نفس کس چڑیا کا نام ہے ان کے فرشتوں کو بھی نہیں پتہ؟ آ پ کی مس لورین یقیناً  سچی ہو گی، کیونکہ وہ ایک پر سکون ماحول میں رہ رہی ہے۔مگر جہاں میں رہ رہا ہوں، محترمہ، یہاں اتنی نفسا نفسی اور خر ید و فر و خت کا رواج ہے کہ اچھا ئی اور برائی کا فرق مٹ چکا ہے اگر کبھی تھا بھی۔میں نے تو اپنی ہوش میں نہیں دیکھا۔

یہاں گوشت کا کاروبار عروج پر ہے ایک ضرورت مند اپنی ضرورت پو ری کر نے کو خریدتا ہے اور دوسرا اپنی ضرورت پو ری کر نے کے لئے خوشی خوشی بکتا ہے۔۔ یہاں کے لوگوں کو آپ عزت نفس کا سبق پڑھا رہی ہیں۔؟”آواز “کی ویب سائٹ پر آپ کے باقی کالم پڑھے تو لیڈی ڈیانا کی بر سی پر لکھا گیا کالم بھی، آپ کی مخصوص سوچ کا آئینہ دار نکلا، جس میں آپ نے شہزادی کی محل اور شہزادی کے سٹیٹس کی خاطر سچی محبت پر کمپرومائز نہ کرنے کی مثال پیش کی ہے۔ مت بھولیے  وہ ایک منفرد عورت جسے شاید  اسی لئے خدا نے اتنی شہرت اور عزت سے نواز رکھا تھا۔مگر اصل زندگی میں کوئی بھی عورت شہزادی کی طرح سچے پیار کے لئے کھلم کھلا محل نہیں ٹھکراتی بلکہ خفیہ دروازے کھولتی ہیں۔محل ہاتھ سے نہ جائے، شہزادہ چاہے اسے پیار کرے یا نہ کرے۔۔۔

روبینہ میڈم!میں نے نفسیات، کتابوں میں اور غربت گلیوں میں پڑھی ہے۔باہر بیٹھ کر آپ لوگوں کو عقل سمجھ کی بات کر نا چاہیے۔ عورتوں کی مظلومیت کاڈرامہ بہت ہو گیا۔گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔۔۔آج کل امیر کبیر عورتیں بھی اپنی  lustکے لئے غریب خوبصورت جوانوں کو خر ید رہی ہیں۔ پہلے امیربزنس مین یا اعلی سرکاری عہدے دار بڈھوں کو پھانستی ہیں،ان سے پیسے اورہائی سٹیٹس کی ضرورت پو ری کر تی ہیں اور جب ایک دفعہ پاؤں جما لیتی ہیں تو پھر اسی پیسے سے اپنی جسمانی ضرورت کو پورا کر نے کے لئے جوان لڑکوں کو خریدتی ہیں اور ایسا کرتے ہو ئے ان کے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔ آج کل خوشی کا دوسرا نام بے ضمیری ہے۔

تو بتائیے؟ کیا مرد ہی صرف دھوکہ باز ہے؟۔ میری گذارش ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیے، جو زیادہ بھیانک ہے۔ آپ کے الفاظ میں طاقت ہے۔ اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کریں۔۔۔ہم پر بھی رحم کھائیں۔ ”
ای میل بہت طویل تھی، ایک دو قصے بھی شامل تھے۔ لکھنے والے کا انداز پاکستان سے آنے والی دوسر ی ای میلز کے برعکس بہت گہرا اور با معنی تھا نہ تو اختلاف رائے پر گالم گلوچ تھی، اور نہ اتفاق رائے پر شدید پیار کا اظہار۔ بہت عرصے بعد ایک متوازن ای میل دیکھی جس میں میرے لئے انکشافات کے ساتھ ساتھ سیکھنے کوبھی بہت کچھ تھا۔

انہی دنوں ثاقب کی سچائی کے ثبوت کے طور پر مجھے دو ایسے ایک دوسرے سے مشابہہ واقعات سننے کو ملے جن سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے،خوف ہوا کہ اگر یہ سلسلہ پھیلنے لگ گیا تو گھر کی اکائی کا کیا ہو گا ؟
پہلا قصہ: ایک پاکستان میں ہی رہنے والی اعلی عہدے دار امیر کبیر خاتون، جوان بچیوں کی ماں، مگر پہلے شوہر سے طلاق لے کر اپنے سے بیس سال چھوٹے لڑکے سے شادی کر لی، جس کی میں نے تصویر دیکھی تو مجھے سمجھ آگئی کہ اگر پاکستان میں چائے والا راتوں رات عورتوں کے دلوں کی دھڑکن بن سکتا ہے تو ایسے زیرو مینٹل لیول والے جوان، دولت مند خواتین کے شوہر کیوں نہیں۔۔

دوسرا قصہ: امریکہ کا شریف النفس، اعلی تعلیم یافتہ ،صاحب ِ جائیداد،اچھی خاصی شادی شدہ، بچوں والی زندگی گذارتا ہوا،مگر تب تک جب تک بیوی صاحبہ کی نظر لاہو ر والے گھر میں ملازمت کر تے ہو ئے “خوبرو “پر نہیں پڑ گئی۔۔۔اس پر لٹو ہو تے ہی خاتون ِ خانہ نے طلاق کا مطالبہ کیا اور، اپنے سے انیس سالہ چھوٹے لڑ کے سے شادی رچاتے بچوں کا بھی نہ سوچا۔۔

SHOPPING

ای میل والے لڑکے کی تنقید بجا تھی کہ lustاب صرف دولت مند بے وفا مردوں تک ہی محدود نہیں رہ گئی، دولت مند بے وفا عورتیں بھی اس کھیل میں شامل ہو چکی ہیں۔اورجسم صرف عورتیں ہی نہیں مرد بھی بیچ رہے ہیں۔
میں لاہو ر میں دیکھ سکتی ہوں کہ ضرورت کی خرید و فروخت جسے کبھی “پکی شادی”، کبھی “کچی شادی “جیسے نام دے کر اس میں شامل ہو کر مرد اور عورت جس دوزخ کو خر ید رہے ہیں،اس کے مکمل ذمہ دار وہ دونوں خود ہیں ۔ پہلے طاقت ور مرد اپنی کسی نہ کسی ضرورت کے تحت کسی کی مجبوری خریدتا ہے۔پھر وہ “بکنے والی” جب خریدنے کی پوزیشن میں آتی ہے تو وہ بالکل وہی عمل دہراتی ہے۔جب سچے رشتے بوئے ہی نہیں جا رہے تو کاٹے کیسے جائیں گے؟۔قابل ِ تشویش بات یہ ہے کہ لڑکیوں کے گھر  والے بھی اب اس خفیہ ڈیل پر برضا و راضی آنکھیں بند کیے پڑے ہیں۔

SHOPPING

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *