• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کشمیر کی غلامی اور پاکستان کا بحران(مسئلے دو ،وجہ ایک)حصّہ اوّل-نذر حافی

کشمیر کی غلامی اور پاکستان کا بحران(مسئلے دو ،وجہ ایک)حصّہ اوّل-نذر حافی

چند سال پہلے کی بات ہے۔ ایک کانفرنس میں ملّتِ کشمیر کی ذہانت و فطانت پر مجھے ایک مقالہ پڑھنے کا موقع ملا۔ کانفرنس ہال میں ہمارے کچھ اساتذہ بھی موجود تھے۔ ان میں سے ایک بڑے نامور اور گرامی القدر استاد نے کانفرنس کے بعد جہاں میری بہت حوصلہ افزائی کی، وہیں مسکراتے ہوئے میرے کان میں یہ سرگوشی بھی کی کہ اتنی ذہین قوم کی گردن میں غلامی کا طوق کیوں ہے۔؟ میں نے برجستہ کہا کہ اُستاد فقط ذہین ہونا کافی نہیں ہے بلکہ ذہانت کو استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔اُستاد بھی بڑے کمال کے آدمی تھے، فوراً بولے کہ پھر آپ بھی فقط کشمیریوں کے ذہین اور محنتی ہونے پر مقالے نہ پڑھیں، بلکہ وہ مسئلہ ڈھونڈیں جس نے ان کی ذہانت کو زنگ آلود کر دیا ہے۔ بات دماغ سے گزری اور دل میں اتر گئی! دماغ نے کہا تحقیق ہمیشہ مسئلہ محور ہوتی ہے۔ ہمیں کشمیر کے مسئلے کی درست شناخت ہونی چاہیئے۔ آخر ایسی کیا شئے ہے کہ جس نے کشمیریوں کی ذہانت اور عقلمندی کے باوجود اُن کی ساری تدبیریں ناکام بنا دی ہیں۔

مسئلہ کشمیر پر نگاہ رکھنے والی متعدد شخصیات سے انٹرویوز لینے اور مسلسل مطالعات کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ بعض مسائل ایک ناسور کی مانند ہوتے ہیں، جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنی شکل تبدیل کرتے اور بڑھتے رہتے ہیں اور انہی مسائل میں سے ایک مسئلہ “مسئلہ کشمیر” بھی ہے۔ اس وقت یہ مسئلہ صرف پاکستان و ہند کے درمیان ایک سرحدی تنازعہ نہیں ہے، بلکہ بات اس سے کافی آگے جا چکی ہے۔ چین بھی اس مسئلے کا ایک طاقتور مگر انتہائی خاموش اور عقلمند فریق ہے۔ چاہنے والے یہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کو ایک روٹی کی طرح آپس میں تقسیم کر لیا جائے۔ ایسا کرنے میں اقوامِ متحدہ کی قراردادیں آڑے آتی ہیں۔ اگرچہ ان قراردادوں کا بظاہر کوئی فائدہ نظر نہیں آتا، لیکن حقیقتِ حال یہ ہے کہ دنیا میں قانونی طور پر انہی قراردادوں نے ہی اس مسئلے کو آج تک زندہ رکھا ہوا ہے۔ چنانچہ اپنی کمزور گرفت کے باعث جہاں اقوامِ متحدہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہے، وہیں کشمیر کو روٹی کی طرح تقسیم کرنے کا خواب دیکھنے والے بھی خوفزدہ ہیں۔

بہر حال یہ سوال بہت اہم ہے کہ ایسی محنتی، لائق اور شاندار تہذیب و تمدّن کی حامل قوم کی گردن میں غلامی کا طوق کیوں ہے؟ علامہ اقبال کی بات تو سچ ہے کہ “غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں” لیکن سوال یہی ہے کہ یہ ذہین و فطین قوم کیوں کر غلام بنی۔؟ بہر حال کسی بھی قوم کی عزّت کو خاک میں ملانے کیلئے ایک بیوقوف ہی کافی ہوتا ہے۔ آج ہمیں اُسی بیوقوف کو ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ کشمیر کی تاریخ اور تمدّن کے بارے میں جانتے ہیں، انہیں بخوبی معلوم ہے کہ مغلوں کے حملے سے پہلے کشمیر کبھی بھی مذہبی تناو اور دینی فسادات کی لپیٹ میں نہیں آیا تھا۔ حتّی کہ کشمیر میں اسلام کا ظہور بھی مکمل صلح آمیز، تہذیبی مکالمے اور تمدّنی مذاکرے کا مرہونِ منّت ہے۔ جو لوگ کشمیر کے پہلے مسلمان ہونے والے بادشاہ رِنچَن شاه کے بارے میں جانتے ہیں، وہی اس کی تصدیق بھی کر پائیں گے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ کشمیر میں اسلام کی ترویج خراسان کے ایک عظیم مبلغ سید شرف الدین موسوی المعروف بلبل شاہ نے شروع کی۔ وہ رنچن شاہ کے دور حکومت میں ۷۲۴ قمری بمطابق ۱۳۲۴ عیسوی میں تبلیغِ اسلام کی غرض سے کشمیر آئے۔ رنچن آبائی طور پر بدھ مت تھا۔ ایک بادشاہ ہونے کے ناطے وہ تحقیق و جستجو کا خوگر تھا۔ اس لیے وہ ہندوستان کے مختلف مذاہب اور فرقوں کے ماننے والوں کو اپنے دربار میں علمی مکالمے و مباحثے اور مناظرےکی دعوت دیا کرتا تھا۔ مذہبی مناظروں کیلئے بلبل شاہ نے بھی بادشاہ کے دربار میں آنا جانا شروع کیا۔بادشاہ اُن کی معقول گفتگو اور منطقی دلائل سے انتہائی مرعوب ہوا۔ اُس نے بُلبل شاہ کے تصوّر روحانیت کو بھی دوسروں سے زیادہ موثر اور جامع پایا۔ وہ اتنا متاثر ہوا کہ مسلمان ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ جب ریاست کا بادشاہ مسلمان ہوا تو لوگوں نے بھی جوق در جوق مسلمان ہونا شروع کر دیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ بلبل شاہ نے ہندو سماج کی ذات پات کے مقابلے میں پہلی بار کشمیر کے اندر انسانی مساوات کے کلچر کو متعارف کرایا۔ بعد ازاں اسی طرح مبلغین ِاسلام کشمیر جاتے رہے اور کشمیر میں اسلام بغیر کسی تعصّب کے پھلتا پھولتا رہا۔ اسلام کے آنے کے بعد ایک سماجی ارتقاء کے طور پر کشمیری تہذیب نے بہت ترقی کی اور سلطان زین العابدین بڈشاہ (عظیم بادشاہ) جیسے افراد کو اپنی آغوش میں پروان چڑھایا۔ متعدد کشمیری خاندان اسی مسالمت اور ارتقاع کے طور پر برسرِ اقتدار آتے رہے۔ اسی طرح ۱۵۶۱ء میں چک خاندان بھی بغیر کسی مذہبی یا مسلکی کارڈ کے برسرِ اقتدار آیا اور اُس نے ۱۵۸۶ء تک کشمیر پر حکومت کی۔ چک خاندان کا جدِّ اعلیٰ ” کاجی چک” ۹۲۷ھ، ۹۲۸ھ اور ۹۲۹ ھ میں مغلوں کو تین بڑی شکستیں دے چکا تھا۔ یہ چک خاندان کا پہلا فرد تھا، جو ۹۲۴ ھ میں کشمیر کے وزیراعظم کے منصب تک پہنچا تھا اور بعد ازاں رفتہ رفتہ ۹۶۲ ھ میں سارے کشمیر پر چک خاندان کی حکومت قائم ہوگئی۔

اب مغلوں کی ساری توجہ کشمیر پر تھی۔ انہیں یہ تجربہ ہوگیا تھا کہ چک خاندان کے ہوتے ہوئے کشمیر ناقابلِ تسخیر ہے۔ چنانچہ انہوں نے کشمیر میں وہی کیا، جو استعماری طاقتیں ہمیشہ ایسے موقعوں پر کیا کرتی ہیں۔ اپنے وظیفہ خور کشمیری مُلّاوں کے ذریعے ریاستِ کشمیر میں شیعہ و سُنّی کی تیلی سُلگانی شروع کر دی۔ محلّاتی سازشیں شروع کی گئیں اور ۱۵۴۰ء میں منگول کمانڈر مرزا محمد حیدر دوغلات بیگ نے کشمیر پر پے در پے حملے کئے۔ کشمیر کے مقامی مذہبی جنونیوں نے میر جعفر اور میر صادق کا کردار ادا کرتے ہوئے کشمیر کو بڑے آرام سے گویا تھالی میں رکھ کر مرزا محمد حیدر دوغلات بیگ کی بارگاہ میں پیش کر دیا۔ حملہ آور کمانڈر کو کشمیر کے شکست خوردہ حکمران طبقے یعنی چک خاندان سے مسلسل کھٹکا تھا۔

اسی طرح جنہوں نے مرزا محمد حیدر دوغلات بیگ کو دعوت دی تھی، وہ بھی یہ جانتے تھے کہ اب اگر چک خاندان کو دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کا موقع ملا تو دشمن کے سہولتکاروں کے ساتھ وہی کیا جائے گا، جو غدّاروں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ چک خاندان کے شیعہ ہونے کا اور شیعہ کے کافر ہونے کا نعرہ لگا کر سرکاری سرپرستی میں ایسے مظالم ڈھائے گئے کہ قیامت مچا دی گئی۔ کشمیر میں انہوں نے اتنا ظلم کیا کہ شاید ہی دنیا کے کسی خطے میں آج تک اتنے وسیع پیمانے پر شیعہ کُشی کی گئی ہو، نیز شیعہ املاک اور اہل تشیع کی عزت و ناموس کو اس بے دردی سے پامال کیا گیا ہو۔ اب جو قتلِ عام شروع ہوا تو دیگر غیر سُنّی فرقے جیسے صوفیاء وغیرہ بھی اس کی لپیٹ میں آئے۔

جیسا کہ مغل کمانڈر مرزا حیدر دوغلات (کشمیر کے مذہبی جنونیوں کی دعوت پر کشمیر پر حملہ کرنے والا) اپنی کتاب ”تاریخ رشیدی “میں رقم طراز ہے کہ “کشمیر کے ان لوگوں میں سے جو اس کفر میں مبتلا تھے، بہت سوں کو میں بخوشی یا زبردستی سے صحیح عقیدے پر واپس لایا اور اکثر کو میں نے قتل کر دیا۔ کچھ نے تصوف میں پناہ لیو لیکن وہ صحیح صوفی نہیں، صرف نام کے صوفی ہیں۔” ۱۵۵۰ء میں مولوی قاضی ابراہیم اور قاضی عبدالغفور کی ایما پر مرزا حیدر دغلات نے اہلِ تشیع کا مکمل صفایا کرنے کی ٹھانی۔ اسی کی سرپرستی میں میر شمس الدین عراقی کی قبر کھود کر میت کو آگ لگا دی گئی، نیز میر دانیال و میر شمس الدین عراقی کے بیٹے سمیت سینکڑوں برجستہ شیعہ و صوفی شخصیات کو تہہ تیغ کیا گیا۔

مصدقہ تاریخی دستاویزات کے مطابق آج کے سنکیانگ اُس دور کے کاشغر اور خوتان کے منطقے میں اہل تشیع کو “غالچہ” یعنی غلام کہا جاتا تھا اور اُن کی خواتین کو کنیزوں اور لونڈیوں کے طور پر فروخت کیا جاتا تھا۔ یہ ظُلم و ستم اتنے بڑے پیمانے پر ہوا کہ دس سال کے بعد چک خاندان نے تنگ آمد بجنگ آمد کے مقولے کو سچ کر دکھایا اور بالآخر تاریخِ کشمیر میں مرزا حیدر دغلات کے خلاف اپنی کشمیری شجاعت کا لوہا منواتے ہوئے اُسے ایک مرتبہ پھر عبرتناک شکست دے کر کشمیر کو آزاد کروا لیا۔ مرزا حیدر دغلات چک خاندان کا سامنا نہ کرسکا اور ۱۵۵۱ء میں قتل ہوا۔ آج بھی اُس کی قبر سری نگر کے ایک معروف قبرستان گورستانِ شاہی میں موجود ہے۔ مرزا محمد حیدر نے بزورِ طاقت پہلی مرتبہ کشمیر پر۱۵۴۰ء سے ۱۵۵۱ء تک یعنی گیارہ سال حکومت کی۔ یہ تاریخ میں کشمیریوں کا پہلا دورِ غُلامی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply