• صفحہ اول
  • /
  • اختصاریئے
  • /
  • قانون کی حکمرانی : خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ، جو سنا افسانہ تھا(دوسرا حصّہ)-محمد مشتاق

قانون کی حکمرانی : خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ، جو سنا افسانہ تھا(دوسرا حصّہ)-محمد مشتاق

امریکی دستوری نظام میں دستور کو ان ریاستوں کے درمیان طے شدہ معاہدہ مانا گیا ہے جنہوں نے مل کر ریاست ہائے متحدہ امریکہ  کے وفاق کی تشکیل کی اور اس نظام میں سپریم کورٹ کو اس معاہدے کے محافظ (Custodian of the Constitution)کی حیثیت دی گئی ہے۔ چنانچہ سپریم کورٹ نا صرف یہ کہ امریکہ  کے صدر کی جانب سے جاری کردہ کسی انتظامی حکم کو دستور سے تصادم کی بنیاد پر کالعدم قرار دے سکتی ہے، بلکہ کانگرس کے منظور کردہ کسی قانون کے ساتھ بھی یہی کچھ کرسکتی ہے۔ ایسی صورت میں قرار دیا جاتا ہے کہ انتظامیہ نے یہ انتظامی حکم جاری کرتے ہوئے، یا مقننہ نے یہ قانون وضع کرتے ہوئے دستور کی مقررکردہ “حدود سے تجاوز” (ultra vires) کیا ہے۔

پس امریکہ کا دستوری نظام میں مقننہ کی بالادستی کے بجائے “دستور کی بالادستی” کے اصول پر قائم ہے۔ کئی لوگ اسے قانون کی حکمرانی سمجھتے ہیں لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون کی نہیں بلکہ گنتی کے چند “ججز کی حکمرانی” (Rule of Judges) ہے!

پاکستان کا دستوری نظام کس اصول پر قائم ہے ؟
ظاہر ہے کہ ہم نے کچھ اصول برطانیہ کے دستور سے لیے ہیں ، کچھ امریکہ  کے دستور سے اور کچھ اسلامی دفعات کا بھی اضافہ کیا ہے۔ لیکن سوال تو برقرار ہے:

کیا یہاں پارلیمان بالادست ہے؟ دستور بالادست ہے؟ یا قرآن و سنت بالادست ہیں؟
بعض لوگ کہتے ہیں کہ پاکستانی دستور کی رو سے قرآن و سنت بالادست ہیں اور سپریم کورٹ نے کئی فیصلوں میں اس بات کو دستور کے بنیادی ڈھانچے میں شامل قرار دیا ہے۔ اس کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ “بنیادی ڈھانچے کا نظریہ “(Basic Structure Theory)ابھی محض نظریہ ہے اور سپریم کورٹ مسلسل اس میں کمی بیشی کرتی رہی ہے لیکن اگر اسے ایک مسلمہ اصول مانا بھی جائے تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہےکہ پاکستان میں قرآن و سنت اس لیے بالادست ہیں کہ دستور نے ایسا قرار دیا ہے، اور بہ الفاظِ دیگر، قرآن و سنت کی بالادستی دستوری شق کی محتاج ہے۔ تو کیا قرآن وسنت کو دستور پر بالادستی حاصل نہیں ہے!

Advertisements
julia rana solicitors london

جاری ہے

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply