مکالمہ ایک حسین وادی

مکالمہ" کی مثال اس حسین وادی کی طرح ہے جہاں بہت سے لوگ سیاحت کی غرض سے آتے ہیں۔ کچھ تو بس آئے گئے سے ہوتے ہیں اور کچھ اس وادی کی خوبصورتی میں کھو کر یہیں کے ہو رہتے ہیں۔ یہاں پختہ ذہن لوگ بھی ہیں اور شرارت کے پتلے بھی، یہاں درویش صفت بھی ہیں اور دیوانے بھی، کچھ عاشق بھی ہیں اور کچھ پروانے بھی۔ گر میں اپنی بات کروں تو جانیے ایک مقناطیسی قوت ہے اس محفل میں جو مجھے اپنی جانب کھینچتی رہتی ہے۔ کسی نے خوب کہا ہے:
عجیب کشمکش اضطراب ہے لیکن
یہ حوصلہ بھی نہیں کھل کر آہ کروں
بس ایک تجھ سے ملنا گناہ ٹھہرا ہے
ملوں نہ تجھ سے بھلا کیسے یہ گناہ کروں
اندھیری شب کا مسافر ہوں اور تنہا ہوں
چراغ لاؤ کہ تخلیق مہر و ماہ کروں
کبھی تو مجھ کو بھی اپنی زبان پر قدرت ہو
کہ عرض حال کروں اور بے پناہ کروں

مکالمہ فورم میری زندگی میں کتنا سرایت کر چکا ہے، اس کا اندازہ تو اب آپ کو بخوبی ہوگیا ہوگا۔ دراصل اپنے ارد گرد طرح طرح کے انداز میں کائیں کائیں کرتے دوست نما لوگوں نے میرے ذہن کو اس طرح جکڑ لیا تھا کہ مجھے یوں لگتا تھا کہ جیسے میں تہذیب اور علم سے عاری ایک ایسے صحراء میں پھنس گیا ہوں جہاں مجھے حالات سے سمجھوتا کرنا ہی ہوگا اور اسی صحراء کے رسم و رواج کو اپنا کر صحرائی بن کر جینا سیکھنا ہوگا۔

ایک دن اتفاق سے میرا "مکالمہ" پر جانا ہوا تو یوں محسوس ہوا کہ میں ایک نخلستان میں آگیا ہوں جہاں میری بچھڑی محبوبہ اردو زبان اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ موجود رہتی ہے۔ یہاں کے مکین نا صرف پڑھے لکھے ہیں بلکہ سمجھدار اور مہذب بھی ہیں۔ یہاں میں ایسا گم ہوا کہ کسی کو اپنا تعارف بھی نا کراسکا، مجھے سارے کچھ یوں اپنے لگے کہ اس کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔

میری دعا ہے کہ میری محبوبہ اردو زبان کے حسن میں یونہی اضافہ ہوتا رہے اور اس کے مسکن میں خوبصورتی کے چاند ہمیشہ جگمگاتے رہیں۔

Avatar
عمیر اقبال
حقیقت کا متلاشی، سیاحت میرا شوق، فوٹوگرافی میرا مشغلہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *