• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • پاک بھارت ایٹمی جنگ کا خطرہ امریکی مداخلت سے ٹلا، پومپیو کا دعویٰ

پاک بھارت ایٹمی جنگ کا خطرہ امریکی مداخلت سے ٹلا، پومپیو کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکہ کے سابق سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے دعویٰ کیا ہے کہ 2019 میں پاکستان اور بھارت ایٹمی جنگ کے قریب آگئے تھے جسے امریکی مداخلت نے روکا تھا۔

عالمی خبر رساں ایجنسی اور بی بی سی کے مطابق امریکی سی آئی اے کے سربراہ کے طور پر طویل تجربہ رکھنے والے سابق سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے یہ دعویٰ اپنی کتاب ’ نیور گو این انچ‘ میں کیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 2019 میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ایٹمی جنگ کے قریب جا پہنچی تھی۔

مائیک پومپیو کے مطابق وہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ اس وقت ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی میں موجود تھے جہاں امریکی صدر کی شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ آن سے ملاقات طے تھی تو انہیں سوتے سے اٹھا کر بتایا گیا کہ ایک اعلیٰ بھارتی اہلکار کی جانب سے انتہائی اہم نوعیت کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستان نے جوہری حملے کی تیاری شروع کردی ہے جس کے جواب میں بھارت بھی کشیدگی بڑھانے پہ غور کر رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دور حکومت میں بطور سیکریٹری خارجہ فرائض سر انجام دینے والے مائیک پومپیو کے مطابق انہوں نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ صورتحال سلجھانے کے لیے ایک منٹ دیں اور آپ کچھ بھی نہ کریں۔

سابق سیکریٹری خارجہ کے مطابق اس شب امریکہ نے جو کچھ کیا وہ کوئی اور ملک نہیں کر سکتا تھا اور امریکی سفارت کاروں نے پاکستان و بھارت دونوں کو اس بات پر قائل کیا کہ کوئی بھی جوہری جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ فروری 2019 میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں 41 بھارتی فوجیوں کی ایک خودکش بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد بھارت نے پاکستان کی حدود میں فضائی حملہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا جب کہ پاکستان نے بھارت کا نہ صرف جنگی طیارہ مار گرایا تھا بلکہ اس کے ایک پائلٹ کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

مائیک پومپیوکے مطابق اس کے بعد انہوں نے اس وقت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ٹیلی فون پر بات کی تھی۔

  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

خبریں
مکالمہ پر لگنے والی خبریں دیگر زرائع سے لی جاتی ہیں اور مکمل غیرجانبداری سے شائع کی جاتی ہیں۔ کسی خبر کی غلطی کی نشاندہی فورا ایڈیٹر سے کیجئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply