298اے ترمیمی بل 2020ء، چند گزارشات/ثاقب اکبر

جیسا کہ احباب جانتے ہیں کہ راقم چند ہفتوں سے صاحب فراش ہے، علاج جاری ہے اور اب بھی پوری طرح صحت یاب نہیں ہو پایا۔ اس دوران میں جو احباب تشریف لائے، رابطہ کیا، دعائیں کیں، پوسٹیں لگائیں، انھیں اللہ کریم اجر عظیم عطا فرمائے۔ ان ایام میں بندہ یہی سوچتا رہا کہ کیسے کیسے خلوص اور محبت کی شمعیں اللہ نے اپنے اس ناچیز بندے کے لیے اپنے بندوں کے دلوں میں فروزاں کر رکھی ہیں۔ کریم و رحیم خدا کا جس قدر بھی شکر کیا جائے کم ہے۔ تمام مسالک کے جید علماء، مشائخ، دانشوروں، اساتذہ اور دیگر ساتھیوں نے رابطے کیے، بہت سوں کو اپنی تکلیف کی وجہ سے جواب نہ دے پایا، لیکن ان کے مہربان اور دھڑکتے دل کی صدا گویا میں نے اپنے کانوں سے سنی۔

اسی دور ان میں 298A کے ترمیمی بل کے حوالے سے بحث شروع ہوگئی، جو جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی عبد الاکبر چترالی نے قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ اس بل کے حوالے سے مختلف اجلاسوں اور سیمینارز میں سرسری بات ہوتی رہی، تاہم بل کا متن کبھی سامنے نہ آیا۔ جماعت اسلامی جو ملی یکجہتی کونسل کی بانی جماعتوں میں سے ایک موثر جماعت ہے، اس بل کے مندرجات کو کونسل کی تائید کے ساتھ پیش کرسکتی تھی۔ اسی طرح ہمارے پاس اسلامی نظریاتی کونسل کا آئینی فورم بھی موجود ہے، جسے تمام مسالک کی تائید حاصل ہے، وہاں اگر ایسی تجویز سامنے آتی تو اس پر زیادہ ٹھہراؤکے ساتھ بات ہوسکتی تھی اور بعد ازاں مخالفت کا سامنا کم سے کم ہوتا۔

یوں ملی یکجہتی کونسل نے جو دہائیوں تک اتحاد امت کے لیے کوششیں کی تھیں، وہ بھی معرض سوال اور معرض خطر میں نہ آتیں۔ دوسری طرف تکفیریوں کے ایک راہنماء نے یہ کہہ کر مسئلے کو اور بھی سنگین بنا دیا کہ “جماعت اسلامی کے ممبر نے جو بل پیش کیا، اس بل کو بنا کر انھیں دیا گیا اور ہماری جماعت کے ذمہ داروں نے دیا۔” ہم جانتے ہیں کہ قاضی حسین احمد مرحوم کی قیادت میں جب کونسل کا احیاء کیا گیا تو تکفیریوں کی رکنیت کے لیے شرط رکھی گئی کہ وہ تکفیریت ترک کریں۔ ان کے مثبت جواب نہ آنے کی وجہ سے آج تک وہ کونسل کے ممبر نہیں ہیں۔ اس پس منظر میں اگر ان کے راہنماء کی بات درست ہے تو یہ بات اور بھی سنگین ہو جاتی ہے، کیونکہ ان کی تو پیدائش کا مقصد ہی فروغ تکفیریت ہے۔ لہٰذا وہ دائیں سے داخل ہوں یا بائیں سے، اپنے مقصد تخلیق کے مطابق ہی کام کرتے ہیں۔

جہاں تک اہل بیتؑ، امہات المومنینؓ، صحابہ کرامؓ کے احترام اور ان کی حرمت کی حفاظت کا تعلق ہے، اس پر ہم دل و جان سے متفق ہیں۔ اس سلسلے میں سترہ نکاتی ضابط اخلاق پر جید علماء کے دستخط موجود ہیں۔ ایک عرصے سے ایک گروہ کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ اس سلسلے میں قانون سازی کی جائے۔ اس سلسلے میں پہلے سے قوانین موجود ہیں، جن کے تحت مقدمات درج ہوتے رہے ہیں، بہت سے لوگ جائز و ناجائز سزائیں بھگت رہے ہیں اور بہت سے خاندان مشکلات میں پڑے ہیں۔ ان قوانین کے غلط استعمال کا سلسلہ جاری ہے۔ ملی یکجہتی کونسل کے ایک اجلاس میں اہل حدیث کے ایک محترم نمائندہ نے بتایا کہ سب سے زیادہ توہین رسالت کے مقدمات اہل حدیث علماء و اواعظین پر ہوئے ہیں اور اس وقت پچاس مقدمات اہل حدیث پر چل رہے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ عدلیہ میں موجود بعض ذمہ داران تعصب اور خوف کی وجہ سے حق پر مبنی فیصلے نہیں کرتے۔ ایسے حالات میں مشاورت اور تمام جوانب کو مدنظر رکھے بغیر کی جانے والی قانون سازی ملکی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ مسئلہ احترام و عدم احترام کا نہیں، کیونکہ احترام پر ہمارا اتفاق ہے۔ یہ مسئلہ قانون سازی اور اس کے نفاذ سے متعلق ہے۔ اس کے متعلق بعض مزید جائز سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ ہماری رائے میں قومی اسمبلی میں پاس ہونے والے بل کو اس مقام پر روک کر وسیع مشاورت کا آغاز کرنا چاہیئے۔ ملی یکجہتی کونسل اپنے فورم پر جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل اپنے مقام پر اس موضوع بحث کرے اور اس قانون کے مندرجات اور عواقب پر بات کی جائے۔ اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو شر شیاطین اور ابلیسی دجل و فریب سے محفوظ رکھے اور اتحاد و اتفاق نصیب فرمائے۔ دوست و دشمن کی شناخت نصیب ہو، تاکہ دوست دشمن کی پہچان کے ساتھ اقدام کرسکیں۔

Advertisements
julia rana solicitors london

عالم اسلام عام طور اور پاکستان خاص طور پر پہلے ہی بہت مشکلات کا شکار ہے۔ پاکستان تو کئی حوالوں سے دشمنان اسلام کی نظروں میں کھٹکتا ہے۔ مذہبی حوالے سے تنفر اور شدت پسند اسے کمزور کرنے کا باعث ہے اور یہی دشمنوں کی آرزو ہے۔ افسوس مسائل پر سطحی نظر رکھنے والے قومی ترجیحات کو سمجھنے سے عاری ہیں۔ بہت سے مذہبی افراد نے نصیحت، تبلیغ، مجادلہ احسن، حکمت، حسن تدبیر، خیر خواہی، مثبت تاویل اور ایثار کا راستہ ترک کر رکھا ہے۔ ہر بات جس میں مثبت پہلو بھی تلاش کیے جاسکتے ہیں، وہ ان میں ہمیشہ منفی پہلو تلاش کرتے ہیں۔ ان کے مزاج اور فہم سے ہٹ کر بات کرنے والا سچا بھی ہو تو ان کی نظروں میں قابل گردن زدنی ہوتا ہے۔ ایک صحت مند معاشرہ ان رویوں کے ساتھ معرض وجود میں نہیں آسکتا، جبکہ تشدد اور انتقام کا طرز عمل معاشرے کو تباہ کر دیتا ہے۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ ہی سے بہتری اور بہترین راہنمائی کی توقع کی جاسکتی ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply