• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مشرف :احمدی ہو یا سُنی ،بریلوی،کیا فرق پڑتا ہے/لیاقت علی ایڈووکیٹ

مشرف :احمدی ہو یا سُنی ،بریلوی،کیا فرق پڑتا ہے/لیاقت علی ایڈووکیٹ

امریکہ میں مقیم عزیز دوست شہزاد ناصرفخریہ خود کو پنجابی قوم پرست کہلواتے اور بتاتے ہیں۔صاحب ِ علم ہیں۔پاکستان کے سیاسی اورسماجی امور پر گہری نظر رکھتے اور اپنے خیالات اور تجزیئے باقاعدگی سے فیس بک پر میرے جیسے طالب علموں کے لئے شیئر کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے اپنی ایک حالیہ پوسٹ میں نا  صرف جنرل پرویز مشرف اور ان کے والد کو احمدی قراردیاہے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر وہ جنرل ضیاءالحق کو بھی احمدی کہنے پر مُصر ہیں۔ پتہ نہیں وہ کیوں یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں اس کا جواب تو وہ خود ہی دے سکتے ہیں لیکن میرے خیال میں تو اس حوالے سے ایک ہی بات آتی ہے کہ وہ ان دونوں فوجی جنرلز سے ان کی آمریت کی بنا پر نفرت کرتے اور سمجھتے ہیں کہ احمدیوں کے خلاف ہمارے ہاں جو عمومی نفرت پائی جاتی ہے اس سے جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کواحمدی قرار دے کر استفادہ کیا جائے۔

انھیں اس حقیقت کا یقیناً ادراک ہوگا کہ قوم پرست کی اوّلین شرط سیکولر ہونا ہے۔ سیکولرازم مذہب کو فرد کاشخصی معاملہ قرار دیتا اور اس کی سیاسی اور ریاستی امور میں مداخلت کی مخالفت اور علیحدگی کی وکالت کرتا ہے۔ اسی لئےسیکولرازم کے بغیر قوم پرستی کا تصور محال ہے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص خود کو قوم پرست کہلائے اور اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل اور مخالفین کو مطعون کرنے کے لئے مذہب کو سیاسی وسماجی ہتھیار کے طور پر استعمال بھی کرے۔
شہزاد ناصر نے اپنی وال پر جنرل پرویز مشرف کو احمدی( انھوں نے قادیانی لکھا ہے جسے احمدی گالی سمجھتے ہیں۔ (احمدی یا قادیانی؟ اس مسئلے پر پاکستان ائیر فورس کے سابق چیف ایئرمارشل ظفر چوہدری اور ایڈیٹر روزنامہ جنگ ارشاد حقانی مرحوم کی خط وکتابت مطبوعہ روزنامہ جنگ میں سیر حاصل بحث ہوچکی ہے) قرار دیا ہے۔ جنرل پرویز مشرف احمدی ہے یا نہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے لیکن اس سے بہت فرق پڑا کہ اس نے ایک جمہوری حکومت کو برخاست کرکے ملک پر آمریت مسلط کردی تھی اور ملک پر گیارہ سال بغیر شرکت غیرے حکومت کی تھی اور ملک کے سیاسی ریاستی ڈھانچے کو تہس نہس کردیا تھا۔ وہ فوج کا جنرل تھا اور فوج کے بطور ادارہ مفادات کا نگران اور نگہبان تھا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ ہمیں آشکار کرتا ہے کہ ریاستی اور سیاسی مفادات کے سامنے مذہبی وابستگی اکثرو بیشتر ہیچ قرار پاتی ہے۔اہل حدیث وزیر اعلیٰ داتا دربار پر حاضری دیتا نظر آتا ہے بلکہ بعض ایسے برسر اقتدار آنے والے سیاست دان ہیں جو لا مذہب ہوتے ہوئے بھی مذہبی تقریبات میں پورے خشوع خضوع سے شریک نظر آتے ہیں۔

نواز شریف فیملی کا تعلق بریلوی مسلک سے ہے لیکن دیوبندیوں کی آماجگاہ تبلیغی جماعت کی دعائیہ تقریب میں پورے اہتمام  سے شریک ہوا کرتے تھے۔ یہ سب سیاست بچانے اور چلانے کے تقاضے ہیں جو ان سیاست دانوں جنرلز اور دوسرے اہل ِ اقتدار سے کراتے ہیں، اسی طرح جنرل یحییٰ  خان کا تعلق اہلِ  تشیع سے تھا یہ بھی کوئی ایسی بات نہیں جس کو ریفر کیا جائے ریفرنس تو یہ ہے کہ اس نے ملک پر مارشل لا ء نافذ کیا اور لاکھوں بنگالیوں کے قتل کاموجب بناتھا اور بنگلہ دیش میں فوجی ایکشن کرکے پاکستان کی دنیا میں بدنامی کا باعث بنا تھا۔

جنرل ایوب خان کے بارے میں تو کہا جاتا ہے کہ وہ پکا اہلِ  سنت والجماعت تھا لیکن اس کے عہد ِ اقتدار میں غلام احمد پرویز فوجی میسوں میں لیکچر دیا کرتا تھا۔تو کیا اس کی بنا پر اس کی آمریت کو معاف کردیا جائے یا اس کی تعریف کی جائے۔ یاد رکھنے اور بار بار دہرانے کی بات تو یہ ہے کہ اس نے پہلے فوجی حکمران کے طور پر ملک میں فوجی اقتدار کی بنیادیں استوار کی تھیں اور ملک کو کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیا تھا یہ جنرل ایوب،جنرل یحییٰ  خان،جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کی  کار گزاریاں ہیں جن کی بدولت ہم معاشی سیاسی اور سماجی تباہی کے گڑھے میں گرچکے ہیں۔

حکمرانوں کے لئے شخصی مذہبی عقائد نہیں، ان کے سیاسی مفادات اہم ہوتے ہیں۔ وہ اپنے فیصلے اپنے سیاسی مفادات کے تناظر میں کرتے ہیں نہ کہ مذہبی عقائد کی روشنی میں۔مذہبی عقائد کو وہ بطور ہتھیار تو استعمال ضرور کرتے ہیں لیکں فیصلہ سازی میں آخری اور حتمی حقیقت سیاسی مفادات ہوتے ہیں جن کو وہ پیش نظر رکھتے اور مذہبی عقائد کو پیچھےہٹادیتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

سیاسی تنقید کو مذہبی الزام تراشی سے آلودہ کرنے سے سماجی نفرت میں اضافہ تو ضرورہوتا ہے لیکن سیاسی وسماجی بیانئے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ہمیں اپنا ڈسکورس سیاسی سماجی ثقافتی اور معاشی امور تک محدود رکھنا چاہیے نہ کہ کسی کے بیڈ روم یا عبادت گاہ میں گھس کر اس کی ذاتی زندگی اور مذہبی خیالات کی ٹوہ لگا کر اس کو پبلک میں مطعون کریں۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply